Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام میں خود کشی کی ممانعت……………ڈاکٹرقاضی فضل الہی

Posted on
شیئر کریں:

خود کشی یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا ۔عربی زبان میں اس کیلئے لفظ انتحار اور انگریزی زبان میں suicideکا لفظ استعمال ہوتاہے پچھلے کچھ دنوں سے ملک میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف عمر کے لوگ مختلف اسباب کی بناء پر محتلف طریقوں سے موت کوگلے لگارہے ہیں ۔اس کے تدارک کے سلسلے میں علماء دانشور اور حکومتی ادارے متحرک ہوئے ہیں ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور اسلام کے نام پر حاصل کی ہوئی مملکت کے شہری ہیں اور جس مذہب کوہم مانتے ہیں وہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے بحیثیت مسلمان اگر ہم مذہب سے راہنمائی حاصل کر لیں تومیرے خیال میں خودکشی کی نوبت ہی نہیں آئے گی ۔ زندگی میں انسان کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انسان یہ سوچتا ہے کہ اس درپیش مسئلے کا کوئی حل نہیں یعنی انسانی ذہن میں بسا اوقات درپیش مسئلے کا کوئی حل نہیں آتا وہ دلبرداشتہ ہو کر جذباتی فیصلے کر لیتا ہے حالانکہ اس مسئلے کاحل موجود ہوتا ہے مشکلیں آسان کرنے والی ذات ہر وقت موجود ہے انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے کہ وہ اس مختصر زندگی میں خیر کی طرف راغب ہوتا ہے یا شرکی طرف؟ قرآن حکیم میں وارد ہے کہ’’ ہم تمہاری آزمائش کرتے رہیں گے کچھ خوف اور بھوک سے مال و جان اور پھلوں کے نقصان سے اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیئے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ
بے شک ہم اللہ کیلئے ہیں اور بیشک ہم اس کی طرف واپس ہونے والے ہیں(۴ : ۱۵۵)

اسلام اور فلسفہ حیات سے بے خبری کی وجہ سے معمولی باتوں پر مختلف طریقوں سے موت کی آغوش میں چلے جانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے خودکشی کرنے والا عواقب کا خیال نہیں رکھتا ۔ان کے اس عمل کے نتیجے میں ان کے والدین اور اہل و عیال اور بال بچوں پر کیا گزرتی ہوگی اقوام عالم کے سامنے حکومت وقت کی بدنامی علاوہ خودکشی کرنے والا اپنی اخروی زندگی بھی تباہ کردیتا ہے۔

احکام اسلام کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تویہ بات عیاں ہے کہ انسان اپنے جسم وجان کا مالک نہیں ہوتا، نہ دنیا میں آنے میں اس کی مرضی شامل تھی اور نہ اپنی مرضی سے اس دنیا سے جانے کا اختیار اسے حاصل ہے ۔ انسان اپنی مرضی سے اپنے سر میں ایک بال بھی نہیں لگا سکتا یہ جسم و جان رب کائنات کا دیا ہوا عطیہ ہے، اس کو ختم کرنے کا اختیار انسان کو حاصل نہیں ۔مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس چیز کا حکم رسول اکرم ﷺ دیدے اس کی اطاعت کرو اورجس چیز سے منع کرے اس سے باز آؤ ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس عمل سے ہمیں منع فرمایا ہے جہاں تک دوسرے مذاہب کا تعلق ہے بعض مذاہب میں خودکشی کو ایک عبادت سمجھی جاتی ہے ، مثلاً قدیم ہندی مذہبوں اور چاپانیوں میں خودکشی کے عمل کو مذہی اعتبار سے ایک مقدس عمل سمجھا جاتا تھا (Encyclopadea of Islam Vol: III,page: 1246)اس کے علاوہ ہمیں چند بڑے شخصیات کی خودکشی کے واقعات بھی ملتے ہیں مثلا یونان کا عظیم فلسفی سقراط جب اپنے شاگردوں کو سچائی ایماندار ی اور نیکی کا درس دینے لگا تو مخالفین نے اس پر بے دین اور دیوتاؤں کی مخالفت کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا اور انہیں اپنی پسندکی موت تجویز کرنے کوکہا گیا تو انہوں نے رحم کی اپیل نہیں کی بلکہ زہر کے پیالے کو اپنے موت کیلئے پسند کی ۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں جب ہٹلر کی فوجیں روس کے محاذ پر پسپا ہونا شروع ہوگئیں اور ہٹلر کو فتح کی کوئی امید نظرنہ آئی تو اس نے خودکشی کر لی ۔ ( شخصیات کا انسائیکلوپیڈیا صفحہ ۴۹۸)

قرآن حکیم میں قتل کی ممانعت سے متعلق مفصل احکام موجود ہیں مثلأ ارشاد باری تعالی ہے ’’ولاتقتلوا النفس التی حرم اللہ الابالحق ‘‘ ( جس جان کواللہ تعالی نے محفوظ کر رکھا ہے اسے قتل مت کر بغیر حق شرعی کے (انعا م :۱۵۵)

’’من قتل نفساً بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعا ‘‘(جو کوئی کسی کو کسی جان کے عوض کے یا زمین پر فساد کے عوض کے بغیر مار ڈالے تو گویا اس نے سارے لوگوں کو مارڈالا اور جس نے ایک کو بچایا تو گویا اس نے سارے لوگوں کو بچایا ۔(المائدہ : ۳۲ )

مفسرین جس آیت سے خود کشی کی حرمت سے متعلق احکام استنباط کرتے ہیں وہ آیت سورۃ النساء کی آیت نمبر ۲۹ ہے ارشاد بار تعالی سے ’’ولاتقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما ‘‘ (۴ : ۲۹ )( اور اپنی جانوں کو قتل مت کرو بیشک اللہ تعالی تمہارے حق میں بڑ ا رحیم ہے ) مولانا عبدالماجد دریا آبادی تفسیر مدارک کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’انفسکم ‘‘ سے مراد ایک تویہ ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ خودکشی نہ کرو ’’ولایقتل رجل نفسہ ‘‘( انسان اپنے آپ کو قتل نہ کرے )( تفسیر عبدالماجد دریاآبادی 9)مولانا مودودی صاحب نے بھی یہی مطلب اخذ کیا ہے ( تفہیم القرآن جلد اول صفحہ ۳۴۶) البتہ امیں احسن اصلاحی نے تدبر قرآن میں انفسکم سے مراد یہ لیا ہے کہ ایک دوسرے کوقتل نہ کرو۔ان کے خیال میں موقع و محل کے اعتبار سے یہاں خودکشی کامطلب نہیں لیاجا سکتا ( تدبرقرآن جلددوم صفحہ ۵۱)

جب احادیث کامطالعہ کرتے ہیں تو قزمان کی خودکشی کا واقعہ مختلف کتب احادیث میں ملتا ہے ۔ قزمان ایک شخص تھا یہ پتہ نہیں کہ وہ کس مقام کا باشندہ تھا جب رسول اکرمﷺ کے سامنے اس کا ذکر آتا تو آپ ﷺ فرماتے کہ وہ دوزخی ہے جنگ احد میں وہ نہایت شجاعت اور بہادری سے لڑا اس نومشترکوں کو تہہ تیغ کر دیا ایک زبردست بہادر آدمی تھا جب زخموں نے اسے بیکار اور تنگ کر دیا، تو لوگ اسے نبی ظفر کے مکان سے اٹھالائے، بعض مسلمان اسے کہنے لگے : قزمان آج تو تم نے خوب مردانگی دکھائی، تم کو بشارت دی گئی ہے۔ تو اس نے کہا ،کس چیز کی بشارت؟ بخدا میں تو اپنی قومی روایات شجاعت کو برقرار رکھنے کیلئے اس طرح بہادری سے لڑاہوں۔ اگریہ بات نہ ہوتی، تو میں جنگ میں شرکت ہی نہ کرتا ۔جب اس کے زخموں کی تکلیف زیادہ بڑھی، تو اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی نبضیں کاٹ لیں اس سے بدن کا تمام خون بہہ گیا اور وہ مرگیا، رسول اللہ ﷺکو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا میں اعلان کرتا ہوں کہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں ۔( تاریخ طبری جلد اول صفحہ ۲۴۶)اس واقعے کو امام بخاری نے بھی تفصیل سے بیان فرمایا ہے لیکن اس شخص کے نام کا ذکر نہیں کیا ۔ (صحیح البخاری جلدچہارم کتاب الجہاد باب ۱۸۳)

خودکشی کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اکبر الکبائر کہا گیا ہے حتی کہ بعض فقہاء نے یہاں تک کہا ہے کہ خودکشی کرنے والے کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی اورنہ اس کی توبہ قبول ہوگی اور وہ دوزخی ہوگا ۔اس رائے کے حامل فقہاء ،حدیث بابت قزمان سے استنباط کرتے ہیں دوسرا مندرجہ ذیل حدیث کو دلیل کے طور پرپیش کرتے ہیں بخاری اور مسلم میں یہ حدیث وارد ہے ’’من تردی من جبل فقتل نفسہ فھو فی النا رجہنم یتردّی فیہ خالداً مخلدا فیہا ابداً ومن تحسّی سمّا فقتل نفسہ قسمہ فی یدہ یتحّسّاہ فی نار جہنم خٰالداً مخلّداً فیہا ابداً ومن قتل نفسہ بحدیدہ فحدید تہ فی بدہ یجابہا فی بطنہ فی نار جہنم خالدً مخلداً فیہا ابدا‘‘(جو شخص پہاڑ سے گر کر اپنے آپ کو قتل کر دے گا وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور اس میں ہمیشہ گرایا جاتا رہے گا اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالاتو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں اس کو پیتا رہے گا اور ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا ، اور جس نے اپنے کو لوہے سے قتل کر ڈالاتو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اس سے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ میں اپنے آپ کومارتا رہے گا اور ہمیشہ اس کی یہی حالت رہے گی ۔( بخاری جلد سوم صفحہ ۲۹۹طبع محمد سعید اینڈ سنز ،کراچی )
خلو د فی النا یعنی دوزخ میں مستقل رہنا اور جنت حرام ہونا ایسی سزائیں ہیں جو اہل سنت کے نزدیک کفار کیلئے ہی مختص ہیں اسی بناء پر بعض فقہاوکا خیال ہے کہ خودکشی کرنے والا دین اسلام سے بھی خارج ہو جاتا ہے اس لیے جنازے کے غسل دینے اور نماز جنازہ ادا کرنے کے بھی مخالف ہیں لیکن مذاہب اربعہ میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ خودکشی کرنے والا دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جمہور فقہاء کی یہ رائے ہے کہ خودکشی کرنے والا دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا اس لیے خودکشی کرنے والے کو غسل دینا اور نماز جنازہ پڑھانا ضروری ہے اگر خودکشی کرنے والا شخص کچھ مدت کیلیے زندہ رہا اور اسی دوران توبہ کر لی تو اس کی توبہ قبول ہوگی ۔ یہ امام ابوحنیفہ ،مالکیہ اور شافعیہ کی رائے ہے اورہ اس حدیث مبارک سے استنباط کرتے ہیں ’’صلوامن قال لاالہ الاالہ ‘‘ جس نے بھی لالہ الااللہ پڑھ لیا اس کی نمازجنازہ پڑھ لیا کرو ۔

امام ابویوسف و امام اوزاعی اور دوسرے فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جس کسی نے اپنے آپ کو قتل کیا اس کا نمازہ جنازہ نہیں پڑھایاجائے گا وہ اس حدیث سے استنباط کرتے ہیں ایک شخص کو مردہ حالت میں آنحضرت ﷺ کے پاس لایا گیا جس نے تیز دھار چیزسے اپنا گلہ کاٹ لیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا یاتھا ۔( مسلم جلد اول صفحہ ۲۷۲)امام احمد بن حنبل کی رائے یہ ہے کہ صرف امام کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دوسرے لوگ نمازہ جنازہ ادا کر سکتے ہیں اگر امام نے بھی شرکت کی تو کوئی مضائقہ نہیں وہ اس حدیث سے اتنباط کرتے ہیں جس میں آنحضرت ﷺ نے خودکشی کرنے والے سے متعلق فرمایا تھا ’’اما انا لااصلی علیہ ‘‘(جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرتا )
فقہاء نے خودکشی کو دوسرے شخص کے قتل سے بھی زیادہ گناہ قرار دیا ہے شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اللہ تعالی ہمیں اس جرم شنیع کے ارتکاب سے محفوظ فرمائے لوگوں کو دین اسلامکی طرف راغب ہونے اور فلسفہ حیا کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)

وادی چترال میں کافی عرصے سے خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے وجوہات کے بارے میں کچھ لوگوں نے تحقیقی کا م کیا ہے،بلکہ منظرعام پر بھی لایا ہے۔میرے خیال میں وجوہات کچھ بھی ہوں، یہ جو سلسلہ شروع ہوا ہے،اس کو مذہبی تعلیمات سے ہی روکاجاسکتا ہے۔


شیئر کریں: