Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امن کا فاختہ…………… تحریر: نمبردار مفتی ثناء اللہ

Posted on
شیئر کریں:

کائنات کو امر کن سے وجود بخشنے والی ذات یکتا وحدہ لا شریک نے آسمان و زمین کی پیدائش بنی نوع انسان کو ایک مخصوص دورانئے میں بسانے کے لئے فرمائی. چشم فلک نے تاریخ بشر کے مختلف ادوار میں بے بہا نعمتوں کی بارش فرمائی ۔نسل آدم کی افزائش کے ساتھ ساتھ خدائی نعمتوں کی شکرگزاری پر مزید انعامات و نوازشوں سے ہر فرد و بشر کو مستفید فرمایا نیز بشری کمزوریوں پر جب سرکشی کے حدود سے تجاوز کیا گیا تو سرزنش بھی فرمائی۔ چنانچہ خالق کائنات کے بے شمار انعامات میں سے کچھ انعامات ایسے ہیں جن کی ضرورت ہر دور میں محسوس کی گئی اور ان انعامات کو دوام بخشنے کے لئے اپنے مقدس ترین بندگان کو رشد و ہدایت کے لئے منتخب فرمایا جن کو انبیاء کرام کے مقدس نام سے موسوم فرمایا۔ان انعامات میں سے اہم ترین نعمت خداوندی قیام امن بھی ہے چنانچہ ابراہیم خلیل اللہ نے دست سوال دراز فرمایا تو یوں گویا ہوئے “اے اللہ ! اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا دیجئے اور ان کی معیشت درست فرما دیجئے”۔ دعائے ابراہیمی کا فلسفہ ہی قیام امن تھا ۔ جب زمین سے امن کا فاختہ اڑ جائے تو فساد فی الارض کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے چنانچہ اللہ کریم نے کتاب ہدایت میں زمین میں فساد مت پھیلاؤ کا حکم دیکر درس امن دیا اور ہر نبی نے امن کو اپنا مشن بنا کر ایمان باللہ کی دعوت کو اپنی امت کے سامنے رکھا جنہوں نے عمل کیا دنیا و آخرت میں سرخرو فرمایا جنہوں نے امن کو برباد کر کے فساد پھیلایا ان کو صفحہ ہستی سے ملیامیٹ کیا اور دونوں جہانوں میں ناکامی کا سامنا کیایہی سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے ۔بد قسمتی سے بعض نادان انسان ہر دور میں فساد فی الارض کے مرتکب ٹھہرے تو خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی نا قدری کی وجہ سے صفحہ دہرسے فسادیوں کا نام و نشا ن مٹ گیا دوسری طرف صراط مستقیم پر گامزن راہ اعتدال پر چل کر امن کو پہلی ترجیح دی ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیابی و کامرانی کے بلندیوں پر سرفراز فرمایا۔ چنانچہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عرصہ دراز سے گلگت بلتستان کے باشندے فساد در فساد، بد امنی در بد امنی کا شکار رہے ہیں ، کچھ شیطانی چیلوں نے بام جہاں گلگت بلتستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کیا تو نفرتوں کا لاوا پھٹا ، نہ بازار محفوظ رہے ، نہ عبادت گاہیں محفوظ رہیں ، امن کا فاختہ پرواز کر کے ہماری دھرتی سے روٹھ چکا تھا ہر طرف افراتفری تھی، کیا پڑھا لکھا، کیا ان پڑھ ہر کوئی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکا تھا ، جان بلب مریضوں کی علاج گاہیں ، شفا خانے بھی فرقوں کے نام پر بانٹے گئے ، بھائی بھائی کا دشمن بنا دیا گیا، مساجد اور امام بارگاہوں پر تالے لگائے گئے ، قوم کو فرقوں اور قومیتوں میں بانٹا گیا ، انسانی زندگی کے روشن چراغ گل کر دئے گئے ، امن کے دیئے بجھا دئے گئے، ماؤں کے سہارے چھین لئے گئے ، بہنوں کے سہاگ اجاڑ دئے گئے، نعشوں کی سیاست کی روش چل پڑی ۔ الغرض حسن کی دیوی جنت نظیر وادیوں کو بے گناہوں کے خون ناحق سے رنگین کیا گیا ، ہر چہرے سے رونق ختم ہو گئی ، ایک مایوسی کی کیفیت پورے ماحول کو لپیٹ چکی تھی ۔ ایسے حالات میں اللہ کریم نے کرم یہ کیا کہ اچانک سب کچھ بدل گیا، فضا بدبودار تھی، امن کی خوشبو سے یک دم معطر ہوئی ، چہروں پر اداسی تھی، مایوسیاں ختم ہوئیں ، امن قائم ہوا ، گلگت بلتستان کے علماء کرام ، صحافی برادری ، وکلاء برادری،سیاسی قائدین اور مذہبی پیشوا سب سمجھ گئے کہ ہمیں کوئی تو لڑا رہا ہے اپنے مذموم مقاصد کے لئے۔چنانچہ افواج پاکستان اور موجودہ ن لیگ کی حکومت کی کاوشوں سے امن کا فاختہ اڑان بھر کر دوبارہ گلگت بلتستان کا رخ کیا یوں مختصر عرصے میں گلگت بلتستان کے نمکین چائے پینے والے میٹھے لوگ ایک پر امن ماحول کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔سی پیک بنا، ویلکم کیایقیناًاس امن کا کریڈٹ گلگت بلتستان کے علماء کرام ، نمبرداران گلگت بلتستان، ائمہ مساجد، مقدس پیشہ صحافت سے وابستہ صحافی برادری م تمام سیاسی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران ، مذہبی و مسلکی پیشواؤں اور موجودہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو جاتا ہے انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی پہلا جو ترجیحی بنیاد پر جو کام رکھا وہ قیام امن رہا ، گلگت بلتستان کے باسیومبارک ہو تمہیں اس مثالی امن قائم کرنے پر یقیناًاب گلگت بلتستان پورے پاکستان میں سو فیصدپر امن ایریا ڈیکلیرہوا ہے ۔ اب ترقی کی طرف گامزن گلگت بلتستان کا راستہ کوئی نہیں روکے گا کیونکہ اب بیرونی دشمن ہمیں فرقوں میں اور قومیتوں میں نہیں بانٹ سکتا ۔اب اس قوم کے پاس شعور آچکا ہے پر امن رہنے کا ، آگے بڑھنے کا ، ترقی کرنے کا ۔ پاکستان کا ایک کونہ کراچی تھا وہاں بھی حالات نا گفتہ بہ تھے اب وہ بھی پر امن ہو چکا ہے ، دوسرا سرا چین کے بارڈر پر جا کر ختم ہوتا تھا اب یہاں بھی امن قائم ہو چکا ہے اب سی پیک کا گیٹ وے گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ ترقی کے دشمن ہمیشہ کے لئے ناکام ہو چکے ہیں اب اس قوم نے آگے بڑھنا ہے کیونکہ اب امن کا فاختہ گلگت بلتستان میں بسیر ا کر چکا ہے۔
پاکستان زندہ باد
گلگت بلتستان پائندہ باد۔


شیئر کریں: