Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چھترارئیو………ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو……….اختر ایوب طیب

Posted on
شیئر کریں:

چترال ٹائمز میں ایک خبر نظر سے گزری کہ لواری ٹنل انتظامیہ چترالی باشندوں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے۔ شام سات بجے سے صبح نو بجے تک ٹنل کو بند رکھا جاتا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے۔ یہ خبر عوامی حلقوں کی طرف سے لگائی گئی ہے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ ٹنل انتظامیہ کو چاہیے کہ کام جلد از جلد مکمل کرے تاکہ چوبیس گھنٹے عوام وہاں سے کسی قدغن کے بغیر گزر سکے۔ لیکن خبر کا جو پہلو میرے لیے دلچسپی کا باعث ہے اور جس نے مجھے یہ سطور لکھنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے کہ مسافروں کو کئی گھنٹے ٹنل میں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔گاڑیاں پشاور یا پنڈی سے رات کو نکلتی ہیں تو صبح پانچ بجے تک ٹنل پہنچ جاتی ہیں تو بچے بوڑھے اور خواتین بھی ہوتے ہیں جن کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ

انتہائی معذرت کے ساتھ مجھے کہنا پڑے گا کہ ہم چترالی خود ترحمی اور خود ترسی کی عبرت ناک مثال بن چکے ہیں۔ جو کام ہمارے اپنے کرنے کے ہوتے ہیں اس کے لیے بھی ہم دوسروں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم لوگوں کو خود دعوت دیتے ہیں کہ آؤ بھائی ہم بیوقوف بننے کے لئے تیار ہیں۔ اب یہ پشاور سے شام کو نکلنے والی بات ہے تو بھائی کیوں نکلتے ہو شام کو جب کہ اچھی طرح معلوم ہے کہ راستہ صبح نو بجے تک بند ہے۔ کیا ہم مل کر یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ شام کو گاڑیاں بھیجنے والے اڈوں کا بائیکاٹ کیا جائے جب ہم جائیں گے نہیں تو اڈے خود بخود اپنی ٹائمنگ تبدیل کریں گے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود ان ناہنجار اڈوں کو ہمیں بیوقوف بنانے کا موقع دیا ہے اس معاملے میں ہماری صورتحال بعینہ اس آدمی کی طرح ہے جو گدھے کو اپنا گندم کھاتے ہوا دیکھتا رہا اور ہماری جیسی لاچاری کا اظہار کرتے ہوئے صرف اتنا کہ سکا کہ” ہائے گوردوغ مہ بریکو ہوش کوری مہ ژو ژیبوسان”۔

بچپن سے میں دیکھتا آرہا ہوں کہ ان اڈوں میں مسافروں کے ساتھ کتنا ذلت آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ ٹکٹ دیتے وقت ان کا رویہ گالوں سا نرم اور لہجہ شہد سے بھی شیریں ہوتا ہے لیکن جب اڈے میں پہنچو تو وہی خوش اخلاق آدمی چنگیز خان کا چھوٹا بھائی لگنے لگتا ہے۔ اور چنگیز خان کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ دشمنوں پر اس کا خوف اتنا زیادہ طاری تھا کہ اس کا کوئی آدمی کسی کو مارنا چاہتا تھا تو اس کو کہتا تھا تم ادھر ہی کھڑے ہوجاؤ میں گھر سے تلوار لیکر آتا ہوں اور وہ بیچارہ ادھر سے نہیں ہل سکتا تھا۔ ہماری صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ ہم ہر مشکل کو چاہے اس کو حل کرنا کتنا ہی آسان کیوں نہ ہو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور کسی غیبی مدد کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں حالانکہ قرآن کا فرمان ہے کہ انسان کو اس کی کوشش کے بقدر ملتا ہے۔ لیکن ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور مقدر سے شکوہ کناں ہیں۔

عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے۔ اقبال رح

اب وقت آگیا ہے کہ جو کام ہم خود کر سکتے ہیں ان کے حل کے لئے دوسرے سہاروں کی تلاش چھوڑ دیں اور مجھے یقین ہے ہمارے بہت سارے مسائل ایسے ہیں جن کو ہم خود ہی حل کرسکتے ہیں۔ ہم آج ہی فیصلہ کر لیں کہ ان اڈوں کا بائیکاٹ کریں گے بیشک ہمیں کئی گاڑیاں تبدیل کرنی پڑے ہم شام کے اڈوں سے نہیں جائیں گے۔ پھر دیکھتے ہیں کہ ان اڈوں کا وقت تبدیل کرنے کے لیے کسی حکومت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جس دن سے ہم میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ حکومت دراصل ہماری ہے اسی دن ہمارے سارے مسائل حل ہونگے.

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے


شیئر کریں: