Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا میں غیرقانونی سٹون کرشنگ روکنےاور ماحولیاتی آلودگی کے سد باب کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کا اجلاس

Posted on
شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا میں غیرقانونی سٹون کرشنگ روکنے اور اسکے نتیجے میں پھیلتی ماحولیاتی آلودگی اور امراض کے سدباب کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں غیرقانونی سٹون کرشنگ کے خلاف اقدامات کا مفصل جائزہ لیا گیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد علی بنگش کے زیر صدارت اجلاس میں چیف انڈسٹریز قیصر عالم سمیت محکمہ معدنی ترقی،ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ،تحفظ ماحولیات ایجنسی کے حکام اور بونیر میں ماربل انڈسٹری کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روسے خیبر پختونخوا میں غیرقانونی سٹون کرشنگ کے انسداد کے لیے تمام متعلقہ محکمے بھرپور طریقے سے مصروف عمل ہیں۔محکمہ لیبر کی جانب سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیاجلد ہی آسان رسائی نمبر کااجراء کیا جائے گا جس پر کان کنی اور سٹون کرشنگ کے کام سے وابستہ مزدور اپنے کام کے حوالے سے درپیش حالات اور مسائل کے بارے میں شکایات کا اندراج کرسکیں گے۔ اس شعبے سے وابستہ مزدوروں کی حالت زار کی بہتری اور انھیں کام کے لیے ساز گار ماحول کی فراہمی کے لیے امور پر کام کیا جارہا ہے محکمہ لیبر کی جانب سے اس بارے قانون سازی بھی کی جارہی ہے جسکی روسے تمام پلانٹس مالکان کو مزدوروں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے ہونگے۔محکمہ معدنیات کی جانب سے صوبے میں کان کنی سے وابستہ مزدوروں کے اعدادوشمار و کوائف جمع کرنے کے حوالے سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا،اجلاس میں بتا یا گیا کہ اب تک محکمہ معدنیا ت پانچ ہزار سے زائد مزدوروں کے کوائف جمع کرچکا ہے جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں موجود مزید مزدوروں کے اعدادوشمار کے حوالے سے بھی کام عنقریب مکمل کرلیا جائیگا۔ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کمیٹی کو بتا یا گیا کہ انڈسٹریز اور محکمہ معدنیات کے ساتھ وابستہ ریٹائرڈ ملازمین کے اعدادوشمار بھی جمع کیے جارہے ہیں جس میں ابتک 50ہزار ملازمین کے کوائف جمع کیے جاچکے ہیں۔کمیٹی اجلاس میں سٹون کرشنگ کے نتیجے میں پھیلنے والے امراض کے سدباب کے یے محکمہ صحت کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا،اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں اس ضمن میں وارڈز مختص کیے گئے ہیں،سٹون کرشنگ سے ہونیوالے گردوغبار کئی سانس اور پھپھڑوں اور جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے،خاص طور سلیکوسس نامی مرض جو کینسر کی قسم ہے اسی گردوغبار سے لاحق ہوتا ہے۔ٹیچنگ ہسپتالوں کے مخصوص میں سیلیکوسس کے مفت علاج کا انتظام کیا گیا۔محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے سیکرٹری قیصر عالم کا کہنا تھا اس ضمن میں عوامی آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔سٹون کرشنگ کے حوالے سے موجود قانون کے تحت شہری علاقوں میں آبادی سے 5سو میٹر جبکہ دیہی علاقوں میں 300میٹر کے فاصلے پر سٹون کرشنگ کی اجازت ہے تاہم اسکی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف حکام سرگرم ہیں۔اجلا س میں بتایا گیاکہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے صوبے میں 212کرشنگ پلانٹس کے خلاف کارروائی کی ہے جن میں سے 127پلانٹس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے مجموعی طور پر38لاکھ روپے جرمانے بھی عائد کیے جاچکے ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر پلانٹس کو ختم کردیا گیا ہے۔اجلاس میں بونیر کے ماربل انڈسٹری سے وابستہ نمائندگان کو ہدایت کی گئی کے ماربل انڈسٹریز سے آلودہ پانی کی صاف پانی کے چشموں اور دریا میں آمیزش کو روکا جائے اس سلسلے میں کمشنر بونیر کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔


شیئر کریں: