Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

’’مغربی آزادی اور اسلامی معاشرہ‘‘ ……….محمد عنصرعثمانی، کراچی

Posted on
شیئر کریں:

اہمیت کی بات کی جائے تواس وقت آزادی ایک ایسا موضوع نظر آتا ہے ،جوہر معاشرے ،ہر ملک میں میں زیر بحث ہے۔مغربی معاشرہ کے زیر اثر آزادی کا جنوں بڑھتا جا رہا ہے ۔حرکت کے رقص کی لے میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔مغربی معاشرے جیسی آزادی کے اس جن نے سب ہی کچھ دھندلا کر رکھ دیا ہے۔مغربی معاشرے میں جس آزادی کا دور دورہ ہے ،وہ مذہبی ، جنسی آزادی ہے ۔اس معاشرے سے اٹھنے والے آزادی کے اس طوفان نے ایسی دھول اڑائی ہے ،کہ مسلمان بے محابااس آزادی کا جنون کی حد تک عاشق ہو گیا ۔بندھنوں کی عظمت کو نظر انداز کر دیا ۔جہاں خاندانی ریلیشن ، اور فیملی تعلقات میں خوش فہمیوں کے بیج بونے تھے ،وہاں اپنی شخصیت کے نوکیلے کونوں سے اختلاف کرنے لگا۔

مغربی معاشرے کے مفکروں نے کہا تھا ’’انسان ایک مجلسی جانور ،اور اپنی فطرت میں مجلسی ہے ۔تو ظاہر ہے کہ وہ میل جو ل کا محتاج ہوگا ۔تعلقات کارسیا ہوگا ۔رشتوں کی رسی میں بندھا ہوگا ۔اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرے نے ایک مفروضہ یہ بھی چھوڑا کہ انسان کے لیے کلی آزادی اتنی ہی ضروری ہے ،جتنی کہ وہ تعلقات بنانے میں اور بندھنوں میں بندھنے کے لیے آزاد ہے۔اس مفروضے کا بنیادی مقصد خوبیوں کو ختم کرنا ،علم کی لاحاصل راہوں کو ہموار کرنا ،طلب علم میں حد بندیوں کو توڑنا ، تحقیق میں سادگی کے پرودوں کو تار تار کرنا ،خلوص اور سچائی سے پرے اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھنا ،ہیومن سوسائٹی کے بنیادی ’’سیل ‘‘ میں آزادی کے جرثومے شامل کرنا ، اور مسلمانوں کے اوصاف جمیلہ کو وہموں ، کمزوریوں اور ناپسندیدگیوں کی نظر کرنا تھا ۔اور اس میں مغرب مکمل کامیاب ہو چکا ہے ۔

جو لوگ شادی کو جنسی تعلق سمجھتے ہیں وہ بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔دراصل اسلامی معاشرے میں شادی کو ایک درس گاہ سمجھا جاتا ہے ۔جہاں افراد ایک دوسرے کے ساتھی بن کر جینا سیکھتے ہیں۔ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔ایک دوسرے کی طبیعتوں میں ڈھل جاتے ہیں۔اختلاف رائے کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں ۔رواداری سیکھتے ہیں۔خوش رہنا سیکھتے ہیں۔ پھر جب بچے ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے ایثار وقربانی پیدا کرنا سیکھتے ہیں ۔اس کے برعکس مغربی معاشرے نے آزادی کو اتنا فروغ دیا کہ شادی ’’عظیم درس گاہ ‘‘ سے ’’ محبت کا رشتہ ‘‘ میں بدل گئی ۔نتیجہ خاندانوں ،فیملیوں کی اہمیت قائم نہ رہی ،اورپھر قانون نے طلاق آسان کردی۔مغربی معاشرے کے طوفانوں نے ہمیں ایسا جکڑا کہ ’’ہم ‘ ‘ جو اس دنیا میں ، اس روئے زمین پر سب سے ’’اہم ‘‘ تھے،اس کی ہواؤوں نے ہماری اہمیت کو طبعاََ اکھاڑ پھینکا۔ مرد جس پر پریپریشن (Preparation ) کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،نے متحرک ہونا چھوڑ دیا ۔عورت نے بے خوف نقاب اتار پھینکا ۔بچوں نے فاصلے مٹا کر پسند نا پسند کے دلیرانہ فیصلے کرنے کا اختیار اپنے پاس کر لیا ۔ اسلامی معاشرہ جسے ساری دنیا کے سامنے ایک ائڈیل اور مثالی معاشرے کی بنیاد سمجھا جاتا تھا ،اورمغربی معاشرے کی درستی بھی اسی اسلامی معاشرے کی مرہون منت سمجھی جاتی تھی،اسی معاشرے کے پررونق محلوں کو مسمار کردیا گیا ،اور مسلمان ’’ اہم ‘‘ سے ’’غیر اہم‘‘کی زنجیروں میں قید ہو کر رہ گئے ۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج کئی اسلامک اسٹیٹس بھی جنسی بے راہ روی کو قانونی تحفظ دینے کے درپے ہیں۔اور ہم جنس پرستی کو بنیادی انسانی آزادی کا نام دینے ،اور اس کے لیے کی جانی والی کوششوں میں ہم آواز بنی ہوئی ہیں ۔یہ بات جانتے ہوئے کہ مغربی معاشرے نے ایک کریش تہذیب سے نمو پائی ہے۔اس کے طیارے میں صرف ایکسلیٹر ہے ،بریک نہیں ہے۔اور اس کے لیڈنگ کے پہیے جام ہو چکے ہیں ۔سب جانتے ہیں کہ اس کا خوف ناک حادثہ ہونے والا ہے ، لیکن کوئی ماننے کو تیا ر ہی نہیں ، نہ کوئی سنتا ہے۔عرب میں اسلام کا آنا ایک بہت بڑا واقعہ تھا ۔قرآن کا نزول اور رویہ حیرت انگیز تھا ۔قرآن نے عقل و خرد ،علم و حکمت کو بلند مرتبہ عطا کیا ،قرآن کے پیغام اور آپ ﷺ کے کردار سے صحرا نشین عرب ساری دنیا کے لیے رہنما بن گئے ۔وہ ہر طبقہ میں ترقی کے زینے چڑھتے گئے ۔اور نصف صدی کے اندر ہی علم وعمل کے ان متوالوں نے آدھی دنیا کو اپنا اسیر و مسخر کر دیا تھا ۔اسلام ان کا مذہب ہے جو مطاہرہ فطرت پر غور غوض کرتے ہیں ۔جو اپنی تہذیب پر فخر کرتے ہیں ۔جو اپنے اہم ہونے کی حاکمیت کو دائم رکھتے ہیں ۔

اسلام کی آزادی بے محابا نہیں ہے۔اس میں توازن ہے ۔بندھن ہیں ۔حدود ہیں ۔اہمیت و غوروفکر کی دعوت ہے ۔اسی طرح حقوق کی آزادی کے بندھن سے متعلق اسلام میں 193 احکامات ہیں ۔ہم مغرب کے لئے اتنے اہم تھے کہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی سائنس و فلکیات کی کتابیں یورپی درس گاہوں میں چار سو سال تک پڑھائی جاتی رہیں ۔کیوں کہ مغرب یہ بات جانتا تھا کہ علم کا سب سے معتبر و مستند ذریعہ اسلام اور قرآن ہے۔ہم جب اپنی تہذیب و معاشرے میں اہم تھے ،اور اپنے تاریخی ورثے کو اپنایا ہوا تھا ،تب ہم نے بہت سی ایجادات کر ڈالیں ۔مثلاََ: تھرما میٹر ، اصطرلاب ، پنڈولم والی گھڑی ، قطب نما ، لیکن اب ہم نے اپنے اہم ہونے کو نمائشی طور پر سجا رکھاہے۔ ہمیں اپنااسلامی معاشرہ،اور اسلامی تہذیب نظر ہی نہیں آتی ، مگر مغربی تہذیب کو ہم سات پردوں سے بھی نکال لاتے ہیں ۔


شیئر کریں: