Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی اسمبلی کی نشست ختم کرنے کے خلاف ضلع کونسل میں قرار داد منظور،ڈی سی اور ڈی پی او کی خطاب

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں ارندو اور دروش میں مختلف پھاٹکوں کی وجہ سے عوام کو درپیش تکالیف میں اضافے اور ان میں سوختنی لکڑی کی گاڑیوں پر پابندی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پھاٹک کی تعداد میں کمی لانے اور عوام کے لئے آسانی پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔ اورضلع کونسل نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ختم کئے جانے والے چترال کی صوبائی نشست کی بحالی کیلئے متفقہ قرارداد منظور کرلی ۔جمعرات کے روز کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت ضلع کونسل کے اجلاس میں مختلف مقامات پر پھاٹک کا مسئلہ اٹھایا گیا جس میں اراکین کونسل مولانا انعام الحق ، مولانا عبدالرحمن، شیر محمدارندو، مفتی محمود الحسن، مولانا جمشید احمد اور دوسروں نے حصہ لیتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی کے لئے پھاٹک کی مخالفت ہم نہیں کرتے ہیں مگر غیر ضروری پھاٹک بند کئے جانے چاہئیں اور سوختنی لکڑی کی گاڑیوں کو روکنا بھی بلاجواز ہے۔ انہوں نے کالاش وادیوں میں تبلیغی جماعت کے داخلے پرپابندی کو بھی بلاجواز قرار دیا۔ اس موقع پر مولانا جمشید نے ایم پی اے سلیم خان کی طرف سے سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ میں تقرریوں کے حوالے سے بے جا مداخلت کا سلسلہ ختم کرنے اور میرٹ پر بھرتی کا بھی مطالبہ کیا جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں کئی عشروں سے قائم لیپروسی سنٹر کی بندش اور ضلعے میں 350مریضوں کی محرومی پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے اس کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایوان میں موجود ڈپٹی کمشنر ارشاد سودھر نے ایوان کو یقین دلایا کہ چند دنوں کے اندر پھاٹک کی تعداد اور دوسرے امور کے بارے میں آسانی پیدا ہوگی جبکہ سوختنی لکڑی کی چیکنگ کے لئے گاڑیوں کو روکے جارہے ہیں کیونکہ اس آڑ میں عمارتی لکڑی کی سمگلنگ ہوتی ہے جس سے ماحول کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے اراکین کونسل پر زور دیا کہ صفائی کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں۔ ڈٖی پی او چترال نے اپنے خطاب میں ضلعے میں منشیات کی روک تھام اور ٹریفک کے نظام کو صحیح خطوط پر استوار کرکے حادثات کی تعداد میں کمی لانے کے حوالے سے کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بھی مختلف مقامات پر پھاٹک کی تعداد میں کمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ یہ بہت جلد وقوع پذیر ہوگا لیکن اس بارے میں کوئی ڈیڈلائن نہیں دی جاسکتی۔ گزشتہ دنوں ایم پی اے سلیم خان کی طرف سے ایک بیان پر پیدا شدہ صورت حال پر جائنٹ انکوائری ٹیم کے سفارشات پر عملدرامد کے سلسلے میں ڈی پی او نے کہاکہ ایم پی اے سلیم خان مختلف مصروفیات کی وجہ سے ایک عرصے کے بعد چترال آئے ہیں اور وہ بہت جلد کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر کمیٹی کی سفارش کے مطابق تمام تقاضے پورے کریں گے۔ اس سے قبل ضلع چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کی کمی پر ہاؤس نے ایک متفقہ قرارداد پاس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اس نشست کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ صوبائی اسمبلی کی نشست میں کمی کے حوالے سے اراکین کونسل محمد حسین، مولانا جمشید، یعقوب خان، مولانا جاوید حسین، مفتی محمود الحسن، رحمت الٰہی، شیر عزیز بیگ، رحمت ولی، غلام مصطفی ایڈوکیٹ، مولانا عبدالرحمن ، کالاش اقلیتی ممبران عمران کبیراور نبیک ایڈوکیٹ نے تجویز پیش کردی کہ ضلع کونسل اس بارے میں قانونی چارہ جوئی ضلع کونسل کرے اور ضرورت پڑنے پر اس سلسلے میں جملہ اخراجات اے ڈی پی سے کٹوتی کرکے ادا کیا جائے۔ انہوں نے نشست کی بحالی کے سلسلے میں کئے گئے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ چترال کی سیاسی قیادت اس معاملے میں ایک صفحے پر ہیں اورنشست کی عدم بحالی کی صورت میں الیکشن 2018ء سے مکمل طور پر بائیکاٹ پر متفق ہیں۔ اپنے خطاب میں ضلع ناظم مغفرت شاہ نے صوبائی اسمبلی کی نشست کی بحالی نہ ہونے کہ صورت میں چترال میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہونے کے خدشے کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ضلعی حکومت کی کوششوں کا ذکر کیااور کہاکہ ہم اس سلسلے میں کسی بھی حد تک جانے کو تیارہیں۔ ضلع ناظم نے کہاکہ چترال کے عوام انتہائی محب وطن، امن پسند اور فرض شناس ہیں اور یہاں پر مثالی امن وامان ان ہی کی دم سے ہے جوکہ اس سلسلے میں نہایت مخلص ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں ان امن پسند لوگوں کے منتخب نمائندے بیٹھے ہیں جوکہ نہایت مثبت رویہ اور اپروچ رکھتے ہیں اور حالات کو خرابی کی طرف جانے ہی نہیں دیتے۔انہوں نے کہاکہ بے جا پابندیوں سے عوا م میں بد اعتمادی پیدا ہونا فطری امر ہے اور ان لوگوں کی اعتماد کو نہ توڑا جائے جوکہ یہاں امن وامان کاسب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ سلیم خان کے بارے میں جائنٹ انکوائری ٹیم کے حوالے سے کہاکہ ہم کسی کی عزت شکنی ہر گزنہیں چاہتے اور ہم کمیٹی کی سفارشات کے مطابق آگے جانا چاہتے ہیں اور یہ وہ کمیٹی ہے جس نے بہت ہی قابل قدر کردار ادا کرکے امن وامان کو خرابی کی طرف جانے سے بچایاتھا جس میں ڈی پی او چترال کا بھی بہت ہی اہم کردار تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنے ضلعے میں متعین تمام افسران کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیں ان کی صلاحیتوں پر یقین ہے اورہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ مثبت رویہ ہی اپنائے رکھیں گے اور عوام کے مسائل میں کمی لانے کے بارے میں ہی سوچ لیں گے۔ اجلاس بعدازاں غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی۔
district council chitral ijlas 2

district council chitral ijlas 1

district council chitral ijlas 6

district council chitral ijlas 3


شیئر کریں: