Chitral Times

Jun 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ناکام ٹیسٹنگ سروس ……………فرہاد خان گرم چشمہ

    March 12, 2018 at 9:33 pm

    سوال یہ ہے کہ پورے پاکستان میں ریکروٹمنٹ کے حوالے سےمشہور و معروف پرائیوٹ ادارہ این۔ٹی۔ایس۔ کیوں ہاتھ سے نکلا جارہا ، گزشتہ کالم میں اس کی چند کارستانیوں پر قلم اُٹھایا تھا اب پھر سے اس معاملے نے سر اُٹھایا ہے ۔ ہُوا کچھ یوں کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی خیبر پختونخواہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے خالی اسامیوں کے لئے صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ چترال سے بھی ہزارون امیدواروں نے مختلف اسامیوں پر ٹیسٹ دینے گئے تین مارچ کو ٹیسٹ کے تقریبا دو تین گھنٹے بعد بذریعہ موبائل یہ پیغام بھیجا گیا کہ دیئے گئے ٹیسٹ منسوخ کئے گئے ہیں دوبارہ ٹیسٹ کے لئے نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائیگا ۔ اس اطلاع سے ہزاروں امیدواروں کو انتہائی مایوسی اور کوفت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ جن حالات میں خاص کر چترال کے امیدوار ٹیسٹ سنٹر پہنچتے ہیں سب کو بخوبی علم ہے، کے ۔پی۔کے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھی چترال کے ناسازگار حالات سے بخوبی واقف ہے مگر ابھی تک اس واقعے کا نوٹس نہیں لیا گیا۔باخبر زرائع کے مطابق اُس دن ضلع کرک میں پیپر آوٹ ہُوا تھا جس کی سزا صوبے کے دیگر اضلاع کے امیدواروں کو بھی دی گئی ۔
    دوسرا سوال یہ ہے کہ چترال کے دوردراز علاقوں سے انتہائی خطرناک موسم میں کئی گھنٹون سفر کے بعد ٹیسٹ سنٹر چترال پہنچے والے امیدوارون کی بےبسی کا زمہ دار کون ہے ، ادارے کے معزز زمہ داران کو یہ کوں بتائے کہ کئی گھنٹون کی پرخطر سفر ، طویل مسافت کی وجہ سے دو دن پہلے چترال ٹاون پہنچ کر بحالت مجبوری ہوٹل میں قیام اور دیگر اخراجات کی زمہ داری کون لے گا ؟؟ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے۔ پی۔ کے یا این۔ ٹی۔ایس۔ ؟؟؟؟ ۔ کیا این۔ٹی۔ایس اتنا بے بس ہوچکا کہ ٹیسٹ پیپرز اتنی اسانی سے آوٹ ہورہے ہیں ،شفافیت کے دعوے دار ادارے سے کوئی یہ تو پوچھنے کی زحمت کرے کہ آخر ایسا کیا معاملہ ہے کہ اس کے اپنے حساس معاملات ہاتھ سے نکلتے جارہے اور پیپر اوٹ ہونے تک انہیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔ کیا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ این۔ٹی،ایس کے زمہ داران کو یہ بتانے کی زحمت کی ہے کہ چترال کی مخصوص جعرافییائی محل وقوع کی وجہ سے ٹیسٹ کے لئے انے والوں پر جو کچھ گزرتی ہے ، ان کے باوجود اگر کسی دوسرے ضلعے میں پیپر اوٹ ہوجاتاہے تو چترال کے امیدواروں کو اس جرم کی سزا کیوں دی جارہی ۔ جس ٹیسٹ سنٹر سے پیپر آوٹ ہوچکا وہان ہونے والے پیپر منسوخ کئے جاتے تاکہ دیگر اضلاع کے امیدواروں کو مفت میں خوار نہ ہونا پڑتا وہ انتہا کی زہینی تکلیف سے بچ جاتے۔
    سوال یہ بھی کہ این۔ٹی۔ایس۔ اپنی اتنی بڑی ناکامی کا بوجھ امیدواروں پر ڈال کر بری الزمہ کیوں ہے ، اس ناکامی اور انتہائی مجرمانہ غفلت پر ہزاروں غریب بےروزگار امیدواروں کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے کیونکہ ایک طرف اس ادارے کی ایک وقت کی ٹیسٹنگ فیس کروڑون روپے بنتی ہے تو دوسری طرف اپنی غفلت اور انتہا کی لاپرواہی کا بدلہ بھی ان امیدوارون سے لیا جارہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی اور حد درجے کی ظلم ہے ۔ خیبر پختونخواہ کی تبدیلی کے دعویدار حکومت سے گزارش ہے کہ اس معاملے کی مکمل انکوائری کی جائے ، متعلقہ ادارے سے اس سلسلے میں بازپرس کی جائے اور زمہ دار ادارے کو یہ حکم دیا جائے کہ متاثرہ تمام امیدوارون کو ان کے اخراجات کی ادائیگی کی جائےتاکہ اس طرح کی لاپرواہی ائندہ پھر کبھی نہ ہو ۔ ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا اب این۔ٹی۔ایس۔ کو مکمل شفاف و معتبر ادارہ تصور کیا جائے گا ؟؟؟ کیونکہ اگر ایک ضلعے میں پیپر اتنی اسانی سے اوٹ ہوجاتا ہے تو دوسرے ضلعوں میں اس طرح کے واقعات کے نہ ہونے کی گارنٹی کیا ہے ۔کیا این۔ٹی۔ایس۔ اپنے امتحانی نگرانوں کو کُھلی چُھوٹ دی ہے کہ وہ جو بھی کریں جیسا بھی کریں ان کی مرضی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلقات والے ، اثررسوخ والے اور اقربہ پروری کرنے والے اس این۔ٹی۔ایس۔کے پردے کے پیچھے بہت کچھ کر جاتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شفافیت کا دعویدار یہ این۔ٹی۔ایس۔ بھی صرف اور صرف نظرون کا دھوکہ ہے اور کچھ بھی نہیں کیونکہ یہاں بھی تعلقات والے ،رسوخ والے اور پیسے والے یہاں بھی انتہائی پُھرتی سے ہاتھ صاف کرجاتے ہیں ، اس لحاظ سے اسے اخر کیا کہا جائے ؟؟؟ نیشنل ٹیسٹنگ سروس یا ناکام ٹیسٹنگ سروس ؟؟کیونکہ حالیہ واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مذکورہ ادارہ بھی ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہے ۔
    صوبائی حکومت کو چاہئے کہ ایک دفعہ پھر انکھیں کھول کر این۔ٹی۔ایس۔ کی کارکردگی کا جائزہ لےاس کی کرڈیبیلٹی کو جانچے اور کی شفافیت کی گارنٹی لے ۔ تاکہ غریب و بے روزگار اُمیدوارون کے ساتھ ایسا ظلم پھر کبھی نہ ہو۔

  • error: Content is protected !!