Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • انوکھا چور، انوکھی چوری ، مگر چترال پولیس کے ہتھے چڑھ گئے، پولیس کو خراج تحسین

    March 10, 2018 at 10:47 pm

    چترال ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) “ضرورت ایجادکی ماں ہے”والی کہانی چترال شہر کے نواحی گاؤں شالی میں چند چوروں کو سوجھی جنہوں نے اپنے ہمسائے کی مویشی خانہ سے گائے کو ہانک کر لے جانا اور فروخت کرنا شائد مشکل سمجھا اور اسے مالک کے مویشی خانے میں ہی ذبح کرکے اس کے گوشت اور کھال کو بازار پہنچاکر نقدی آپس میں بانٹ لی۔ایس ایچ او چترال منیر الملک کے مطابق اپنی نوعیت کی اس انوکھی واردات میں شالی سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان ممتاز حسین ولد محمد حسین ، مجیب اللہ ولد حبیب اللہ ، عبد الرحد ولد گلزارنے گزشتہ رات گاؤں ہی کے سیف الرحمن ولد فیض الرحمن کے مویشی خانے میں جاکر سندھی نسل کی گائے کو آرام سے ذبح کیا ، کھال اتارا اور گوشت صاف کرکے لے گئے ۔ صبح جب اس کی رپورٹ تھانے میں کردی گئی تو تفتیش شروع کردی گئی اور چند گھنٹوں کے اندر ملزمان کی گرفتاری عمل میں لاکر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعات 457/380/34پرچہ چاک کردیا گیا۔ چورکہیں نہ کہیں اپنی نشانی ضرور چھوڑدیتا ہے اور یہ مقولہ ان چوروں پر صادق آئی جنہوں نے جس غواگئے (موٹر کار) میں اس گائے کی گوشت اور کھال کو لوڈ کرکے بازار لایا تھا، اس کی عقبی خانے سے خون کے دھبے مکمل طورپر صاف نہیں کیا تھا، تفتیش اہل کاروں نے جب شک کی بنیاد پر سین لشٹ اور شالی کی گاڑیوں کا معائنہ شروع کیا تو ایک گاڑی میں خون کے کچھ دھبے نظر آئے جس پر ڈرائیور سے تفتیش کرنے پر چوروں کے بارے میں سب کچھ اگل دیا اور یوں تمام چور قانون کے شکنجے میں آگئے ۔ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد ابتدائی تفتیش کے دوران گائے کی کھال برآمد کرنے کے ساتھ ملزمان نے جرم کا اعتراف کئے ہیں۔

    دریں اثنا مختلف مکاتب فکر نے چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے چترال پولیس کی فوری کاروائی کو سراہا اور پولیس کی پھرتی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو داد دی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح چوروں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی گئی تو ممکن ہے کہ ان وارداتوں کو قلع قمع کرنے میں مدد ملے گی ۔ اور آئندہ چور واردات کرنے سے پہلے ضرور سوچنے پر مجبور ہونگے۔

  • error: Content is protected !!