Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال جنگ بازار کی حالت زار کا فوری نوٹس لیا جائے۔.. وقاض احمد ایڈوکیٹ

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے معروف قانون دان وقاص احمد خان ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے ژانگ بازار میں واقع ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے عوام کو انتہائی مایوسی کا سامنا ہے اور یہ سب کچھ پی ٹی آئی حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہسپتال کے وارڈوں میں ایک چار پائی پر تین تین بچوں کو رکھے جاتے ہیں جس سے نہ صرف تیمارداروں کو مشکل کا سامنا ہوتا ہے بلکہ اس سے مرض ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے کا بھی حدشہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پوری ہسپتال میں مریضوں کے لئے صرف ایک نیبولائزر ماسک موجود ہے جس کی قیمت صرف تین سو روپے ہے اور یہ بھی امراض کو ایک دوسرے میں منتقل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں جو دستیاب ادویات اور کنولا ہیں و ہ بھی غیر معیاری اور ناقص ہیں ۔ جن کا بالائی حکام کو نوٹس لینی چاہیے۔
wiqas ahmad advocate press confrence Chitral 1
وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہاکہ ہسپتال میں تمام پرائیویٹ رومز کو ہسپتال کے اسٹاف ذاتی استعمال میں لارہے ہیں اور یہ بھی ایک کرپشن ہے جس کی انکوائری کے لئے نیب اور انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے درخواست کی ہے کیونکہ ہسپتال کے کمروں کو ذاتی رہائش کے لئے استعمال کرنا کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔

 

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ  ڈپٹی کمشنر کا دفتر اور رہائش گاہ ہسپتال سے چند قدم کے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجود وہ ہسپتال کی اس بدتریں بدانتظامی سے بے خبر ہیں یا شاید وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو پروٹوکول ہسپتال کا عملہ خود انہیں دیتا ہے ، وہ عوام کو بھی دستیاب ہیں۔ انہوں نے ہسپتال کے نرس اسٹاف کے روئیے کو بھی مریضوں اور ا ن کے تیمارداروں کے ساتھ ہتک امیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ یونیفارم پہننے سے بھی احتراز کررہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت بھی نہیں ہوسکتی ہے۔

 

 

وقاص احمد نے مذید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے منشور میں ہیلتھ اولین ترجیح تھی مگر پانچ سالوں کے اندر چترال ضلع کے پانچ لاکھ آبادی کے واحد ہسپتال میں ایک باتھ روم تک تعمیر نہیں ہوئی۔ ضلعے کی واحد ہسپتال میں آئی سپیشلسٹ اور کارڈیالوجسٹ موجود نہیں ۔ اور پانچ لاکھ آبادی کیلئے صرف ایک سرجیکل سپشسلٹ سے کام لیا جارہاہے ۔ جنگ بازار ہسپتال کے ساتھ بلڈ بینک کی کوئی سہولت موجود نہیں ۔ جبکہ روزانہ ڈیلویری کیسز میں خون کی ضرورت پڑتی ہے ۔ وقاص احمد نے یہ بھی دعوی کیا کہ محکمہ ہیلتھ میں بہت سے گوسٹ ملازمین ہیں ان کو منظر عام پر لایا جائے۔ جو عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لے رہے ہیں۔

 

 

انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری، وسیکریٹری ہیلتھ سے بھی اس ہسپتال میں بدانتظامیوں کا سخت نوٹس لے کر انکوائری کا مطالبہ کیا.جہاں مفت ادویات بھی غریب مریضوں کو دستیاب نہیں۔ بعدازاں صحافیوں کی ایک ٹیم نے جب ہسپتال کا وزٹ کیا تو ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر نے ہسپتال میں صرف ایک نیبولائزر کی دستیابی اور پرائیویٹ رومز کی پرائیویٹ استعمال کی تصدیق کی۔

women and children hospital chitral 3 women and children hospital chitral 2 women and children hospital chitral 1

women and children hospital chitral 44


شیئر کریں: