- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

یوم خواتین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میر سیما آمان

8مارچ یوم خواتین کے موقع پر خصوصی تحریر
ٌ ۸ مارچ کو پوری د نیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن الیکٹرا نک اور پرنٹ میڈیا عموما خواتین پر ڈھائے گئے ظلم د کھاتی ہے۔دوسری طرف ا نسانی حقوق کے علمبردار ہزاروں کارکناں پورے ملک کے سڑکوں پر حقوق نسواں کے بورڈ اُ ٹھائے نظر آتے ہیں۔یہ سلسلہ گز شتہ کئی برسوں سے چل رہا ہے۔اور ہر نیا سال گزشتہ سال سے زیادہ ظلم بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے۔میں جب ہر سال حقوق نسواں کے نام پر بننے والے اِن تماشوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے سخت حیرت ہوتی ہے کہ ا تنا چیخنے چلانے کے باوجود معاملہ آج بھی جوں کاتوں کیوں ہے؟؟؟؟ا تنے ڈرامے ا تنی فلمیں حتیٰ کے ’’ مظلومیت پر آسکر ایوارڈ کے بعد بھی سندھ کی ماروی آج بھی پسند کی شادی پر ’’کاری‘‘ ہو رہی ہے۔دیہی علا قوں میں سوارہ۔ونی۔ قرآن سے شادی جیسے جا ہلانہ ر سومات آج بھی قائم ہیں ۔تیزاب گردی ہو یا ذیادتی کے گھٹیا کیسز آج بھی ہو رہے ہیں۔یہ سب ایک طرف اب تو اس ملک میں ۳ سے ۷ سال کے بچیاں بھی ابنِ ادم کے ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بارے میں کیا کہتی ہیں۔؟؟سچ تو یہ ہے کہ ماروی،عاصمہ یا ذینب جیسی کیسز پر ڈرامے بننے سے میڈیا چینلز کو ا یوارڈ تو مل سکتے ہیں۔مگر حقیقی مظلوم کرداروں کو ا نصاف نہیں۔حقوق نسواں کے بینرز اُٹھائے مارچ کرنے والوں کے جھو ٹے اور میک اپ ذدہ چہروں پر چند لمحوں کے لیے ما ڈرن ازم کا جھوٹا لیبل لگ سکتا ہے۔ngo”s کے ریکارڈ میں چند فائلوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔تصویری جھلکیاں نو ٹس بورڈ میں چسپاں کرنے سے انکو ملنے والے ڈونیشن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔۔مگر 90 کی د ہائی میں تھر میں مرنے والیاں ’’ آج ‘‘ بھی بھوک سے مر رہی ہیں۔یہ تمام تنظیمیں ملکر بھی صرف تھر کی بھوک ختم نہیں کر سکتیں تو ’’ظلم‘‘ پر کیا خاک بندھ باندھیں گی۔یہ کمزور ترین ہاتھ صرف اور صرف بینرز اُٹھا سکتے ہیں۔یہ ہا تھ محض تالیاں بجا سکتی ہیں۔یہ ہاتھ ڈونیشن ا کھٹا کر سکتی ہیں۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ حقوق نسواں کے نام پر چلنے والے یہ کارواں ظلم کبھی نہیں روک سکتے ہیں۔ا لبتہ پروان ضرور چڑھا سکتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ دنیا کی کوئی عدالت کوئی تنظیم ،انسانی حقوق کا کوئی بھی ادارہ عورت کو اُسکا حق نہیں دے سکتی جب تک کہ عورت خود اپنی مقام کا تعین نہ کرے۔بحرحال بحثیت چترالی ہم بر ملا یہ کہہ سکتے ہیں کہ چترالی عورت اس لحاذ سے خوش نصیب ہے کہ اُسے اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں۔چترال میں عورت کو جو عزت و مقام حاصل ہے وہ اس ملک کے بالعموم اور kpk کے با لخصوص دوسرے کسی بھی علاقے کی خواتین کو شائد ہی حاصل ہو۔اب تو مو جودہ انتظامیہ نے جنگلات کی رائلٹی میں خواتین کو حق دے کر یہ بات اور بھی ذیادہ ثابت کر دیا ہے۔دوسری طرف خواتین ٹریڈ سنٹر کے قیام سے بھی ازادیِ نسواں کے تصور کو بہت ذیادہ تقویت مل رہی ہے۔ ٹریڈ سنٹر کا قیام جہاں خواتین کے لیے خوش آئند ہے وہیں اس سے بہت سے خدشات بھی وابستہ ہیں۔اِسی وجہ سے بہت سے لوگ اس سنٹر کی اُسی طرح مخالفت کر ر ہے ہیں جسطرح وہ خواتین کی ملازمت خواتین کا شاپنگ سنٹرز میں اور تفریحی مقامات میں آنے وغیرہ وغیرہ کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔یہاں پر ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا محض مخالفت کرتے رہنے سے ہی مسائل حل ہونگے۔یا مُخالفت کرنے والے مسائل کے حل کے لئے کوئی مثبت راہ بھی نکالنے کا کبھی سوچیں گے؟؟؟بحر حال آج خواتین ڈے کے مو قع پر میں اپنے علاقے کے ذمہ دار عمائدین سے چند سوالات کرنا چا ہوں گی۔ چترال میں ملازمت پیشہ خواتین کے لئے اج تک کسی بھی ادارے میں خواتین سٹاف کے لئے ’’الگ آفس‘‘ کا قیام کیوں نہیں کیا جاتا ؟؟؟یہا ں کے تفریحی مُقامات بلخصوص (جغور اور ڈسی پارک) میں خواتین اور بچوں کے لئے ’’الگ ٹائمنگ‘‘ کیوں نہیں رکھا جاتا ہے؟؟؟وہ تمام مارکیٹ ایریاز خاص طور پر مولدہ بازار جو خواتین کے خریداری کا مرکز بنی ہوئی ہیں اج تک یہاں پر کوئی سیکو رٹی گارڈ کیوں نہیں رکھا جا رہا ہے جو یہاں ہونے والے کسی بھی قسم کی منفی رجحانات کو کنٹرول کرتا اور اب جب خواتین ٹریڈ سنٹر کا قیام ہو ہی رہا ہے تو کیا انتظامیہ یہاں پر ایسے انتظاما ت کرے گی جو اس سنٹر کو کسی بھی طرح کے نا زیبا الزامات سے بچا سکے۔۔؟؟؟ چترال صوبے کا واحد ضلع ہے جہاں خواتین میں خودکشی کا رجحان روز بہ روز بڑھ رہا ہے ۔ چھ مہینے کے اندرصرف اپر چترال میں درجن سے زیادہ خواتین نے اپنی زندگیوں کا چراغ گل کردیا۔جوکہ سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ مگر کسی حکومتی اداروں یا غیر سرکاری تنظیموں نے اس کی طرف توجہ دینے کی ابھی تک زحمت گوار انہیں کی ۔ اور سب سے بڑی بات چترال کی وہ بیٹیاں جنہیں علاقے سے باہر شادی کے نام پر ذندہ درگور کیا جاتا رہا۔کہیں بچیوں کو قتل کیا گیا،ذندہ جلا دیا گیا۔اکثریت کی لاشیں بوریوں میں بند کر کے واپس چترال بھیجی جاتی رہی ہیں۔۔۔میرا اپنے علاقے کے ناظم ، MNA,MPAتمام سیاسی اور غیر سیاسی قائدین اور انسانی حقوق کے نام پر موجود اداروں سے یہ سوال ہے کہ ان تمام لوگوں میں سے کسی ایک بھی شخصیت نے کبھی بھی کسی ایک ایسے خاندان کو انصاف دلانے کی کوشش کی؟؟؟؟قابل افسوس سچ یہی ہے کہ ان تمام لوگو ں نے انصاف دلانا تو دور کی بات ہے ان واقعات کی مذمت کرنے کی بھی کبھی ذحمت نہیں کی۔جب بھی ایسا واقعہ ہوا اُلٹا مظلوم والدین کو ہی طنز و طعنوں سے نواز کر معاملے کو رفع دفع کیا جاتا رہا ہے۔۔کیوں؟؟؟؟ْ؟؟ آج یوم خواتین پر میں خود کو یہ لکھنے سے روک نہیں سکتی کہ کیا وجہ ہے کہ ’’بیٹی‘‘ کی پئدا ئش پر سوگ نہ منانے والا ہمارا قابل ِ فخر چترال ،کہیں سالوں سے ’’بیٹیوں کے بہیمانہ قتل ‘‘‘ پر اسقدر خاموش کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔