Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گزشتہ چار برس کے دوران صوبے میں جنگلات پر مبنی رقبے میں6.3فیصد اضافہ ہوا ہے۔۔رپورٹ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )خیبر پختونخوا کے محکمہ ماحولیات و جنگلات کی چار سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق محکمے نے نہ صرف صوبے میں جنگلات کے تحفظ کے لیے خصوصی توجہ سے کام کیا ہے بلکہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکنے اور ٹمبر مافیا کو لگام ڈالنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس کی بدولت جنگلات کی بقا خطرے میں ڈالنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی وہیں ان سے بھاری جرمانے وصول کرکے حکومتی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس میں ٹمبر کی درآمد ی ڈیوٹی کی چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسکی بدولت روزمرہ استعمال اور تعمیراتی کام کے لیے مقامی جنگلات سے لکڑی کی کٹائی کے بجائے درآمدی لکڑی کو استعمال میں لایا جائے گا، جس سے درختوں کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ رکے گا ۔ سیکرٹری محکمہ ماحولیات وجنگلات نذر حسین شاہ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران 8لاکھ مکعب فٹ لکڑی کو اسی مقصد کے پیش نظر درآمد کیا گیاہے جس سے مقامی جنگلات میں درختوں کی کٹائی کو کنٹرول کیا گیا۔علاوہ ازیں محکمے نے ٹمبر مافیا کے خلاف سخت اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔کارکردگی رپورٹ کے مطابق چار سال کی مدت میں لکڑی کی غیر قانونی نقل وحمل کے لیے استعمال ہونے والی ایک ہزار874گاڑیوں کو قبضے میں لے گیا جبکہ 7کروڑ 21لاکھ47ہزار( 72.147ملین) روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔اسی طرح اس عرصے کے دوران 30کروڑ روپے مالیت کی ایک لاکھ64ہزار 363مکعب فٹ لکڑی جسے غیر قانونی کاٹا گیا تھا،قبضے میں لی گئی۔ اسکے ساتھ ساتھ مختلف تنازعات کے13ہزار 244زیر التواء مقدمات کو بھی نمٹایا گیا جس سے23کروڑ87لاکھ روپے سے زائد وصول کرکے صوبائی خزانے میں جمع کرائے گئے جبکہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث 731افراد کو گرفتار کرایا گیا۔ گزشتہ چار سال کے دورانیے میں ایک لاکھ41ہزار 305کنال اراضی بھی قبضے سے واگزار کرائی گئی ہے جسکی مالیت تقریباً 50ارب روپے بنتی ہے۔چار سالہ مدت میں محکمے نے 1ارب45کروڑ 53لاکھ55ہزار (1455.355ملین) روپے کی آمدن کی جبکہ 1ارب87کروڑ67لاکھ62ہزار (1876.762ملین) روپے فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی مد میں وصول ہوئے۔سیکرٹری محکمہ ماحولیات و جنگلات نذر حسین شاہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں جنگلات کی بقا اور وسعت کے لیے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ یقیناً ایک اہم ترین کاوش ہے ۔اس منصوبے کو آئی یو سی این(IUCN)،ڈبلیو ڈبلیو ایف(WWF)،اے پی اے پی(APAP) اور سی او پی21(COP21) جیسے بین الاقوامی اداروں سے پذیرائی حاصل ہے۔ اس قابل قد ر منصوبے کی بدولت خیبر پختونخوادنیا کے45ممالک میں کامیابی سے ابھر کر سامنے آیا ہے جس نے جنگلات کے لیے بون چیلنج کو کامیابی سے پورا کیا ہے۔ اسکے علاوہ بلین ٹری منصوبے کی بدولت خیبر پختونخوا ان چار ممالک کی فہرست میں شامل ہوا ہے جس نے مقررہ ہدف قبل از وقت پورا کیا۔ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری ماحولیا و جنگلات کے مطابق بلین ٹری منصوبے کے باعث نہ صرف صوبے میں جنگلات کی بقا اور درختوں میں اضافہ ہوا جس سے ماحول کو تحفظ ملے گا بلکہ 5لاکھ افراد کو بلواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔


شیئر کریں: