Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حافظ حفیظ الرحمن نے SAPاساتذہ کی محرومیوں کو دور کرکے تعلیم دوست ہونے کا ثبوت دیا۔۔غلام اکبر

شیئر کریں:

گلگت( چترال ٹائمز رپورٹ)SAPٹیچرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کا صدر غلام اکبر نے ضلع گلگت کے اساتذہ کے وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ1994 ؁ء سے اب تک حکومتیں بنی اور چلی گئیں لیکن کوئی ایک بھی ایسی شخصیت نہیں ملی جو مظلوم اساتذہ کو ان کا جائز حق دینے کی جرأت کرسکے۔اسکی بنیادی وجہSAP سکول اساتذہ اور طلباء و طالبات کا تعلق غریب و پسماندہ علاقوں سے ہونا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ ہر کوئی اس اہم تعلیمی مسلے کے حل کو ناممکن سمجھتے تھے حقائق پر پردہ ڈال کر ان سکولوں کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کے ساتھ ظلم روا رکھ کر جائز حق سے محروم رکھا گیا۔

 

گلگت بلتستان کے756سکولوں میں58000طلباء و طالبات ہیں جن میں75%طالبات ہیں کو 1464 SAPاساتذہ زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔اساتذہ میں80%خواتین ہیں۔دو عشروں میں کسی نے بھی اس اہم تعلیمی مسلے پر توجہ نہیں دی۔ لیکن حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے دو سالہ دور اقتدار میں ہی SAPاساتذہ اور غریب طلباء و طالبات کی محرومیوں کو دور فرما کر غریب پرورتعلیم دوست اور عظیم لیڈر ہونے کا ثبوت دیا۔

 

وزیر اعلیٰ، چیف سیکریٹری، وزیر تعلیم ، دیگر تمام وزراء و ارکان اسمبلی فنان سیکریٹری اور سیکریٹری تعلیم کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے آج 1464مظلوم اساتذہ کی مستقلی کی دیرینہ مسلہ مکمل طور پر حل ہوا ہے۔اس عظیم تاریخی تعلیمی کارنامے پر تمام اساتذہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور ٹیم، چیف سیکریٹری اور پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔


شیئر کریں: