Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عوامی مینڈیٹ کی توہین…………….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ٓآئندہ چھ سال کے لئے ایوان بالا کے 52ارکان کے انتخاب کا مرحلہ بخیر و خوبی مکمل ہوگیا۔ ملکی سطح پر مسلم لیگ ن33نشستوں کے ساتھ سینٹ میں اکثریتی پارٹی بن گئی۔ پیپلز پارٹی سینٹ میں دوسری اور تحریک انصاف تیسری اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آگئیں۔ خیبر پختونخوا کے حصے میں آنے والی سینٹ کی گیارہ نشستوں میں سے پاکستان تحریک انصاف کو پانچ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو دو دو نشستیں ملیں ۔جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے حصے میں ایک ایک نشست آگئی۔ خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر اورتحریک انصاف کی خاتون رہنما ڈاکٹر مہرتاج روغانی اور پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد کامیاب قرار پائیں۔ٹیکنوکریٹ کی ایک نشست اعظم سواتی کے ذریعے تحریک انصاف اور دوسری مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار دلاور خان کے حصے میں آئی۔ سات جنرل نشستوں میں سے تین پر تحریک انصاف کے فیصل جاوید، محمد ایوب اور فدا محمدکامیاب ہوئے۔ ایک جنرل نشست مسلم لیگ ن کے پیر صابر شاہ، ایک جماعت اسلامی کے مشتاق احمد اور ایک نشست جمعیت علمائے اسلام کے طلحہ محمود نے حاصل کی۔ قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی سینٹ میں ایک نشست بھی حاصل نہ کرسکیں جبکہ دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنما مولانا سمیع الحق اور جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب بھی شکست کھا گئے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ منتخب ہونے والے تمام سینٹرز اور ان کی پارٹیوں کے قائدین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہارس ٹریڈنگ کی کوشش ناکام بنادی اور اپنے کسی ممبر کو بکنے نہیں دیا۔ انہوں نے دوسری جماعتوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے بدترین ہارس ٹریڈنگ کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جن ممبران کو خریدا گیا ان کی پانچ کروڑ سے نو کروڑ تک بولیاں لگیں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے نام لئے بغیر ایک دوسرے پر بدترین ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے پاس جنرل اور خصوصی نشستوں کے لئے ووٹرز کی مطلوبہ تعداد موجود تھی ۔جنرل نشست کے لئے سترہ اور مخصوص نشستوں کے لئے اکتالیس ممبران کی حمایت درکار تھی۔ جن پارٹیوں کی اسمبلی میں چار ، چھ یا آٹھ دس ممبران ہیں انہوں نے جنرل، خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لئے بھی امیدوار کھڑے کئے تھے۔ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنی پارٹی یا قیادت کی مٹھی بھی ضرور گرم کی ہوگی۔ اس کے بعدانہوں نے دیگر پارٹیوں کے منتخب ممبران کی حمایت حاصل کی ہوگی۔ جن پارٹیوں کے پاس دس ارکان ہوں تو اسے خصوصی نشست پر کامیابی کے لئے مزید اکتیس ممبران کی حمایت درکار تھی۔ اگر ہر ایم پی اے کو پانچ پانچ کروڑ کی بھی پیش کش کی ہوگی تو ڈیڑھ ارب روپے میں سینٹ کی رکنیت اسے مل گئی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جے یو آئی کی صوبائی اسمبلی میں سولہ نشستیں ہیں پارٹی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب کو صرف سات ووٹ ملے۔ یعنی اپنی پارٹی کے نو ارکان نے اپنے صوبائی امیر کو ووٹ نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی کی چھ نشستیں ہیں روبینہ خالد کو اپنی پارٹی کے چھ ووٹوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے 35ارکان نے ووٹ دیا۔قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف نے مولانا سمیع الحق کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ دونوں جماعتوں کے 71ممبران میں سے صرف چار نے انہیں ووٹ دیا۔ کیونکہ سمیع الحق اور گل نصیب مولوی لوگ ہیں ان کے پاس دینے کو پندونصائح کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اس وجہ سے انہیں ووٹ نہیں ملے۔ اس کے باوجود جو لوگ سینٹ کے انتخابات کو جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ انہیں یا تو جمہوریت کا مفہوم ہی نہیں معلوم۔ یا پھر وہ اسے کاروبار سمجھتے ہیں۔ جو شخص پچاس کروڑ سے ڈیڑھ ارب روپے تک خرچ کرکے ایوان بالا پہنچ جاتا ہے ۔ اس کی اولین ترجیح اپنے خرچ کئے ہوئے پیسے منافع سمیت واپس لینا ہوتا ہے۔ اگر یہی جمہوری تقاضا ہے تو شاید جمہوریت پاکستان جیسے ملک کے لئے کوئی مثالی نظام نہیں ہے۔وقت آگیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین ایوان کے لئے ذہین ترین لوگوں کا انتخاب کیا جائے۔اورسینٹ کے ارکان کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیادہونا چاہئے۔ منتخب ممبران کی نیلامی عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے ۔اس نظام سے جتنی جلدی جان چھڑائی جائے۔ ملک اور جمہوریت کے حق میں اتنا ہی بہتر ہے۔


شیئر کریں: