Chitral Times

Aug 13, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنیا کے مذاہب کااجمالی جائزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر مولانا محمد یونس خالد

Posted on
شیئر کریں:

مذہب کا دنیاکی تہذہب وتمدن کی تشکیل میں بنیادی اور کلیدی کردار رہا ہے،دنیا کی معلوم تاریخ کے مطالعے سے انسانی معاشرے میں مذہب نہایت اہم اور مرکزی ستون کی حیثیت سے سامنے آتا ہے مذہب کے علاوہ جغرافیائی حالات ، طرز معیشت وطرزحکمرانی اور قوموں کے مزاج ومذاق بھی تہذیب وتمدن کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ بہرحال دنیا کے مختلف مذاہب کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں مذاہب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسان کی اپنی تاریخ ہے ، اس متوازی تاریخ کی وجہ سے انسانی معاشرے کی تشکیل اور تہذیب وارتقاء میں مذہب سب سے بڑے عنصر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ دور حاضر میں سیکولرازم کے بھر پور طریقے سے پرچار اور اس کو دور حاضر میں انسانی مسائل کے حل کے طور پر پیش کرنے کے باوجود بھی فی زمانہ مذہب ہی وہ حقیقی قوت ہے جس کے پاس دنیاکی سیاست کی ڈوریں ہیں۔آ ج بھی ہرتہذیب اپنی شناخت مذہب کی بنیادپر کراتی ہے اور اسی پر فخر کرتی نظرآتی ہے بلکہ مذہب کے بغیر دنیا کی کسی تہذیب کی شناخت ہی نامکمل نظر آتی ہے ، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذہب انسانی معاشرے پر کس حد تک اثر انداز ہے حقیقت میں وہ انسانی فطرت کی آواز ہے۔

 

جب دنیا کے اہم مذاہب کی بات کی جائے تو اس سے مراد دنیا کے ان مذاہب کی بات ہوتی ہے جنہوں نے دنیا میں مختلف معروف تہذیبوں کو جنم دیا اور ان کو پروان چڑھایا اور آج بھی وہ اتنے ہی اہم ہیں جتنے وہ ہزاروں سال پہلے تھے ، آج دنیا کے پچھتر فیصد لوگ چار بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت ، ہندومت اور بدھ مت کے پیروکار ہیں۔دنیامیں بعض ایسے مذاہب ہیں جو تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے پرانے ہیں لیکن پیروکار وں کی تعدادنہایت کم ہے ، مثلا یہودیت دنیا کا قدیم ترین مذہب ہے لیکن اس کے پیروکار دنیا میں نہایت کم ہیں اس کی ایک وجہ اس مذہب کا مخصوص نسل پر مبنی ہونا ہے۔دنیا کے ان بڑے مذاہب کے علاوہ کچھ غیر معروف اور بہت ہی محدود علاقے پر اثر انداز ہونے والے مذاہب بھی ہوسکتے ہیں ، ایسے مذاہب یاتومذکورہ مشہور مذاہب کے آف شوٹ ہوسکتے ہیں یا ان کو انہی کا کوئی ذیلی فرقہ قرار دیا جاسکتا ہے ایسے مذاہب کو الگ سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔

 

دنیا کے مشہور مذاہب کو بنیادی طور پر تین کیٹیگری میں تقسیم کیا جاسکتا ہے سامی مذاہب، آریائی مذاہب اور منگولی مذاہب۔سامی مذاہب میں یہودیت ، عیسائیت اور اسلام شامل ہیں یہ مذاہب حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی اولاد کی طرف منسوب ہوکر سامی مذاہب کہلاتے ہیں۔انہی مذاہب کو الہامی مذاہب یا آسمانی مذاہب کا نام بھی دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ تینوں مذاہب اللہ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوئے اور اپنے وقت کے پیغمبروں پر الہام کئے گئے۔ ان پیغمبروں کو باقاعدہ کتابیں اور مستقل شریعتیں دی گئیں، جن پر ان کی امتوں نے عمل کیا ، یہ مذاہب آج بھی دنیا میں موجود ہیں اور ان کے پیروکار دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان مذاہب کو سامی مذاہب کہنے کی وجہ ظاہر ہے کہ طوفان نوح کے بعد دنیا میں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار چند لوگ ہی بچے تھے انہی حضرت نوح کے تین بیٹے ہوئے حام ، سام اور یافث۔سام کی اولاد عرب ، مشرق وسطی اور آس پاس کے علاقوں میں پھیلی، انہی میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اور پھر انہی کی نسل میں آنے والے پیغمبروں کے ذریعے سے یہ تینوں مذاہب دنیا میں آئے ۔ یافث کی اولاد افریقہ اور آس پاس کے علاقوں میں جبکہ حام کی اولاد چین منگولیا اور مشرق بعید میں پھیلی۔ یہاں اسلام سمیت تینوں مذاہب کو سامی کہا گیا اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ مذاہب صرف سامی اقوام اور ان کی اولاد کے لئے مخصوص تھے، خصوصا اسلام ایک عالمگیر ،آفاقی اور قیامت تک کے لئے دائمی مذہب ہونے کا دعوے دار ہے جو دنیا کے ہرعلاقے اور ہر نسل کے لوگوں کے لئے ہے چنانچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مذاہب سامی نسل کے پیغمبروں میں آنے کی وجہ سے ان کو سامی مذاہب کہا گیا ورنہ ان میں خاص کر اسلام وہ آفاقی اور دعوتی مذہب ہے جو دنیا کے تمام لوگوں کی نجات کا ضامن ہے۔ہاں یہودیت اور عیسائیت کو ایک حد تک محدود نسل کے لئے کہا جاسکتا ہے ان میں سے یہودیت ابھی تک ایک خاص نسل بنی اسرائیل تک محدود ہے تاہم عیسائیت اب دعوتی مذہب ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ دعوتی سرگرمیاں عیسائی مذہب کے پیروکار کررہے ہیں۔

 

الہامی یاسامی مذاہب کے بعد دوسرے نمبر پر آریائی مذاہب ہیں ۔ آریائی مذاہب میں ہندومت ، جین مت ، سکھ مت اور زرتشت ازم شامل ہیں، ان میں سے ہندومت اور سکھ مت ہندوستان کے مذاہب جبکہ زرتشت ازم ایران کا مذہب رہا ہے اب بھی اس مذہب کے کچھ پیروکار ایران اور ہندوپاک کے علاوہ دنیا کے بعض ممالک میں پائے جاتے ہیں اور ان کو آتش پرست کہا جاتا ہے۔بدھ مت کے بارے میں دو رائیں پائی جاتی ہیں کچھ ماہرین مذاہب کی رائے ہے کہ بدھ مت منگولی مذاہب کا حصہ ہے کیونکہ نیپال کے جس علاقے میں اس مذہب نے جنم لیا تھا وہ منگولی اثر ورسوخ کا حامل علاقہ تھا اور یہ مذہب پھیلا بھی منگولی علاقوں میں ہے لہذا وہ اس کا شمار منگولی مذاہب میں کرتے ہیں ۔ جبکہ ماہرین کی ایک رائے کے مطابق بدھ مت کو آریائی مذاہب میں شما ر کیا جاتا ہے، اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اس مذہب کا جنم بھوم نیپال ہے جو تاریخی طور پر منگولی اور آریائی دونوں نسلوں کے اثرورسوخ کا سنگم رہا ہے اور دوسری طرف نیپال سے نکل کر اس مذہب کو پنپنے کا موقع سب سے پہلے ہندوستان میں ملا ہے یہیں بدھا کو نروان حاصل ہوا اوریہیں سے ایک ہندوستانی بادشاہ اشوک کے دور میں یہ مذہب ہندوستان سے نکل کر مشرق بعید کے ممالک میں پھیلا ۔ اور اس مذہب کی تعلیمات کاجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ہندومت کی کوکھ سے ہی جنم لیا تھا اور ہند مت کی بعض خرابیوں خصوصا ذات پات کی بنیاد پرمعاشرے کی تقسیم کو چیلنج کیا تھااس لئے اس کو بعض ماہرین آریائی مذاہب میں شمار کرتے ہیں۔

 

مذاہب کی تیسری قسم منگولی مذاہب ہیں، منگولی مذاہب میں تاؤ ازم ، کنفیوشس ازم اور شنٹوازم شامل ہیں۔تاؤ ازم اور کنفیوشس چین اور منگولیا کے مذاہب ہیں یہ اب بھی وہاں کے علاقائی مذاہب کی حیثیت کے حامل ہیں جبکہ شنٹو ازم جاپان کا مذہب ہے اور سرکاری مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کے علاوہ بدھ مت بھی بعض ماہرین کے مطابق منگولی مذاہب میں شامل ہے چنانچہ بدھ مت چین جاپان اور مشرق بعید کے بہت سارے ممالک کے علاوہ میانمار (برما)، تھائی لینڈ، سری لنکا، ویت نام اور دیگر مشرقی ممالک کا مذہب ہے۔ ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق دنیا میں پیروکاروں کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا مذہب عیسائیت (کرسچینٹی)ہے جس کے پیروکار دنیا میں تقریبا ۳۲ فیصد ہیں۔ عیسائیت کے تین بڑے فرقے رومن کیتھولک،ایسٹرن آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ ہیں۔ ان تینوں میں سب سے زیادہ تعداد رومن کیتھولک کے پیروکاروں کی ہے ،عیسائیت کے اس فرقے کے پیروکار پورے لاطینی یعنی جنوبی امریکی ممالک ، شمالی امریکہ ، کینڈا ،یورپ کے اکثر ممالک کے علاوہ افریقہ کے بعض ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس فرقے کا نمائندہ ادارہ رومن کیتھولک چرچ ہے اور اس فرقے کے پیروکاروں کی تعد ادایک تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کے تناسب سے ۱۷اعشاریہ ۴ فیصد ہے۔ عیسائیوں کے دوسرے بڑے فرقے پروٹسنٹ کے پیروکاروں کی تعداد ۶اعشاریہ ۵ فیصد ہے۔یہ لوگ یورپ، کینڈا اور شمالی امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا ودیگر ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔اس مذہب کا تیسرا مشہورفرقہ ایسٹرن آرتھوڈوکس ہے یہ لوگ تناسب میں ۳ اعشاریہ ۵ فیصد ہیں جونسبتا کم ہیں اور روس سمیت مشرقی یورپی ممالک میں رہتے ہیں ان کا نمائندہ مذہبی ادارہ ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ ہے ۔ عیسائیت کے ان تین مشہور فرقوں کے علاوہ دنیا میں بے شمار فرقے ہیں جن کی تعداد تناسب کے لحاظ سے ۶ اعشاریہ ۴ فیصد ہے۔ بہرحال عیسائیت تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور سیاسی ومعاشی لحاظ سے سب سے موثر مذہب ہے جس کے پیروکاروں کی تعداد دنیا میں تقریبا ایک تہائی ہے۔

 

عیسائیت کے بعد تعداد کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑامذہب اسلام ہے ،اسلام کے پیروکاروں کی تعداد ایک سروے کے مطابق ۲۳ اعشاریہ پانچ فیصد ہے جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق ۲۸فیصد تک ہے۔ مسلمان دنیا کے ۵۷ ممالک پر حکمرانی کے علاوہ بلااستثنا تقریبا دنیا کے تمام ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ مسلم دنیا نظریاتی طور پر دوبنیادی حصوں شیعہ سنی بلاکوں میں تقسیم ہے سنی بلاک کا تناسب ۸۵ فیصد جبکہ شیعہ بلاک کا تناسب صرف ۱۵ فیصد ہے۔ دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہندومت ہے جس کے پیروکاروں کی تعداد ۱۵اعشاریہ ایک فیصد ہے۔اس وقت دنیا میں ایک اعشاریہ ایک بلین یعنی ایک ارب دس کروڑ ہند و دنیا میں رہتے ہیں۔بڑے مذاہب میں اس وقت چوتھے نمبر پر بدھ مت ہے جو تقریبا دنیا کی آبادی کے چھ اعشاریہ نو فیصد بنتے ہیں۔ان مذاہب کے بعد چائنا اور منگولیا کے روایتی مذاہب کے نام آتے ہیں جن میں چین کے کنفیوشس ازم ،تاؤ ازم اور جاپان کا شنٹو ازم شامل ہیں۔ تاہم دنیا میں ایک بہت بڑی تعداد لامذہب ، دہری یا ملحدین کی ہے جو کسی بھی مذہب کی پیروی نہیں کرتے ان کی زیادہ تعد اد یورپ، امریکہ ، روس اور چین جیسے ممالک میں ہے یہ لو گ کسی بھی مذہب کو اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی نعوذباللہ خدا کے وجودتک کے قائل ہیں۔ ان لوگوں کاخیال ہے کہ یہ کائنات فطری طورپر خودبخود مادے سے بگ بینگ کے نتیجے میں وجود پزیر ہوئی ہے اور فطری قوانین کے تحت یہ برقرار ہے اور چل رہی ہے ۔آج کے کالم میں مذاہب کا مجموعی جائزہ پیش کیا گیا وقت نے اجازت دی تو انشاء اللہ آئندہ کالموں میں ہرمذہب کا تفصیلی تعارف اور زیراثر علاقوں کا تفصیل سے جائزہ پیش کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالم برائے چترال ٹائمز
ڈاکٹر مولانا محمد یونس خالد فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی ۔بی ایڈ ؍پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی


شیئر کریں: