Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جی بی کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی کارکردگی!……تحریر:ایڈوکیٹ ایم غازی خان آکاش استوری

شیئر کریں:

ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں !

وزیر اعلیٰ  گلگت بلتستان کی جمہوری حکومت کے تین سال مکمل ہونے کے قریب ہیں۔انکی حکومت کی کارکردگی کا سرسری جائزہ اور جائز تنقید، عوامی خواہشات اور حکومت کی عمل کار کردگی سے عوام کے حقیقی تاثرات، مشاہدات، توقعات، تعریف، امیدیں، مسائل، محرومیاں، تحفظات وغیرہ کا اظہار نیک نیتی اور خالصتاََ عوام کے اجتماعی حقیقی جذبات کی ترجمانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان کی عوام مجموعی طور پر حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہیں لیکن عدم مساوات کی وجہ سے مایوسی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔چونکہ گلگت بلتستان کی عوام کو عرصہ دراز سے محرومیوں اور پسماندگی کا سامنا رہا ہے۔جسکی وجہ سے مسائل زیادہ ہیں اور تمام مسائل کو بیک وقت حل کرنا ممکن نہیں ہے۔اسلئے وقت لگے گا۔

جہاں تک وزیر اعلیٰ صاحب کی کارکردگی کا سوال ہے۔اس میں عوام کو یہ بخوبی علم ہے کہ حفیظ الرحمن کی شخصیت دور اندیش اور باصلاحیت ہے انھوں نے قلیل مدت میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔اس میں بجلی کے Power Projectsاسکردو روڈ، غذر ایکسپرس روڈ نلتر روڈ، استور کا ادھا روڈ وغیرہ اسی طرح بلدیہ میں رکشہ سرروس، ہسپتالوں میں جدید مشینری یا Equipmentsکی دستیابی جو کہ صرف گلگت سطح پر کی گئی ہے۔اسکے علاوہ میڈیکل کالج کے قیام کی منظوری، تمام ڈسٹرکٹس میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام ،سکارکوئی سے یونیورسٹی تک صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ اور جگلوٹ میںRCCپلوں، ہسپتالوں اور روڈز، اسکولوں واٹر سپلائی اور کالج وغیرہ کی منظوری وغیرہ وغیرہ۔اسکے علاوہ بھی ب شمار چھوٹے بڑے منصوبے شامل ہیں۔یقیناًیہ عوام کیلئے ہی ہیں جن پر خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔جہاں تک روزگار کا تعلق ہے۔ تو گلگت بلتستان کی آبادی وطن عزیز پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت کم ہے۔اسلئے یہاں پر بیروزگاری اولاََ ختم ہونی چاہئے اور نسبتاََ کنٹرول ہونی چاہئے۔لیکن ایسا نہیں ہے اور بے تحاشہ بیروزگاری ہے پرائیویٹ سیکٹر نہیں ہونے کی وجہ سے سرکار پر ہی آسرا ہوتا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحب کے اس اقدام کو یقینی طور پر حقیقی جمہوری اقدام قرار دیا جاتا ہے۔وہ یہ کہ میٹرک تک تمام سرکاری اسکولوں میں مفت کتابوں کی ترسیل کو یقینی بنایا ہے۔جمہوریت اس وقت حقیقی جمہوریت کہلاتی ہے۔جب جمہوریت کے درخت کے پھل/فروٹ سب کو دستیاب ہوسکیں اور جمہوری درخت کا فروٹ مساوات پر مبنی مکینزم کے ذریعے ہر کسی کو مل سکے یا استفادہ کرسکے تب جا کر جمہوریت کا نعرہ یا جمہوری اصلولوں کی پاسداری پر یقین آجاتا ہے۔گلگت بلتستان پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہے اور اکثریت آبادی پہاڑی علاقوں میں بستی ہے۔ان میں بالخصوص، بلتستان اور استور کے بالائی پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو سخت ترین زندگی گزارنے کا وجہ سب سے زیادہ برف باری ، آمدورفت کا نہ ہونا، مہنگائی کے طوفان پر کنٹرول نہ ہونا، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، تعلیم کے حصول میں دشواریاں اور جلانے کی لکڑی یا Fuelکی عدم دستیابی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔اور ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔چونکہ مسائل حد سے زیادہ ہیں۔اور عوامی نمائندوں کو دیئے گئے فنڈز ناکافی ہیں۔کیونکہ ایک وادی میں یا علاقے میں کوئی کام یا سہولت دی جاتی ہے تو دوسرے علاقوں کو پہاڑوں کی وجہ سے رسائی ممکن نہیں ہوتی ہے اسلئے محرومی بڑھ جاتی ہے۔سیاست خدمت کا نام ہے۔مساوات خدمت عبادت ہے۔عدم مساوات بے برداشت ہے۔کسی بھی جمہوری حکومت پر لازم ہے کہ وہ عوام کو مساوی وسائل تقسیم کرے۔مساوی روزگار دے اور مساوی قانون سازی کرے۔اور سرکاری اداروں یا سرکاری ملازمین سے عوام کو یہ توقع ہو کہ انھی عوام کی خدمت اور آئشوں کیلئے ملازمین اور ادارے بنائے گئے ہیں نہ کہ عوام کو مایوسیوں، محرومیوں اور ناانصافیوں میں دھکیلنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔اس نظام حکومت اور ان کا صحیح اور درست مکینزم بنانے کی ذمہ داری جمہوری حکومتوں کی ہوتی ہے۔جو کہ جمہوری حکومت کا آئینہ ہوتے ہیں۔جبکہ اسکے برعکس گلگت سٹی، سکوار اور آس پاس لینڈ مافیا کا سرگرم غیر قانونی کاروبار پر حکومت کی خاموشی اور انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے قبضہ مافیا کے خلاف قانون کی خاموشی تماشائی کا کردار پر عوام میں غم و غصہ اور حکومت کے اوپر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں چونکہ لینڈ مافیا کے جمہوریت کو نقصان پہنچانے اور امن کو خراب کرنے کی سازش ہوسکتی ہے۔حکومت کے اعلیٰ حکام کی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔جسے بذیعہ قانون عملاََ کاروائی کرنے کی حکومتی ذمہ داری نبھانے کی عوام امید رکھتے ہیں اور عملاََ اقدامات کی التجا کرتے ہیں۔عوام بالخصوصSilent Communityہر اچھے کام کی تعریف بھی کرتی ہے اور خراج تحسین بھی پیش کرتی ہےSilent Community احتجاج یا اخباری بیانات جو کہ جھوٹ پر مبنی ہو یقین نہیں رکھتی۔بلکہ کارکردگی پر بھروسہ کرتی ہے اور وقت آنے پر اخباری بیانات اور جھوٹے دعوؤں کی لفظی گولہ باری کو رد کرتے ہوئے حقیقی فیصلہ دیتی ہے۔سیاسی لوگوں یا سیاسی پارٹیوں کو لفظی گولہ باری اور جھوٹے بیانات یا لالچ کے تحت پروپیگنڈوں کو عوام میں باالخصوصSilentکمیونٹی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے نہ کوئی پذیرائی بھی حاصل نہیں ہے۔شاید کچھ لوگوں کو جو سیاسی لفظوں کی گولہ باری پر دلچسپی ہوسکتی ہے بالعموم عوام کو روزگار کے ذرائع، سہولیات زندگی، تعلیم ، صحت اور امن و آشتی، آمدورفت کے آسان ذرائع سے واسطہ ہے۔یہاں یہ ذکر نہایت لازم ہے کہ جمہوری حکومتوں میں جو بھی لیڈر عوامی کاز کیلئے بے لوث خدمت کرتا ہے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا وقت ضرور بدلتا ہے۔حکومتیں بدلتی ہیں لیکن عوامی لیڈر یا قائد جس نے عوام کو مقدم رکھا ہو وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں رہتا ہے۔آج گلگت بلتستان میں جمہوری حکومت ہے اور گلگت بلتستان کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔جبکہ اس سے قبل ایسی اہمیت نہیں تھی۔قائد تحریک قائد عوام ذولفقار علی بھٹو گلگت بلتستان کی عوام کے دلوں میں ہمیشہ ہے اور رہے گا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ذولفقار علی بھٹو نے صرف گلگت پر توجہ نہیں دی نہ صرف بلتستان پر توجہ مرکوز نہیں رکھا۔بلکہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں گیا وہاں کے عوام کے کام کئے۔غربت مٹائی۔ڈوگروں کے ظلم و بربریت کے سامراجی کالے قوانین کا خاتمہ کیا نام نہاد راجاؤں اور نمبرداروں کے غیر منصفانہ غیر جمہوری طرز حکومتوں کا خاتمہ کیا۔روزگار کے خزانے فراہم کئے۔صرف بیانات نہیں دیئے صرف ہیڈ کواٹرز کا انتخاب ہی نہیں کیا بلکہ مساوات کا درس دیا اسلئے آج عوام بالخصوص گلگت بلتستان کے کریہ کریہ میں عوام کے دلوں میں بستا ہے۔استور کے پہاڑوں سے ے کر اسکردو کے پہاڑوں تک غذر کے پہاروں سے لے کر ہنزہ کے پہاڑوں تک ہر جگہ مساوات اور غریب، مظلوم کا ساتھ دیا اور ان کو اوپر اٹھایا میں پیپلز پارٹی کی تعریف یا تشہیر نیہں کرتا ہوں بلکہ بھٹوازم کی بات کرتا ہوں۔جو صرف عوام کی بات کرتا تھا۔مساوات سے جو عوام کی خدمت کرتا ہے اور عوام کیلئے قربانیاں دیتا ہے اسے بھٹو اور نیلسن منڈیلا کہتے ہیں۔ان جیسا کام کرنے سے عوام ہر مخلص لیڈر کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہمیشہ ان کو یاد رکھتے ہیں۔جہاں تک موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے یقیناًمتاثر کن ہے۔اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔جو کام نظر آتے ہیں اس پر تعریف کے حقدار اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور مساوات روزگار اور مساوات وسائل سب کو پہنچانے محرومیوں سے چھٹکارا دلانے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعلیٰ نے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے ۔ان میں سے شاید بہت سے کام علم مجھے نہ ہو لیکن مخلص قیادت سے مزید بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ہماری عوام سادہ اور غیور ہے۔عوام کبھی بھی مخلص قیادت کے عوام کیلئے کئے گئے کام کو فراموش ہیں کرتی اور وقت آنے پر اپنا صلہ بھی دیتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


شیئر کریں: