Chitral Times

Oct 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بیروزگاری……………..فہمیدہ ارشد زئیت

    February 20, 2018 at 10:22 pm

    ٓآخر یہ بلا ہے کیا ؟؟؟جس کے نام سے سب گھبراتے ہیں۔ ماں کی گود میں سویا ہوا ایک معصوم بچہ بھی خوف سے جاگ جائے گا جب یہ سوال سنے گا ۔کیوں کہ وہ ماں کے پیٹ میں ہی اپنے اردگرد کے ماحول سے یہ لفظ بارہا سن چکا ہوگا ۔ ایک بزرگ فرمائے گا بیروزگاری ہے کفن نصیب نہ ہونے کا ڈر، ایک ماں کہے گی جلی ہوئی روٹی، ایک بہن کہے گی شادی میں رکاوٹ، ایک باپ کہے گا ماتم، ایک نوجوان بیٹا کہے گا میری موت ۔ جبکہ انٹر نشنل لیبر ارگنائزیشن انتہائی نرمی سے کہتا ہے کہ بیروزگاری انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جب اسے روزگار میسر نہ ہو اور وہ گزشتہ چار ہفتوں کے اندر فعال طور پر کام تلاش کر چکا ہو۔یامیرے خداکاش الفاظ انسانی حالت کی اچھی نمائندگی کر پاتے۔ان کا مذید کہنا ہے کہ بیروزگاری کی پیمائش شرح بیروزگاری کی مدد سے لی جاسکتی ہے۔ یہ شرح فیصدی پیمائش کو حالیہ افرادی قوت سے تقسیم کر کے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں ایک نوجوان کہتا ہے کہ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو مجھے یہ جان کر کیا کرنا ہے مجھے تو بس نوکری چاہئے ۔مجھے نوکری دلادیں۔ اللہ کے نام پہ مجھے نوکری دلادیں۔

    نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں جن سے پوری قوم کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اقبال ان کو شاہین کہتا ہے جن کے ارادے بہت بلند ہوتے ہیں۔ جبکہ آج یہ بلند ارادے والا نوجوان بھیگ مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اپنی خودی کو مجروح کر رہاہے اور اپنی زندگی داو پہ لگا رہا ہے۔ صرف اسلئے کہ وہ بیروزگار ہونے کی وجہ سے ان توقعات پہ پورا نہیں اتر رہا ہے جو معاشرہ اس سے تقاضہ کرتا ہے۔ جس امید سے ماں باپ نے پال پوس کے بڑا کیا تھا وہ آج ان کے لئے کچھ کر نہیں پا راہا ہے بلکہ الٹا انہی پر بوبھ بن کے بیٹھا ہے۔ جس محنت سے ڈگریاں حاصل کی تھی وہ بیکار ہیں ۔کوئی انکی طرف دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔ ایک معمولی نوکری کے لئے اسے اپنی خودی کو بھیجنا پڑتا ہے، اپنی ڈگریؤں کی توہین کرنی پڑتی ہے، اپنی ذہانت اور قابلیت کو گرانا پڑتا ہے ۔ اس لئے یہ نوجوان کہتا ہے کہ بیروزگاری میری موت ہے۔

    اپنی ایم ۔فل کے ریسرچ میں اس عنوان کو میں نے اٹھایا تھا۔ اب آپ سوال کریں گے کہ آیا میں کسی خاص نتیجہ پر پہنچی کہ نہیں؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ میں بھی ان میں سے ہوں جو خالی اس کا تعارف بیان کرتے ہیں اور اسباب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈگری لینے کے لیے خانہ پوری تو کردی اور حکومت کو کچھ مشورہ بھی دے دیئے پر اس سے ہوگا کیا؟کیا میں نے اس کا حق ادا کیا؟بالکل نہیں۔حق ادا تب ہوگا جب مجھ میں اس کوسامنا کرنے کے ہمت ہوگی۔

    میرے نوجوانو! یہ مسلہ آخرہے کہاں؟ کیا یہ ہم میں ہے یاہمارے اردگرد؟ یہ بات تو طے ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے خواہشات لامحدود اور ان کو مکمل کرنے کے زرائع محدود ہیں۔ اس لئے دنیا میں محدود زرائع کو حاصل کرنے کیلئے مقابلہ بھی ہمیشہ رہتا ہے۔ اور اس مقابلے میں کوئی کم اور کوئی زیادہ لے جاتا ہے۔ آج ہم بھی اسی مقابلے کا حصہ ہیں۔ اپنی طرف سے مکمل جدوجہد کے بعد جب ہم کچھ وقت کے لئے ہار جاتے ہیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ رزق کا ذ مہ دار اللہ تعالی ہے۔جب تک زندہ ہیں وہ عطا کرے گا بشرط یہ کہ ہم صبر کریں۔ پھر ہم کس بات سے گھبراتے ہیں جو ہمیں موت کے منہ تک لے جاتی ہے۔

    یقین مانو ! ماں باپ ، بہن بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے لئے آپ کی زندگی سے زیادہ عزیز کچھ بھی نہیں۔ کہتے ہیں کہ پیسہ آنی جانی چیز ہے۔اس کے نا ملنے پر اپنی قیمتی زندگی کو جو صرف ایک بار ملتی ہے برباد مت کرو۔ آپ کے پاس اعلی ڈگری ہے اس کی کوئی اور قدر نہیں کرتاتو خود کرو۔ اگر آپ فارع ہیں تو صرف دو بچوں کو ٹؤشن پڑھاو اپنے علم پہ ناز ہوگا آپ کو۔ وہ وقت جسے آپ بیروزگاری کا وقت سمجھتے ہیں اور ٹنشن میں بیٹھے ہوئے ہیں کتنا اچھا ہوگا کہ آپ یہ وقت کو اپنے والدین کی خدمت میں گزار دیں۔وہ آنٹی جوبیروزگار کہ کر اپنی بیٹی کا رشتہ نہی دے رہی ہے اسے فلحال بھول جاو ،وہ دن دور نہیں جب وہ خود چل کر آئے گی آپ کے پاس رشتہ کرانے۔ اگر آج آپ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسروں کے محتاج ہیں تو کل بادشاہت آپ کی ہو سکتی ہے۔ اسی لئے شاعر نے کہا ہے کہ دنیا میں اور بھی غم ہیں ایک محبت کے سوا:) کیوں بیروزگاری کا بھوت سر پہ سوار کرکے بیٹھے ہو ؟ آگے بڑھو، ہمت کرو، محنت کرو اور یہ تب ہوگا جب آپ مایوس نہیں پر امید ہوں گے اور آپ کا دل جوش و جزبے سے بھرپور ہوگا۔

  • error: Content is protected !!