Chitral Times

Mar 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کُنجِ قفس……… میرے پہنچنے تک ……… الطاف اعجازؔ گرم چشمہ

Posted on
شیئر کریں:

میرا نام بشیر احمد ہے او ر یہ مئی کا مہینہ تھا او ر موسم انتہائی جوبن پر تھا، ہر طرف خوبصورتی اورسر سبز شادابی پھیلی ہوئی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، فلسفیانہ احساس، پہاڑیں اور درختیں، ندیا ں،وادیاں سب ایک قسم کی وجد سی کیفیت سے گزر رہے تھے ، ہر طرف صاف ستھرائی نظر آرہی تھی ۔ایسا لگ رہا تھاجیسے فطرت نے خزاں اور سرما کے بعد غسل بہار کی ہواور زندگی اب خوب جینے کے لئے تیاریا ں کر رہی ہو۔مئی مہینے کے ساتھ ایک مشہوررواج یہ ہے کہ اس مہینے میں فاختاؤں کی بے تحاشہ شکار ہوتی ہے بلخصوص مئی مہینہ کے دس تاریخ تک شکار اتنی زوروں پر ہوتا ہے کہ وادی ، درّے ، جنگل ہر جگہے سے فائیرنگ کی تھڑ تھڑ اہت دن ڈھلنے تک جاری وساری رہتی ہے، ایسے جیسے کوئی جنگ ہو رہی ہو ۔میں بھی تھوڑا بہت شکاری ہوں اس لئے اس جنگ میں ، میں بھی پیش پیش تھا اور ہر روزاز راہ شوق صبح نکلتا اور کئی کئی گھنٹے شکار کے بعد واپس آتا۔اور یوں ایک دن جب چھ مئی کو صبح سویرے اٹھا تو بندوقوں کی گونج سے صاف صاف محسوس ہو رہا تھا کہ شکاری حضرات منہ اندھیرے ہی نکل چکے تھے اور مختلف وادیوں میں فاختوں کی شکار میں مگن تھے ۔میں بھی اپنا بندوق لیا اور شکار کیلئے جنگل کی طرف روانہ ہوا ۔میرا ایک دوست تھا جس کانام افسر حسیں تھا اور ہم پیار سے اسے خان پکارتے تھے ۔ اتفاق سے وہ بھی شکاری تھا اور آج وہ بھی شکار کے لئے فاختا ؤں کے پیچھے چلے گئے تھے، وہ کہاں گئے تھے یہ مجھے پتہ نہیں تھا۔چونکہ شکار پر شکار جاری تھا اور ہر ایک فائر کی آواز اپنے ساتھ یہ سبق بھی لاتی تھی کہ بس شکار کریں اور اگے نکلتے جائیں، اس لئے کوں کہاں ہے یہ سوچنا اپنے شکار سے محروم رہنے کے مترادف تھا ۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھ کر میں بھی پیچھاکرتے کرتے جنگلوں میں آگے نکلتا گیااور درخت در درخت خوبصورت سرخ مائل فاختاؤں کو گراتا گیا۔ یوں ایک جگہے میں پہنچا تھا کہ اچانک میری موبائل بج اٹھی ، دیکھاتو اسکرین پرخان کا نام تھر تھرارہاتھا ۔ ۔ ۔ اٹند کرتے ہی دس سیکنڈکے اندرجنگل میرے ارد گرد کسی بھنور کی طرح گھومنے لگا۔۔۔خان کی آواز تو آرہی تھی مگر ساتھ ساتھ اس کی آواز میں چٹخارے کی سی ایک دبی دبی ترل تھی، ایسے جیسے کوئی ڈوبتے وقت آواز دے رہا ہو۔۔۔بہت زور اور الفاظ میں صفائی لانے کی لاچار کوشش کرتے ہوئے اس نے کہا ۔ ۔ ۔’ بشیر ! تم کہا ں ہو یار ۔ ۔ جلدی پہنچو! ۔۔۔میرے بندوق کی کارتوس غلطی سے مجھ ہی پر فائیر ہوئی ہے۔۔۔جلدی پہنچو یار، خون بہہ رہا ہے ،کچھ کرو۔۔‘‘۔ جب اس نے جگہے کی نشان دہی کی تو اندازا ہوا کہ خان مجھ سے تقریبا چار کلومیٹر دور ایک اور جنگل میں ہے۔ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میرے پہنچنے تک ہمت سے کام لیں۔ بس قیامت ٹوٹ پڑی اور میں وہیں سے حواس باختہ ہو کر سیدھا اس جگہے کی طرف تڑاتڑ دوڑ لگا دی، راستے میں کس کس چیز سے ٹکرائی ، کیا ہوا، کہاں گرا کچھ بھی پتہ نہ چلا ۔ خان اپنے والدیں کا اکلوتا بیٹا تھا،تیس سال کا جوان آدمی اور اپنی دنیا میں رہنے والا ،دیانتدار اور وفادار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ملنسار اور نرم طبیعت کا مالک اچھا دوست بھی تھا ۔ ہماری دوستی کو بیس سال سے زائدہوگئے تھے اور ان دو عشروں میں وہ اپنی دوستی کو بہت خوب نبھائے تھے اور ہماری دوستی بہت مضبوط ہوئی تھی، وہ میرے گھر آتا میں انکے گھر جاتا اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے ہمیشہ ساتھ ساتھ ہوتے ، کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ہم ایک دوسرے کو کال کرکے خیرت نہیں پوچھتے۔۔۔آج کال آیا تھا مگر اس بار خان کی آواز معمول کی طرح ترو تازہ نہیں تھی۔ میں انتہائی تیزی سے پہنچنے کی کوشش میں تھا،راستے میں ہزار قسم کے سوچ آنے لگے،اس کی دوستی، اسکا خاندان، اس کا اکلوتا ہونا،اس کی سادگی، پھر یہ بھیانک خبر ۔۔ ۔ پہنچنے تک خان زندہ بھی ہونگے کہ نہیں ۔ان ہی سوچوں کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی جہگے کے قریب پہنچ کر چند قدم کے فاصلے پر تھا کہ پاؤں یکایک رک گئے اور دل نے کہا آگے مت بڑھو۔۔ منظربھیانک بھی تو ہوسکتا ہے جسے دیکھ کر دل تاب نہ لائے، اور پاگل ہوا جائے ۔ چونکہ یہ وقت تذبذب میں پھنسے کی نہیں تھی اس لئے خان کو بچانے اور ہسپتال تک پہنچانے کی سوچ نے اس طرح کے خیالات جلد محو کردیے اور میں اللہ کا نام لیکر آگے بڑھا۔۔۔ جھا ڑیاں ٹٹولتے ہوئے ایک چند قدم اور آگے بڑا تھاکہ ایک آدمی کے کندھے مجھے نظر آنے لگے ، بس یہ وہ لمحہ تھا کہ میرے اندر کا انسان رونا شروع کیا، میری آنکھوں سے آنسو چل پڑے اوردل ڈوبنے لگا۔ عجب رحم انسان کے اندر ہے اگر آپنے احساس پہ امڈ آئے تو دوست تو دوست دشمن کے سر پر بھی تیراہاتھ پھیرا تا ہے۔۔ کندھے میرے پیارے دوست خان کے تھے ،وہ ہل نہیں رہا تھا اور ایک پتھر کے ساتھ ٹیک لگائے کسی کے انتظار میں تھا اوراس کے انتظار میں بے بسی رچی ہوئی تھی ۔۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ کارتوس کے چھرے اس کے جسم کے کس حصے کو لگے تھے ،ہاں موبائل پر اس کی آواز رک رہی تھی ایسے جیسے اس کے گلے میں کچھ پھنس رہی ہو۔ ۔ چند قدم اور بڑھا تو میرے پاؤں کی آہٹ سے اسے خبر ہوئی،اور اس نے اپناسر بہت احتیاد سے میری طرف سرکائی اور پھر دوسرے ہی لمحے اپنی نظریں بندوق کی طرف لوٹادیا۔۔ایک حیران اور دم بخود آدمی جو نزع کے ہلکی ہلکی عمل سے گزر رہاتھا ۔ ۔ ۔ کارتوس کے چھرے اس کے گردن اور تھوڑی سمیت دائیں آنکھ کو لے اڑے تھے۔ ایک پل کے لئے لگا کہ یہ آدمی خان نہیں ہوسکتا، کیونکہ چہرے کا دایان حصہ مکمل طور پر مسخ ہو کر پہچان سے باہرہوچکاتھا ۔ جب اس کے پاس پہنچا تودیکھا کہ خان کے ارد گرد خون تلاب کی شکل اختیار کر گئی تھی ،اور اس کے گردن سے ابھی بھی خون کی امڈ ایک خاموش فوارے کی طرح یکے بعددیگر زور سے نکل رہی تھی اور پھرمیں نے اس کا نام لیا تو اس نے میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا ، اس کی آنکھوں میں ناقابل بیاں افسوس جھلک رہا تھا کیونکہ اسے محسوس ہورہا تھاکہ وقت بہت کم رہ گیاہے۔۔سانس بھی زوروں پر تھیں ،خون بھی بہہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ آنکھوں میں آنسو بھی قطار درقطا ر خاموش گر رہے تھے۔۔۔ان ہی دردناک لمحات کے دوراں ایک مقام پر آکر اس نے میری طرف کچھ ایسے نظر سے دیکھا جس کا بیان لفظوں میں مشکل ہے۔اس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھاکہ وہ زندگی کو خوب جینا چاہتا ہے پریت، میت ،ریت سب اسے لذیز اور عزیز لگ رہے تھے۔ ایک طرف اسے لمحہ لمحہ قیمتی لگ رہا تھا ،تو دوسری طرف گردن کے اندرونی طرف خون بہہ کر سانس کی نالی میں گر رہاتھا جس سے سانس لینے میں رفتہ رفتہ دقت ہو تی جا رہی تھی۔بہت جلدخان کو آغاخان ہسپتال دروشپ پہنچایا گیا اور وہاں حالات ہاتھوں سے باہر پا کرچترال روانہ کیا گیامگر چترال پہنچتے پہنچتے دیر ہو چکی تھی ،اور اگلے ایک گھنٹے کے اندر سانس کی نالی میں خون بھرتی گئی او ر یوں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہ کرآہستہ آہستہ سانس بند ہونے کی وجہ سے میرے پیارے دوست جان کی بازی ہار گئے ۔


شیئر کریں: