Chitral Times

Jul 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال بونی مستوج شندور روڈ اور چار آر سی سی پلوں کی سی ڈی ڈبلیو پی میں منظوری دیدی گئی ۔۔شہزادہ افتخار

    February 12, 2018 at 10:13 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال سے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے چترال خصوصا سب ڈویژن مستوج کے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP)کی پیر کے دن منعقدہ اجلاس میں چترال بونی ، مستوج شندور روڈ کیلئے 19.10بلین روپے اور ساتھ چترال کے چار پلوں کیلئے بھی 54کروڑ روپے کی منظوری دیدی گئی ہے ۔چترال ٹائمز سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے ایم این اے نے سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی ذاتی دلچسپی کی بنا پر چترال کیلئے کئی ایک میگاپراجیکٹس کی منظوری ہوئی ہے۔ جن میں بعض پر کام جاری ہے اور بعض ٹینڈر کے اخری مراحل میں ہیں ۔ شہزادہ افتخار الدین نے بتایا کہ 12فروری کے سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں چترال بونی مستوج شندور روڈ کیلئے 19.10بلین روپے کی منظوری کے ساتھ پراجیکٹ کو اخری منظوری کیلئے سفارشات کے ساتھ ایکنیک کو بھیج دیا گیا جو ایکنیک کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔ ایم این اے نے بتایا کہ ہر ایک میگاپراجیکٹ کو 19مراحل سے گزار کر منظوری دی جاتی ہے ۔ چترال مستوج شندور روڈ کے 17مراحل مکمل ہوچکے ہیں اخری ایکنیک میں منظوری کے بعد ٹینڈر کے مراحل سے گزار ا جائیگا۔

    شہزادہ افتخار الدین نے بتایا کہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں چار اہم آر سی سی پلوں بھی منظوری ہوچکی ہے ۔ جس پر 54کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ ان پلوں میں اوسیک دروش 18کروڑ روپے، شغور پل 18کروڑ روپے ، گشٹ لشٹ کوراغ 18کروڑ روپے ، اور نیشکوہ ورکوپ پل 18کروڑروپے شامل ہیں۔ ان چار پلوں کی سی ڈی ڈبلیو پی نے حتمی منظوری دی ہے ۔ ان کی ٹینڈر بھی این ایچ اے بہت جلد طلب کریگا۔ تاہم پلاننگ کمیشن قوانین کے مطابق تین آرب روپے سے زیادہ کی پراجیکٹ کو ایکینک سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے ۔ لہذا چترال بونی مستوج شندور روڈ کی گلے ایکنک کی اجلاس میں حتمی منظوری دی جائیگی ۔ جس کے بعد دفاعی اہمیت کی اس اہم منصوبے کی بھی ٹینڈر کے مراحل سے گزار اجائیگا۔

    ایم این اے نے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اپریل کے وسط میں دوبارہ چترال کا دورہ کریں گے۔ اور ان میگاپراجیکٹس کا بھی افتتاح کریں گے۔ جن میں چترال گرم چشمہ ، چترال شندوراور چترال کالاش ویلیز روڈز شامل ہیں ۔

    شہزادہ افتخار الدین نے مذید بتایا کہ مستقبل قریب میں دو اضافی پی ایس ڈی پی این ایچ اے پراجیکٹس ( ساوتھ کورین ایگزیم بینک فنڈیڈ 10.2بلین ) کلکٹک چترال پورشن چکدرہ چترال ایکسپریس وے پر بھی سروے کا کام شروع ہوگا۔ جس پر ٹوٹل 17.42بلین روپے خرچ ہونگے۔
    اسی طرح دوسری پی ایس ڈی پی پراجیکٹ جس پر 12بلین روپے خرچ ہونگے۔ وائڈنینگ اینڈ بلیک ٹاپنگ آف تریچ ٹو لوٹ اویر روڈ پربھی بہت جلد شروع کیا جائیگا۔ ایم این اے نے چترال کے عوام کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور خصوصی طور پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے کہ جن کی خصوصی دلچسپی سے چترال کے ان میگا پراجیکٹس کی منظوری ممکن ہوئی ۔

    Central Development Working Party meeting was held under the chairmanship of Deputy Chairman Planning Commission Sartaj Aziz. in Islamabad on February 12, 2018.

  • error: Content is protected !!