- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

ادائیگیِ قرض………….فہمیدہ ارشد

میری عمر یہی کوئی سات سال کے قریب ہوگی۔ ایک دن دادا جان کے پاس بیٹھ کر ریڈیو سن رہی تھی۔جس میں ایک ملّا صاحب قرض کے نقصانات پہ تقریر کر رہے تھے۔جب انہوں نے یہ فرمایا کہ وہ شخص جو قرض لیکر واپس نہیں کرتا، اسے قیامت کے دن آسمان میں الٹا لٹکایا جائے گا تو اس بات پہ میرے دادا رو پڑے۔ پہلے تو ملّا صاحب کی بات نے پھر دادا جان کے اس انداز نے میرے ذہن میں ایک ایسا خاکہ بنایا جو زندگی بھر کے لئے نقش ہو گیا۔ اس واقعہ کے تقریباً ایک سال بعددادا جان کا انتقال ہو گیا۔میری ایک کزن مجھے اپنے ساتھ لیکر گاؤں کی ایک دوکان میں گئی۔ وہاں جا کے یہ معلوم کیا کہ آیا ہمارے دادا جان پر کوئی قرضہ نہیں تھا۔دوکاندار نے نفی میں جواب دیا اور ہم وہاں سے لوٹ گئے۔راستے میں کزن نے مجھے بتایا کہ قرضہ لیکر اسے واپس کرنا چاہیے۔ اگر کوئی قرضہ واپس نہیں کرتا اور مر جاتا ہے تو اسے اُس جہاں میں سزا ملتی ہے۔اس لئے مرحوم کے گھر والے سب سے پہلے اس کا قرضہ چکاتے ہیں تاکہ وہ سزا سے بچ سکے۔ہمارے دادا جان نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا اور ہمیں بھی اس کی تعلیم دی۔اس بات نے میرے ذہن میں بنے ہوئے تصوّر کو اور بھی واضح کر دیا۔

زندگی کی گاڑی چلتی گئی تو امّی جان نے اور بھی چیزیں سمجھانا شروع کیں۔ مثلاً کسی سے لی ہوئی ہر ایک چیز امانت ہے۔ صرف پیسہ ہی نہیں بلکہ کسی سے پنسل بھی لو تو واپس کرو ۔ نہیں کرو گی تو مقروض ہو جاؤ گی۔پہلے تو اپنی چیزیں مکمل رکھو تاکہ کسی سے مانگنے کی نوبت ہی نہ آئے، لیکن انسان ضرورت مند ہے وہ کسی نہ کسی طرح دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔تو ایسی صورت میں کوئی تمہاری مدد کرے تو اس کی قدر اور عزت کرو۔ اور یہ تبھی ہو گا جب تم اس کی دی ہوئی امانت ذمہ داری کے ساتھ لوٹادو گی۔

میں اپنے والدین اور اساتذہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اخلاقی اقدار سیکھائے۔جن میں سے ایک ،ذمّہ داری کے ساتھ امانت لوٹانا ہے۔الحمدُ للہ میں نے کبھی بھی اس عمل میں کوتاہی نہیں بھرتی۔ایک دفعہ مجھے اپنی ٹیلی نار کی سِم تبدیل کروانی تھی، جبکہ میں دس روپے کا ایڈوانس یعنی پیشگی قرضہ لے چکی تھی۔ اس لئے میں نے پہلے ایزی لوڈ کروایا اور پھر قرضہ چکانے کے بعد سِم تبدیل کروائی۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی سختی کے ساتھ میریindoctrination کی گئی ہے۔ مجھے لگتاتھاکہ میری طرح یہ دوسرے بچوں کو بھی ان کے والدین نے سیکھایا ہوگا۔لیکن اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے تو یقیناً انہیں یاد دیہانی کی ضرورت ہے۔اس لئے میں نے ایک دن اپنی ایک سہیلی سے کہا تم نے مجھ سے سو روپے ادھار لئے تھے وہ واپس نہیں کئے۔ وہ اس بات کو لیکر سخت ناراض ہوگئی اور کہا کہ سو روپے مانگتے ہو شرم نہیں آتی؟ خدا کی قسم میں نے انتہائی نیک نیّتی سے پوچھا تھا، یہ سوچ کر کہ اس پر سو روپے کا قرضہ ہے اور اسے احساس تک نہیں کہ اس لا پرواہی سے قیامت کے دن اس کا کیا حشر ہونے والا ہے۔ اس انداز اور رویّے سے میں افسردہ ہو گئی۔دل ہی دل مین سوچا کہ وہ جب مجھ سے میرا پیسہ مانگ رہی تھی ، تو اسے شرم نہیں آئی۔ بھلا اب مجھے اپنے ہی پیسے ما نگتے ہوئے کیوں شرم آنی چاہیے۔ یہ کیا بات ہوئی۔ بہر حال یہ تو چھوٹی موٹی باتیں ہیں، آگے چل کر جب معاشرتی ذمّہ داریاں بڑھ گئی تو ایسے واقعا ت بھی بڑے درجے پہ ہونے لگے۔پھر میں سوچ مین پڑ گئی کہ امّی اور ابّو نے ہمیشہ اس بات پر زور دیاکہ دوسروں کی امانت لوٹا دو، لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ جب کوئی تمہاری امانت نہ لوٹا ئے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟ شاید انہوں نے یہ مسلۂ مجھ پر چھوڑا تھا کہ میں خو د اس مسلے کو سنبھال لوں۔ لیکن یہ میرے لئے بہت مشکل تھا ، کیونکہ ایسا کرتے ہوئے میں مانگنے والوں کی فہرست میں شامل ہو جاتی تھی۔وہ لوگ جن کی میں نے مشکل وقت میں مدد کی تھی وہی میری ضرورت کے وقت جب میں اپنادیا ہوا پیسہ مانگ لیتی تھی تو وہ میری جان کے دشمن بن جاتے تھے۔یہ میرے لئے ایک المیہ سے کم نہیں تھا۔ کچھ لوگ تو ایسا جواب دیتے تھے گویا انہیں یاد بھی نہیں کہ کبھی میں نے ان کی مدد کی تھی۔

میں ہمیشہ اس دعا کے ساتھ زندگی گزارتی تھی کہ مجھ پر کبھی قرضے کا بوجھ نہ ہو۔ پھر ایک دن بینک دولتِ پاکستان کے بیرونی قرضے کا گراف دیکھا، جس کے مطابق ۲۰۱۵ ؁ء میں پاکستان پر کل ۶۳۹۹۴ ملین امریکی ڈالر کا قرضہ تھا جو ۲۰۱۷ ؁ء میں ۸۲۹۸۱ امریکی ڈالر ہو گیا ہے۔ اس مجمو عی رقم کے اوپر ۱۸۵ ڈالر کے حساب سے شرح سود interest لاگو ہوتا ہے اور یہ سود کی رقم ہی سال میں اربوں اور کھربوں تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ پاکستان کی آبادی بیورو شماریات کے مطابق ۲۰۱۷ ؁ء میں ۱۹ کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اور جب ماہر شماریات سالانہ آمدنی کے حساب سے قر ضے کا تخمینہ لگاتے ہیں ، تو تقریبا ہر پاکستانی آئی۔ ایم۔ ایف، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کا مقروض بن چکاہے۔

اب یہ سوچ سوچ کے میری جان حلق تک آجاتی ہے کہ میں بحیثیت زمہّ دار شہری اپنا فریضہ کیسے انجام دوں۔ میں اپنے حصّے کا قرضہ کس طرح چُکاؤں؟ میں ایسا کیا کروں کہ میرا ملک قرضے کے اس دنگل سے نکل جائے۔ کیا میں اپنا حصے کا سالانہ قرضہ بینک دولتِ پاکستان کے سپرد کروں یہ کہہ کر کہ لو جی یہ میرے حصے کا قرضہ ہے ، اب میں آزاد ہوگئی۔

بیرونی قرضہ چُکانے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے۔پھر میں کیا کروں پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میری جتنی سا لانہ آمدنی بنتی ہے،یہ کہہ کر کہ اس میں سے منفی ہو جا ئے گا ،آرام سے بیٹھ جاؤں؟ نہیں مجھے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ آیا ملک کی پیداوار اورآمدنی میں میرا کتنا حصہ ہے۔ کہیں میں ٹیکس چور یا ذخیرہ اندوز تو نہیں یا پھر کسی دوسری بد عنوانی میں ملوث تو نہیں جس نے میرے ملک کو قرضے کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔

اگر جواب نفی میں ہے تو مجھے پریشان ہونے کی ضرورت ہر گز نہیں۔ کیونکہ ملک کو نقصان پہنچانے میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ کیا اتنا کافی ہے کہ میں ملک کے لئے بے زرر ہوں ؟ نہیں بلکہ خود سے یہ بھی پوچھنے کی ضرورت ہے کہ میں اپنے ملک کے لئے کتنا فائدہ مند ہوں۔ ملک کی تعمیرو ترقی کے لئے یہ ایک اچھی سوچ ہے۔لیکن micro level پر یہ سوچ macro levelکے مسائل کو کیسے حل کر سکتی ہے؟
پھر اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
فرد قائم ربط ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موجِ ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
جب پوری قوم ملکر اس سوچ کو آگے بڑھائے گی تو یقیناً تبدیلی آ ے گی۔