Chitral Times

Dec 4, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حیاتیاتی تنوع کو خطرہ………..تحریر: نورالھدیٰ یفتالی

شیئر کریں:

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں زمین پر جا نوروں کی مختلف اقسام کی تعداد 15ملین ہے ۔ ان میں صرف 1.7ملین جانوروں کی اقسام کا انسانوں کو علم ہے ۔ قدرت کے یہ انمول تحفے آج کل نا پیدہو تے جا رہے ہیں ۔ ۔ حضرت انسان کی لا پرواہی اور غفلت کی وجہ سے حیاتیاتی تنوع میں کمی ہوتی جارہی ہے ۔ پڑھتی ہو ئی انسانی آبادی اقتصادی ترقی کی وجہ سے ملک کے قدرتی وسائل پر دباؤ میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملک میں ناقص اقتصادی منصوبہ بندی کی وجہ سے ملک خدا داد میں امیر و غریب کے درمیان طبقاتی فرق کو مزید زیادہ کر دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے غریب اپنی زندگی بسر کر نے کے لئے قدرتی وسائل استعمال کر نے پر مجبور ہے جن علاقوں میں زندگی کی بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں وہاں قدرتی وسائل کو بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کی وجہ سے ملک میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی حد سے زیادہ چرائی کی وجہ سے زمین کی کٹاؤ اور بے دریغ شکار جیسے مسائل نے حیاتیاتی تنوع کو تباہی کی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔
پاکستان میں جنگلات پر مشتمل علاقے کا کل رقبہ 5.4%ہے ۔ اس کے باوجود جنگلات کی تباہی تیز رفتاری سے جا ری ہے ۔ ہماری بڑھتی آبادی تجارتی مقاصد کے لئے عمارتی لکڑی کا استعمال ، ایندھن وغیرہ حیاتیاتی تنوع پر بری اثرات مرتب ہو تے ہیں کیونکہ اس سے ما حولیاتی نظام تباہ ہو تا ہے ۔
پاکستان میں خاص کر ضلع چترال میں جنگلی جا نوروں اور پرندوں کا شکار ایک پرانی روایت ہے ۔ اس بے دریغ شکار کی وجہ سے بہت نیاب جانوروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے ۔ مختلف انواع کے حیاتیاتی تنوغ خاص کر مار خور ، تیتر ، چکور وغیرہ نا پیدہو نے کے خطرے سے دو چار ہیں ۔
جنگلی حیات کے انتظام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے ذمے ہے ۔ بقائے ماحول سے متعلق کئی قوانین بھی موجود ہیں ۔ جن کی اطلاق مختلف شعبوں پر ہو تا ہے ۔ پا کستان میں اسی لحاظ سے وایلڈ لا ئف کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ جس کا مقصد جنگلات و جنگلی حیات کا تحفظ اور حقوق وغیرہ شامل تھے ۔ جس میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ما حول کی بہتری ہے ۔ تاہم یہ ادارے اپنی اسی مشن اور وژن میں ابھی تک کوئی خاص کار کر دگی نہیں دیکھا سکے ہیں ۔
پاکستان میں کئی نیشنل پا رک مو جود ہیں ۔ جن کی انتظام کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے ۔ اگر موجو دہ حکومت اس شعبے میں اپنی دلچسپی ظاہر کر ے اور مختلف علا قوں میں شکار پر پابندی کے قوانین کا نفاذ کر ے تو کسی تک ہم حیا تیاتی تنوع کی تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔


شیئر کریں: