Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 25 منصوبوں کی منظوری دیدی ہے

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا (PDWP) نے 56714.180 ملین روپے لاگت کے 25 ۔منصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ یہ منظوری ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزادخان بنگش کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں دی گئی۔ جس میں اس کے ممبران سیکرٹری محکمہ منصوبہ سازی وترقی شہاب علی شاہ اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف شعبوں سے متعلق 32 ۔پراجیکٹس پر تفصیلی غور وخوض کے بعد25 ۔منصوبوں کی منظوریا ں دی گئیں۔ جن میں صوبے کی ترقی کے لئے صحت، داخلہ ،پانی ،خوراک ،بورڈ آف ریونیو،امداداوبحالی، بلدیات، ابتدائی اورثانوی تعلیم، اعلیٰ تعلیم ،کھیل اورسیاحت، DWSS ،سڑکوں اورپلوں اورعمارتوں کے شعبے شامل ہیں جبکہ سات پراجیکٹس کوغیر موزوں ڈیزائن کے باعث مؤخر کردیاگیا۔تفصیلات کے مطابق اس موقع پر صحت کے شعبے میں ’’حیات آبادمیڈیکل کمپلیکس (HMC) پشاور میںآرتھوپیڈک اینڈ سپائن سرجری بلاک اور دیر پایان میں تیمرگرہ میڈیکل کالج کے قیام‘‘ کے دوالگ الگ منصوبوں کی منظوریاں دی گئیں۔داخلہ کے شعبے میں یو این ڈی پی کی امدادسے ’’قانون کی حکمرانی کے استحکام کے پراجیکٹ(SRLP) ‘ جبکہ خوراک کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں DFCs ،AFCs اور فوڈ انسپکٹرز کے لئے رہائشی اپارٹمنٹس (2 ۔3 کمرے )کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوریا ں دی گئی ۔اسی طرح بورڈ آف ریوینوکے شعبے میں ’’لینڈ ریکارڈ مینیجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ٹرن کی سلوشن)اورریلیف اینڈ ری ہیبیلیٹیشن کے شعبے میں ’’ ضلع کرک میں ایمرجنسی ریسکیو سروس(Rescue 1122) کے قیام ‘‘ضلع ہنگومیں ایمرجنسی ریسکیو سروس(Rescue 1122) کے قیام جبکہ بلدیات کے شعبے میں ’’ضلع ایبٹ آبادمیں ٹھنڈیانی ،خانس پور اور چھانگہ گلی گلیات میں ایک ایک یعنی پانی کی فراہمی کی تین سکیموں کے قیام‘‘ کے منصوبوں کی منظوریا ں دی گئیں۔
اسی طرح ابتدائی وثانوی تعلیم کے شعبے میں منظورکردہ منصوبوں میں خیبرپختوخوا (فیزI ) میں 200 ہائیرسیکنڈری سکولوں کو معیاری بنانا اورضلع مردان پی کے۔27 میں جی جی ایچ ایس ایس تورڈھیری محمد غنی کلی، ضلع مردان پی کے۔25 میں گورنمنٹ ہائیرسیکنڈری سکول باجوڑ کلی تارومیرہ چتالئی ،ضلع ملاکنڈ پی کے۔ 98 میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خانوری،ضلع کرک پی کے ۔41 میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈر ی سکول سراج خیل اور ضلع پشاور پی کے۔5 میں گورنمنٹ گرلزہائیرسیکنڈری سکول تہکال بالااور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں منظورکردہ منصوبوں میں خیبرپختونخوا میں سرکاری کالجوں کے لئے فرنیچر پلانٹ ،مشینری اورلیب کے آلات وغیرہ کی خریداری اور پی کے۔26 مردان میں گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرگڑھی کاقیام شامل ہے۔ اسی طرح کھیل اورسیاحت کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں ناران ،کالام، بونیر، چترال ایریا ڈویپلمنٹ پراجیکٹ ،یوتھ ڈویلیپمنٹ پیکج اورٹورازم پالیسی کے تحت نئے اقدامات شامل ہے۔ اسی طرح DWSS کے شعبے میں منظوکردہ منصوبوں میں ضلع سوات میں پی کے۔86 میںWSS سکیم اورڈسٹری بیوشن کے کام شامل ہیں۔ سڑکوں کے شعبے میں منظورکردہ منصوبوں میں ضلع کوہاٹ میں گلشن آباد تاجنانہ مل براستہ ہنگو پھاٹک کی بہتری اوربحالی ،جنانہ مل تاکوہاٹ یونیورسٹی (انڈس ہائے وے جنکشن)(17.90km) پرانے بنوں روڈ کو دورویہ بنانااورجرمہ کوہاٹ میں نئے پل کی تعمیر شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع بنوں میں باران ڈیم تاجانی خیل اور میریان پولیس اسٹیشن تا ہاوید(Hawed) روڈ کی دوبارہ بحالی اور پختہ بنانا شامل ہیں۔ ضلع بنوں پی کے ۔72 میں ہندی خیل ہوید روڈکی فزیبیلٹی سٹڈی اور تعمیر شامل ہیں۔ ضلع مانسہرہ میں اوگی تا اہل ملکان پل کلبان شکور گلی اورلال ولی ،شاہ کوٹ چلندرین اور جش کوٹ، چھتر،ریترا،خبل، نمبل گلی بنگلہ، خبل نزد ہیڈ کوارٹر ملائک فضل ،پٹرین۔ پٹرین،مور کانگن شریف، چپر ابالا اورپایان جچہ چاجری روڈ کی تعمیراور بحالی شامل ہیں۔ ضلع بنوں(فیزII )میں ہنگو سمانہ مین روڈ (7 کلومیٹر) کی فزیبیلٹی سٹڈی ڈیزائن اور تعمیر/ بحالی شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع بٹگرام میں کانجابوڑی ،کاکڑشنگ ،بانڈہ اخون زدگان، شاڑی خوڑالائی میںآرسی سی پلوں کی فزیبیلٹی سٹڈی ڈیزائن اورتعمیر اوربٹگرام پیمل روڈ(12 کلومیٹر) کی مرمت شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع ابیٹ آباد میں گلدوک دمتھوڑ ایبٹ آباد، بیر بانڈہ نبی روڈ ،میرہ مظفر روڈ، لوئر اسلام کوٹ روڈ، بوجی روڈ، میر پورہ روڈ ،بلولیا/ دانہ روڈ، منڈروچ اورمنڈروچ کالن فقیر بانڈی روڈ میںآر سی سی پلوں کی تعمیر شامل ہیں جبکہ ضلع ڈی آئی خان میں سیلاب سے بچاؤ کے کام اورنقصان زدہ دریا خان پل ڈی آئی خان تک کی بحالی شامل ہیں۔ عمارات کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں مردان ،بنوں اورچترال میں مواصلات وتعمیرات اورپبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے دفاتر اوررہائشی کمپلیکسز کی فیزابیلیٹی سٹڈی اور تعمیر شامل ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
5934