Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملاوٹ کی وباء …………..محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پشاور میں شیر فروشوں کی شامت آگئی۔ شہر بھر میں دودھ بیچنے والوں کی دکانوں سے بارہ سو نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں ان کا ٹیسٹ کیا گیا تو ساڑھے سات سو سے زیادہ نمونے آلودہ نکلے ۔ ان میں مختلف کیمکل شامل کرنے کی تصدیق ہوگئی۔ ضلعی انتظامیہ نے 70فیصد سے زیادہ دودھ کے نمونے ملاوٹ شدہ ثابت ہونے پر شیرفروشوں کے خلاف مہم تیز کردی ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات پر ٹسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ ہو رہی ہے لیکن ملاوٹ کا کاروبار تھمنے میں نہیں آرہا۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے گائے بھینسوں کو دودھ کی مقدار بڑھانے والا انجکشن لگانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔تاہم دودھ میں پانی ملانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی کوئی کاروائی شروع ہوسکی ہے۔ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ ان پر قانون کی سختی کے ذریعے قابو پانا کافی مشکل ہوتا ہے۔کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہمارے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ کیونکہ دولت ہی آج عزت، وقار، دبدبے اوراثرورسوخ کا معیار بن چکا ہے۔دولت ہاتھ میں ہو۔ تو قانون بھی آپ کے گھر کی لونڈی بن جاتی ہے۔ دنیا کی ہر آسائش دولت سے ہی حاصل ہوتی ہے اور ہر خواہش دولت کی چمک سے ہی پوری کی جاسکتی ہے۔ عظمت اور بڑائی کا معیار بھی اب دولت کی ریل پیل، لمبی گاڑیاں، پرشکوہ بنگلے اور زرق برق لباس بن چکے ہیں۔دولت حاصل کرنے کے لئے کوئی دودھ میں کیمیکل اور پانی ملاتا ہے تو کوئی چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملاکر بیچتا ہے۔ کوئی مصالحوں میں اینٹیں پیس کر ملاتا ہے تو کوئی آٹے میں برادہ اور چوکر ملاتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے دکاندار آپ کو بتاتا تھا کہ اصلی چیز لینی ہے تو پچاس روپے کلو میں ملے گی اگر دو یا تین نمبر کا مال لینا ہے تو وہ سستا مل سکتا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ یہ وضاحت بھی ناپید ہوگئی اور دو نمبر مال بھی ایک نمبر کے بھاو بکنے لگا۔ خریدار کو تو معلوم نہیں ہوتا کہ اپنا اصلی روپیہ دے کر وہ نقلی مال خرید رہا ہے لیکن بیچنے والا بخوبی جانتا ہے لیکن زیادہ منافع حاصل کرنے کا شوق اس کے ضمیر کو تھپکی دے کر سلادیتا ہے کہ ساری دنیا یہی کام کر رہی ہے تم بھی کروگے تو اس میں کیا برائی ہے۔اپنے اساتذہ، بزرگوں اورجید علمائے کرام سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ آپ لاعلمی میں کوئی حرام چیز کھالیتے ہیں تو وہ آپ کے لئے حلال ہوتی ہے۔ لیکن دیکھ بھال کے ، جان بوجھ کے اور سوچ سمجھ کے حرام چیز کو حلال قرار دے کر کھائیں تو حرام خوری کا گناہ سرزد ہوتا ہے۔ اور حرام مال کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بندہ ایک دفعہ چکھ لے۔ تو اس کا خوگر ہوجاتا ہے۔ جب حرام نوالہ حلق سے اترے تو اس سے پیدا ہونے والا خون بھی آلودہ ہوتا ہے۔بچے بھی جب وہی نوالہ کھاتے ہیں ۔ تو ان کی سرزشت بھی بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ماں کی نافرمانی کرتا ہے۔ باپ کے ساتھ لڑ پڑتا ہے۔ والدین کو بوجھ سمجھتا ہے۔ بات بات پر انہیں ٹوکتا ہے۔ نوجوان بے راہروی کا شکار ہورہے ہیں۔ خراب ماحول میں بیٹھتے ہیں۔ خاندان کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ان تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ حرام کی کمائی ہے۔ جسے چھپانے کے لئے انسان جھوٹ بولتا ہے۔ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کو کام چوری، غیبت، بہتان طرازی، چوری چکاری، رہزنی، بدکاری اور دروغ گوئی گناہ نہیں لگتے۔قصور میں سات سالہ زینب، مردان میں چار سالہ عاصمہ اور چارسدہ میں سریر خان کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ یہ سب کچھ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ جرائم دنیا کے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ غیر اسلامی معاشروں میں جرائم کا ارتکاب ہونا اس وجہ سے تعجب خیز نہیں کہ وہ دینی اور اخلاقی اقدار سے نابلد ہیں ان کے سامنے کوئی رول ماڈل موجود نہیں۔لیکن اسلامی معاشرے میں بسنے والوں کے پاس تو اسوہ حسنہ کی صورت میں زندگی گذارنے کی بہترین مثال موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم سے انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے تو یہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ہم راہ راست سے بھٹک چکے ہیں۔حرام اور حلال کا فرق بھلا چکے ہیں۔ تجارت جیسے پیغمبرانہ پیشے سے منسلک ہوکربھی بددیانتی کرتے ہیں۔دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں اپنے حلال رزق کو اپنے ہاتھوں دانستہ طور پر حرام بنا رہے ہیں۔ جب ہمیں خدا کا خوف نہیں، تو قانون سے کیا ڈرنا؟


شیئر کریں: