Chitral Times

Jul 17, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • قصور کی ننھی زینب کا قصور؟ ……….محمد شریف شکیب

    January 11, 2018 at 9:53 pm

    پنجاب کے شہرقصورسے تعلق رکھنے والی سات سالہ معصوم بچی زینب امین کی فائل فوٹو اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پڑی اس کی لاش کی تصویردیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ زینب کے والدین بچوں کو ان کے چچا کے گھر چھوڑ کر عمرہ ادا کرنے گئے تھے۔ ننھی زینب چار کلمے یاد کرچکی تھی۔ پانچواں کلمہ پڑھنے کے لئے معمول کے مطابق گھر سے نکلی۔ اور لاپتہ ہوگئی۔ چچا نے پولیس میں رپورٹ درج کرادی۔ پولیس نے ایک ماہ کے دوران اسی نوعیت کے درجن بھر کیسز میں ملزموں کا سراغ لگانے کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بھی بنادی۔ چار دن بعد زینب کی تلاش پر مامور پولیس اہلکار کو کسی نے اطلاع دی کہ کچرے کے ڈھیر پر ایک بچی کی لاش پڑی ہے۔علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس پولیس اہلکار نے زینب کی لاش ڈھونڈ لی تھی انہوں نے زینب کے چچا سے چھ ہزار روپے انعام بھی لیا۔چشم تصور سے دیکھا جائے کہ اجتماعی زیادتی کے دوران ننھی زینب پر کیا گذری ہوگی۔تواس تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے ۔زینب کی سانسیں جب اکھڑ رہی تھیں تو آسمان کیوں نہ رویا۔زمین کیوں نہیں پھٹی ۔ اس سانحے کے بعد اگر وہ زندہ بھی رہتی تو زندہ لاش بن کر جیتی۔ پولیس کہتی ہے کہ قصور میں گذشتہ ڈیڑھ سالوں سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انہیں جان سے مارنے کے واقعات تواتر سے رونما ہورہے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ کوئی ایک جنونی اور اذیت پسندشخص ہے۔زینب کی عمر کی بچیاں پاکستان کے تقریبا ہر گھر میں موجود ہیں۔ جس نے بھی یہ دردناک کہانی سنی یا دیکھی۔ انہیں ایسا لگا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک ہوا ہے۔زینب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہمارا قومی ضمیر مردہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔کوئی نصاب تعلیم کو دہائیاں دیتا ہے۔ کوئی پنجاب پولیس کی کارکردگی پر انگلی اٹھا رہا ہے۔ کوئی کرپٹ حکومت کو واقعے کا ذمہ دار گردانتاہے۔ تو کوئی ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے والوں کو ہی موردالزام ٹھہراتا ہے کہ نہ خواتین بن سنور کر گھروں سے نکلیں ۔اورنہ ہی ہوس کے پچاریوں کی درندگی کا نشانہ بنیں۔ہم نے آزادی کے بعد بہت سے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ملک بھر میں یونیورسٹیوں، کالجوں، سکولوں، مدارس اور مساجد کا جال بچھا دیا ہے۔ لیکن انسانی قدروں کے بارے میں کسی سکول، مدرسے، کالج اور یونیورسٹی میں درس نہیں دیا جاتا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔اپنے فرقے، مسلک، عقیدے ، زبان، نسل اور قوم کے بارے میں بھی جاننے کا ہمیں شوق ہے۔ لیکن انسانیت کا سبق جو قرآن حکیم نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہمیں بتایا تھا۔ اسے یاد کرنے کی ہم نے کوئی کوشش نہیں کی۔ بیشک ہمیں بہترین مسلمان اور محب وطن پاکستانی بننا ہے مگر اس سے پہلے ہمیں بہترین انسان بن کر دکھانا ہے۔ جس دن انسانیت کا احترام کرنا سیکھ گئے۔ اس دن ہمارا ایمان مکمل ہوگا۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو یہ حدیث مبارکہ یاد ہے کہ سرکاردوعالم کو بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا تھا۔ دنیا مانتی ہے کہ خاتم النبین نے احترام انسانیت اور اخلاق حسنہ کا وہ درس دیا۔ جس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن سرور کونین کے امتی ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود ہم نے دین اسلام کا یہ اہم ترین سبق یکسر بھلا دیا ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیں اخلاقی بے راہروی، اشتعال، تشدد اور منافرت کی صورت میں ہر طرف نظر آتا ہے۔ انسانوں کی شکل میں وحشی درندے ہمیں ہرطرف دندناتے پھیرتے نظر آتے ہیں مگر انہیں پکڑنے اور سزا دینے سے قانون بھی معذور ہے۔ زینب ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی پہلی بچی نہیں۔ اس معاشرے میں جابجا ایسے مظلوم دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایسے واقعات ہر روز ملک کے کونے کونے میں رونما ہورہے ہیں۔ لیکن قوم سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس وجہ سے خاموش ہے کہ مظلوم کے لئے اٹھنے والی آواز دبادی جاتی ہے۔لیکن اس بار کراچی سے خیبر تک زینب پر ہونے والے ظلم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں جس سے یہ امید پیدا ہورہی ہے کہ شاید ہمارا ضمیر جاگ چکا ہے۔ زینب نے اپنی عصمت اور ننھی جان کی قربانی دے کر قوم کے مردہ ضمیر کو جھجھوڑ کر جگا دیا ہے۔ قصور کی ننھی زینب کا قصور کیا تھا یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ لیکن پیاری زینب۔ آپ نے قربانی دے کر قوم کو ایسا سبق دیا ہے جو بھلایا نہیں جاسکتا۔ ہم سب زینب کے مقروض بھی ہیں اور ممنون بھی۔

  • error: Content is protected !!