Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ تعلیم صرف ان سکولوں کو امتحانی ہالوں کی اجازت دے گی جہاں پر کیمرے نصب ہوں۔ عاطف

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی وزیر تعلیم و توانائی محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم صرف ان سکولوں کو امتحانی ہالوں کی اجازت دے گی جہاں پر کیمرے نصب ہوں اور وہ تعلیمی بورڈز کے ساتھ منسلک ہوں جبکہ امتحانی ڈیوٹیاں بھی بذریعہ چیک لسٹ آن لائن سسٹم کے ذریعے لگائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کا جو بھی طالب علم بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرے گا اس کو دس لاکھ روپے،دوسرے نمبر پر پانچ لاکھ روپے اور تیسرے نمبر پر آنے والے طالب علم کو تین لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔وہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اس تقریب میں 25طلباء اور طالبات کو گولڈ ، سلور اور برانز میڈلز اور سرٹیفکیٹ دئیے گئے جن میں میٹرک کی سطح پر کل چھ میڈلزدئیے گئے جن میں پانچ میڈلز طالبات جبکہ ایک میڈل طالب علم نے حاصل کیا۔اسی طرح انٹرمیڈیٹ کی سطح پر کل15میڈلز دئیے گئے جن میں پانچ میڈلز طلباء جبکہ گیارہ میڈلز طالبات نے حاصل کئے جبکہ ایک میڈل علوم شرقیہ میں طالب علم نے حاصل کیا اور دو میڈلز اتھلیٹس میں فی میل نے حاصل کئے۔ان طلباء و طالبات نے سالانہ امتحان 2016میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے مختلف گروپوں میں پوزیشنیں حاصل کیں تھیں۔ صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے پوزیشن حاصل کرنے پر طلباء اور والدین کو مبارکباد دی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد عاطف خان نے کہا کہ ہم نے تعلیمی کوالٹی کی بہتری کیلئے STEM ایجوکیشن سسٹم شروع کر دیا ہے جس کی رو سے ہم سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور میتھس کو بنیادی فوقیت دے رہے ہیں اوت تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل طریقہ کار کے ذریعے طالب علموں کو تعلیم دی جائے گی تاکہ ان کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے اور ان میں قوت ارادہ کو مزید فعالیت دی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم تعلیم کی مزید بہتری کیلئے Inclusive طریقہ تعلیم بھی متعارف کر رہے ہیں اور محکمہ تعلیم نے پرانے اور نئے سکولوں میں ریمپ اور خصوصی طالب علموں کیلئے مخصوص لیٹرین سسٹم اور دوسری ضروریات لازمی قرار دی ہیں تاکہ ان لوگوں کی تعلیم کو بھی بنیادی اہمیت دے کر ان کو بھی کارآمد شہری بنایا جا سکے۔محمد عاطف خان نے کہا کہ ہمارے طالب علم بہت زیادہ ذہین ہیں ہم نے ان کو مواقع فراہم کرنے ہیں ،جس وقت مجھے محکمہ تعلیم کا قلمدان حوالہ کیا گیا اس وقت سکولوں میں کمپیوٹر کا مضمون رٹہ سسٹم کے ذریعے یاد کروایا جاتا تھا جبکہ ہم نے 1350کمپیوٹر لیبز بنائی ہیں اور مزید بھی بنا رہے ہیں تاکہ طالب علموں کو آنے والے وقتوں اور مقابلیکے امتحانوں کیلئے تیار کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ طلباء کو مزید آسانی دینے کیلئے امتحانی بورڈز میں ہم تمام سسٹم کو آن لائن کر رہے ہیں۔اس لائن سسٹم کے ذریعے طلباء کی ڈی ایم سی ، رجسٹریشن، رزلٹ اور تمام سسٹم آن لائن ہو گا جبکہ طلباء صرف امتحانی ہال میں پرچوں کیلئے آئیں گے تاکہ شفافیت بحال ہو اور بورڈز میں نئے سافٹ وئیرز لگائیں جائیں اس سے ان کی انٹرنل شفافیت بھی یقینی ہو جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ میں جہاں بھی جاتا ہوں وہاں پر لڑکیوں کے سکولز کی ڈیمانڈ آتی ہے تاہم یہ تاثر غلط ہے کہ ہمارے صوبے میں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں پر خرچ کر رہے ہیں تاکہ ہمارا آنے والا کل روشن اور تابناک ہو۔


شیئر کریں: