Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعلیمی بورڈز کی خودمختاری پر وار ………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم ، صحت اور پولیس کے شعبوں میں اصلاحات کے لئے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن کی ضرورت کئی عشروں سے محسوس کی جارہی تھی۔ ان اصلاحات کی بدولت مذکورہ اداروں کی کارکردگی میں قدرے بہتری آئی ہے۔لیکن سو فیصد نتائج کی چار سالوں میں توقع رکھنا خود فریبی ہے۔ صوبائی حکومت کے زیر انتظام متعدد محکمے ایسے ہیں جہاں اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن صوبائی حکومت نے اب تک ان پر توجہ نہیں دی۔ اور چند شعبے ایسے ہیں جہاں اصلاحات لانے کی فوری ضرورت نہیں تھی۔ لیکن افسر شاہی نے ان شعبوں میں اصلاحات کے سیاسی فوائد گنوا کر حکومت کو شیشے میں اتار کر بوتل میں بند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جن میں تعلیمی بورڈ کا شعبہ بھی شامل ہے۔ خیبر پختونخوا کو انتظامی سہولت کے لئے آٹھ تعلیمی بورڈز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں پشاور بورڈ،سوات، کوہاٹ، ملاکنڈ، ایبٹ آباد، مردان، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان بورڈ شامل ہیں۔ پہلے صوبے کا گورنر تعلیمی بورڈز کا سربراہ ہوا کرتا تھا۔جس کی بدولت تعلیمی بورڈز کے معاملات میں سیاسی مداخلت صفر تھی۔ 2005متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے تعلیمی بورڈز کی سربراہی گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں دیدی۔ جس کے بعد تعلیمی بورڈز میں سیاسی مداخلت کے راستے کھل گئے۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ نے بعد ازاں اعتراف کیا کہ تعلیمی بورڈز کے معاملات کو چھیڑ کر انہوں نے سنگین غلطی کی ہے۔ اس قانون کے تحت سکولوں کے پرنسپلز اور کالجوں کے اساتذہ کو ڈپوٹیشن پر تعلیمی بورڈز میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جانے لگا۔ سکول اور کالج سے بورڈ میں تبادلے کے لئے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کے پاس سفارشوں کے انبار لگنے لگے۔ اس وقت تمام تعلیمی بورڈز میں بیشتر انتظامی عہدوں پر یہی ڈپوٹیشن پر آنے والے افسران براجمان ہیں۔ جس کا ایک نقصان ان تعلیمی اداروں اور طلبا کو پہنچا۔ جن کے اساتذہ ڈپوٹیشن پر جانے کی وجہ سے عہدے خالی ہوگئے اور سب سے زیادہ نقصان خود تعلیمی بورڈز کو پہنچا۔ جو آزادی سے کام نہیں کرسکتے اور ڈپوٹیشن افسروں کے ذریعے ان کے معاملات میں براہ راست سیاسی مداخلت ہورہی ہے۔ شنید ہے کہ امتحانی نظام میں اصلاحات کی آڑ میں تعلیمی بورڈز کی خود مختاری ختم کرکے انہیں ثانوی و اعلیٰ تعلیم کے ماتحت کرنے کے لئے قانون بنایا جارہا ہے۔ مجوزہ بل کا عنوان تو تعلیمی بورڈز میں اصلاحات ہی رکھا گیا ہے لیکن جن شقوں کو تبدیل کیا گیا ہے ان میں کہیں بھی نقل کے خاتمے اور بورڈ کے انتظامی امور میں اصلاح کا کوئی نکتہ نہیں ہے۔ باور یہی کیا جاتا ہے کہ میٹرک اور ایف اے ، ایف ایس سی کے امتحانات میں سرکاری سکولوں کی مایوس کن کارکردگی کی خفت مٹانے کے لئے محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار تعلیمی بورڈز کو اپنی تحویل میں لانا چاہتے ہیں تاکہ امتحانات میں من پسند نتائج حاصل کئے جاسکیں۔اور کرپشن کے لئے نئی نئی راہیں کھل سکیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ ایک طرف حکومت خراب کارکردگی کے حامل سرکاری اداروں کی نجکاری کررہی ہے دوسری جانب اچھی کارکردگی دکھانے والے خود مختار اداروں کو اپنے ہاتھ میں لینے کا پروگرام بنا رہی ہے۔ سرکاری محکموں میں اصلاحات کے حوالے سے صوبائی حکومت کی نیت شک و شبے سے بالاتر ہے لیکن تعلیمی بورڈز کی خود مختاری ختم کرکے انہیں محکمہ تعلیم کے ماتحت لانے کے حوالے سے زمینی حقائق شاید وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، وزیرتعلیم عاطف خان اور مشتاق غنی کے علم میں بھی نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمے کے نچلے درجے کے چند افسروں نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے کنسلٹنٹ کے ذریعے بورڈز میں اصلاحات کا مسودہ قانون تیار کیا ہے۔ اور حکومت کو اندھیرے میں رکھ کر اسمبلی سے اس قانون کی منظوری لینے کی تیاریاں ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور معیار بہتر بنانے کے دیگر کئی طریقے ہیں۔ حکومت سرکاری سکولوں اور کالجوں پر سالانہ قوم کے ٹیکسوں کے اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ اگر بورڈ کے امتحان میں وہ نجی تعلیمی اداروں کا مقابلہ نہیں کرپاتے ۔تو تدریسی نظام میں نقائص ہوں گے جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ شارٹ کٹ لے کر بورڈ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہوسکتا۔ وزیراعلیٰ اور وزیرتعلیم کو مجوزہ بل منگوا کر پڑھ لینا چاہئے کہ اس قانون سے نقل کی روک تھام اور بورڈز کی کارکردگی کا معیار بہتر ہوگا یا سیاسی مداخلت کی نئی راہیں کھلنے سے معماران قوم کا استعداد جانچنے والے ادارے کا حلیہ بگڑ جائے گا۔چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔


شیئر کریں: