Chitral Times

May 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئمہ کو اعزازیہ دینے کی پالیسی……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھرکی جامع مساجد کے آئمہ کرام اور خطباء کے لئے ماہانہ دس ہزار روپے اعزازیہ مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اعزازیہ سے وہی آئمہ مستفید ہوسکتے ہیں جو پاکستانی شہریت رکھتے ہوں، دینی علوم کے کسی مستند بورڈ سے سند یافتہ ہوں اور جامع مساجد میں امام کے منصب پر فائز ہوں۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس حوالے سے محکمہ خزانہ کو فنڈز کا بندوبست کرنے اور سمری تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ علمائے کرام کو اعزازیہ ان کی دینی خدمات کے اعتراف اور تکریم کے جذبے کے تحت دیا جارہا ہے۔ تاکہ وہ مالی مشکلات سے بے نیاز ہوکر دین کی مزید بہتر خدمت کرسکیں۔حکومت مخالف دینی جماعتوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے آئمہ کرام کے لئے اعزازیہ مقرر کرنے کے فیصلے کو سیاسی رشوت سے تعبیر کیا ہے ۔اور بعض حلقوں نے اسے دانستہ فضول خرچی قرار دیا ہے۔ لیکن خدا واسطے کی بات یہ ہے کہ جامع مساجد کے آئمہ کرام کے لئے اعزازیہ مقرر کرنا موجودہ حکومت کا ایسا فیصلہ ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ صوبہ بھر میں جامع مساجد کے آئمہ کی تعداد چند ہزار ہی ہوسکتی ہے۔ انہیں اعزازیہ دینے سے قومی خزانے پر زیادہ بوجھ نہیں پڑتا۔ تاہم ہزاروں خاندانوں کی مالی مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔ کسی مسجد کے پیش امام کا تعلق اشرافیہ طبقے سے نہیں ہوتا۔ یہ لوگ دینی مدارس میں مفت تعلیم حاصل کرنے کے بعد فی سبیل اللہ دینی خدمات انجام دیتے ہیں۔ نماز کی امامت کے علاوہ وہ علاقے کے ہر خاندان کی غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ جس کا وہ کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ مساجد میں امام اور موذن کے لئے مقتدیوں کی طرف سے وظائف مقرر ہیں۔لیکن ان کی مقدار اتنی قلیل ہوتی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں کسی خاندان کا مہینے بھر کا گذارہ ان وظائف سے نہیں ہوتا۔ اگرچہ صوبائی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ دس ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ سے آئمہ اور خطباء کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ تاہم انہیں آمدن کا ایک مستقل ذریعہ مل جائے گا۔ جس سے ان کی مالی مشکلات میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت کے ہر کام اور فیصلے کو سیاسی ترازو میں تولا جاتا ہے۔ جب تک اپنا مفاد اس میں نظر نہ آئے۔ ایسے فیصلوں کی ہرممکن طریقے سے مخالفت کی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے آئمہ کے لئے اعزازیہ مقرر کرنے سمیت متعدد ایسے فیصلے کئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے سیاسی مخالفین پریشان ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اعزازیہ وصول کرنے والے مولوی حضرات نہ صرف خود اور اپنے خاندان کے ہمراہ برسراقتدار جماعت کی حمایت کرسکتے ہیں بلکہ اپنے مقتدین کو بھی تحریک انصاف کی حمایت پر آمادہ کرسکتے ہیں ۔حالانکہ یہ دلیل زیادہ قوی نہیں۔ کیونکہ نظریاتی وابستگی رکھنے والے لوگ عارضی فائدے پر نظریے کو کبھی قربان نہیں کرسکتے۔تاہم یہ بھی اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی دینی یا سیاسی جماعت سے وابستگی دنیاوی فائدے اور مفاد کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔ کوئی بھی سیاسی یا دینی جماعت یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یوم حساب پر اپنے حامیوں کے گناہ معاف کراسکتی ہے اور انہیں براہ راست جنت میں جانے کا ون وے ٹکٹ دلاسکتی ہے۔ جو بھی مشکل وقت میں آپ کے کام آتا ہے۔ آپ کے مسائل کے حل کی فکر کرتا ہے۔ آپ کی بات سنتا ہے۔ آپ کو عزت دیتا ہے۔ وہی آپ کی پارٹی ہے۔ سیاسی وابستگیاں وقت اور حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ہمارے چاروں طرف جابجا ایسے خاندان آپ کو نظر آئیں جہاں ایک بھائی پیپلز پارٹی، دوسرا مسلم لیگ، تیسرا جے یوآئی، چوتھا اے این پی کا کوئی عہدیدار ہے اگر خوش قسمتی سے پانچ یا چھ بھائی ہیں تو وہ آپس میں پارٹیاں تقسیم کرتے ہیں یوں جس پارٹی کی بھی حکومت آئے۔ وہ خاندان اقتدار میں ہوتا ہے۔ اعزازیہ کے حوالے سے صوبائی حکومت کو ایک مشکل پیش آسکتی ہے کہ جامع مسجد کے امام کی شرط کے باعث تمام مساجد کے باہر ’’جامع مسجد ‘‘کے بورڈ لگ سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ سیدھا سادہ فارمولہ ہے کہ جس مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی جاتی ہے وہ جامع مسجد ہے۔ توقع ہے کہ آئمہ کو اعزازیہ کے اجراء کے بعد صوبہ بھر میں ہزاروں نہیں تو کم از کم سینکڑوں جامع مساجد کا اضافہ ہوگا۔ اور لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب جمعہ کی نماز پڑھنے کی سہولت مل جائے گی۔اور یہ سہولت بھی تحریک انصاف کے کھاتے میں شمار ہوگی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
3801