- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

گلالئی کی نئی جماعت……. محمد شریف شکیب

پاکستان تحریک انصاف کی منحرف رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے پی ٹی آئی عائشہ گلالئی کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنانے کافیصلہ کیا ہے۔جس کا باضابطہ اعلان انتخابی سال کے پہلے مہینے میں کیا جائے گا۔ عائشہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے پارٹی کے جن وفادار کارکنوں کو دیوار سے لگایا ہے۔ انہیں نئی پارٹی کا پلیٹ فارم فراہم کیاجائے گا۔نوشہرہ میں پریس کانفرنس کے دوران اپنی الگ پارٹی کا اعلان کرتے ہوئے عائشہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے چار سال کا عرصہ عوام کی خدمت کرنے کے بجائے دھرنوں میں ضائع کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی پرویز خٹک اور مرادعلی شاہ سے بدرجہ ہا بہتر ہے۔ حال ہی میں پارٹی قیادت سے اختلافات کے باعث پی ٹی آئی سے الگ ہونے والی خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی خواتین کے لئے مختص نشست پر پارٹی کی طرف سے منتخب ہوئی تھی۔ اصولی طور پر انہیں تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کے بعد ان کی دی ہوئی نشست کا تحفہ بھی واپس کرنا چاہئے تھا۔ مگر انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے سے صاف انکار کردیا۔ اب اپنی پارٹی کا نام بھی تحریک انصاف سے جوڑ کر انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی ہمدردیاں اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔نئی سیاسی پارٹی اگرچہ ابھی تک الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہوئی۔ تاہم اس کے اعلان سے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کرگئی ہے۔ جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پھل پھول رہی ہے۔ اگر ہمارے ہاں جمہوری اقدار کو فروغ نہیں مل سکا۔ تو کیا ہوا۔ پارٹیاں بنانے میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ہر سال چار چھ نئی پارٹیاں معرض وجود میں آتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اب بھی جمہوری نظام سے مایوس نہیں ہوئی۔جہاں تک بڑی پارٹیوں کی ذیلی شاخون کا تعلق ہے۔ یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا۔ 1906کو آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے سر سلطان محمد شاہ، نواب محسن الملک ، نواب وقار الملک اور سر ظفر اللہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے جو سیاسی جماعت بنائی تھی۔ وہ 1947میں ہجرت کرکے پاکستان آگئی اور آل پاکستان مسلم لیگ بن گئی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگ نے اپنی دیگر جمہوری ذمہ داریاں چھوڑ دیں اور بچے دینے کا کام شروع کردیا۔ اب مسلم لیگ کے نام سے درجن بھر جماعتیں بن چکی ہیں۔ اور اصل مسلم لیگ درمیان میں کہیں غائب ہوگئی۔ 1969میں اس وقت کے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے تاشقند معاہدے پر صدر ایوب سے اختلافات کی وجہ سے اپنی الگ سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بنائی۔ بھٹو جب تک حیات تھے۔ ان کی پارٹی کا بٹوارہ نہیں ہوا۔ بعد میں دانستہ طور پر اسے توڑ کر مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا۔ مگر مرکزی پارٹی اپنا وجود اب تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ مختلف مذہبی، لسانی اور علاقائی پارٹیاں بھی بنتی رہیں اور ان کے بچے بھی پیدا ہوتے رہے۔96 19میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ملک کے اکلوتے کینسر اسپتال کے بانی عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے پارٹی بنالی۔جس کا منشور پسے ہوئے عوام کو انصاف فراہم کرنا اور فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا رکھا گیا۔ پی ٹی آئی نے 2008کے انتخابات کا بائی کاٹ لیا۔ 2011میں خود کوپھرسے فعال کیا اور 2013کے انتخابات میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔ جس نے نہ صرف قومی اسمبلی کی 32نشستیں حاصل کیں بلکہ خیبر پختونخوا میں دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنی حکومت بنالی۔آج قومی سطح پر پی ٹی آئی ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ عائشہ گلالئی کو بھی مرکزی دھارے سے الگ ہونے والی پارٹیوں کے انجام کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ جس کی طرف شاعر مشرق نے بھی اشارہ کیا تھا کہ موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔ پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر عوامی مقبولیت حاصل کی تھی۔ اگر پی ٹی آئی عائشہ کو قومی سیاسی دھارے میں اپنی جگہ بنانی ہے تو عائشہ گلالئی کو ایسا منشور قوم کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔جو آج تک کسی جماعت نے پیش نہیں کیا۔ تحریک انصاف کا دم چھلہ بننے سے ریکارڈ میں نام لانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔