Chitral Times

May 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پسماندہ چترال کی ایک نشست کو ختم کرنا علاقے کے عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے ۔حاجی محمد ظفر دوبئی

Posted on
شیئر کریں:

دوبئی ( نمائندہ چترال ٹائمز ) دوبئی میں مقیم معروف سماجی شخصیت و اورسیز چترالیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ظفر نے چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کو ختم کرنے کی خبر پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ چترال ٹائمز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چترال کی نصف سے زیادہ آبادی محنت مزدوری اور تعلیم کی غرض سے ملک سے باہر یا ملک کے دوسرے حصوں میں مقیم ہے ۔ جن کی غیر موجودگی میں مردم شماری کرکے انھیں ضلع سے باہر دیکھا یا گیا ۔ جس کی وجہ سے آبادی حکومت کو کم نظر آئی ۔ جبکہ چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے ۔ 14850مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی چترال ضلع کیلئے ایک ممبر صوبائی اسمبلی دینا ہمارے ساتھ انتہائی زیادتی ہوگی ۔ انھوں نے بتایا کہ چترال 1969تک دو اضلاع پر مشتمل ایک الگ ریاست تھی ۔جب سے ہم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ہے ۔ حکمرانوں کی طر ف سے چترال کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ جبکہ چترال کے عوام واحد محب وطن باسی ہیں جو70سال تک ملک سے کٹے رہنے کے باوجود پاکستان زندہ باد ، پائندہ باد کے نعرہ لگاتے رہے ہیں ۔ آج اس کا صلہ صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ کو ختم اور قومی اسمبلی کی سیٹ کو کسی دوسرے اضلاع کے ساتھ ضم کرکے دیا جارہا ہے ۔جو چترال کے عوام کو ہرگز قبول نہیں ۔ حاجی ظفر نے حکمرانوں کی دوغلی پالیسی پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت آبادی کو کم کرنے کیلئے مختلف طریقوں سے کوشش کررہی ہے تو دوسری طرف کم آبادی کو بہانہ بناکر چترال کی ایک نشست کو کم کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چترال کی ایک کونہ افغانستان سے دوسرا حصہ ویخان کی پٹی سے جڑی ہوئی ہے ۔ جبکہ ایک ممبر صوبائی اسمبلی کیلئے چترال کے ایک کونے سے دوسرے کونا پہنچا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ انھوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی طرف سے گزشتہ دنوں نے پسماندہ چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے اعلان پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی اور دروش و موڑکہو تورکہو کو الگ الگ تحصیل کا درجہ دینے پر مذید دو نشستوں کی توقع کے ساتھ قومی اسمبلی کی بھی ایک اضافی نشست کی توقع کی جارہی تھی ۔ مگر اب کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق ضلعے کی خوش خبر ی پر بھی ماند پڑ گئی ہے۔ انھوں نے چترال کے سیاسی عمائدین سے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کے بجائے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنے اور نشستوں کی کمی کے خلاف سپریم کورٹ تک رجوع کرنے کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دوبئی میں مقیم تمام چترالی اس کے خلاف آواز اُٹھانے کیلئے تیار ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کی  بھی یقین دہانی کی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
3634