Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مسائل اور سیاسی جماعتوں کا رویہ………تحریر:ولی اللہ چترالی

Posted on
شیئر کریں:

مجموعی طور پر چودہ پزار آٹھ سو پچاس کلومیٹر ایریا پر پھیلا ضلع چترال جو حال ہی میں صوبائی حکومت کے اعلان کی حد تک دو ضلعوں میں تقسیم ہو چکا ہے، کی قومی اسمبلی میں ایک اور صوبائی اسمبلی میں دو سیٹیں موجود ہیں۔  چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کے بعد عوامی سطح پر (انتظامی فارمولے سے قطع نظر) امید ہو چلی تھی کہ اب قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں بھی بڑھ جائیں گی لیکن گزشتہ روز چترال کے عوام کو دس ہزار واٹ کا جھٹکا اس وقت لگا جب  سننے میں آیا کہ الیکشن کمیشن کی تازہ ہدایات کی روشنی میں چترال کی صوبائی اسمبلی ایک سیٹ کم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جبکہ چترال کے سیاسی بزرجمہر ان افواہوں کے بعد بھی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موقع پر چترال میں عوامی نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہو کر اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ فیصلہ اگر واقعی ہوچکا ہے تو یہ صوبائی یا وفاقی حکومت کا نہیں، بلکہ راست الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہے، سو کسی بھی سیاسی جماعت کو اس معاملے میں بلیم کرنا درست نہیں ہے۔
اگر ہم نے اس خالص عوامی اور مشترکہ مسئلے پر بھی بجائے متفقہ آواز اٹھانے کے باہمی مخالفت کی روش جاری رکھی تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ موقع ہم کھو دیں گے اور اس کا بھگتان ہم تو بھگتیں گے ہی، اس جرم پر آئندہ نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ ہم ایک بیک ورڈ علاقے کے باسی ہیں، جتنے کچھ حقوق ہمیں حاصل ہیں یہ یا خود ریاست کی ضرورت ہیں یا پھر گزشتہ ادوار میں ایک آدھ حکمران کی خصوصی عنایت کا کرشمہ ہے، جن میں شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں۔
 چترال کی آبادی کم ضرور ہے لیکن رقبہ اتنا بڑا ہے کہ بجا طور پر چترال کو “خیبر پختون خوا کا بلوچستان” کہا جا سکتا ہے۔ صرف آبادی کو ہی وسائل کی تقسیم کا واحد معیار بنا لیا جائے تو بہت سے ایسے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں جن کا جواب مقتدرہ کے پاس نہیں ہوگا۔ ملک میں کئی دوسرے علاقے ایسے ہیں جہاں آبادی کا تناسب چترال سے بھی کم ہے، مگر ان کی عوامی نمائندگی آج بھی چترال سے زیادہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت چترالی سیاسی وابستگیوں سے بلند ہو کر متفقہ طور پر بھرپور آواز اٹھائیں۔ خصوصا پی ٹی آئی کے رہنماوں کو اس سلسلے میں ایک قدم آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ صوبے میں ان کی حکومت ہے ورنہ چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرکے چترالی عوام پر انہوں نے جو احسان کیا ہے اس کا بھی اثر جاتا رہے گا۔۔
اس سلسلے میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کوئی ایک جماعت آگے بڑھ کر سیٹ کم کرنے کے معاملے سمیت چترال کے دیگر مسائل اور حقوق پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے اور اس میں تمام مسائل کے حل لئے اتفاق و اتحاد پیدا کیا جائے۔ ابتدا گھر سے ہونی چاہئے، اس لئے میں اپنی جماعت جمعیت علماء اسلام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صدق دل سے پہل کرتے ہوئے اے پی سی بلا کر عوام کی امنگوں کو متفقہ و مشترکہ شکل دے۔۔۔

شیئر کریں: