Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد ……….ہرزہ سرائی یا حقیقت؟……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

Posted on
شیئر کریں:

پاکستانی اخبارات میں امریکی وزیرِخارجہ ریکسن ٹیلرسن کے بیان کو ہرزہ سرائی اور یا وہ گوئی کا نام دیا جارہا ہے حالانکہ اُنھوں نے سچائی بیان کی اور حقیقت کا کھل کر اظہار کیا یہ بات سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے دوسرے الفاظ میں کہی تھی واشنگٹن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِخارجہ نے کہا ہے کہ’’ طالبان کا رُخ پاکستان کی طرف بھی ہوسکتا ہے وہ اسلام آباد پر بھی قبضہ کرسکتے ہیں‘‘

فروری 2009ء میں وزراتِ خارجہ کا قلمدان سمبھالنے کے بعد سینیٹ کی خارجہ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے سابق امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ’’طالبان اور دوسرے نان اِسٹیٹ ایکٹرز کو یکدم ختم کرنا ممکن نہیں ہوگاہماری سابقہ حکومتوں نے اِن پر سرمایہ لگایا ہے اِن کو تربیت دی ہے اور ان کی ہر طرح سے دلجوئی کی ہے‘‘2001ء میں جنوبی وزیرستان آپریشن کی بات ہورہی تھی ایک خبر رساں ادارے کے اہلکا ر نے وانا میں اُس وقت کے دبنگ (آج بھی دبنگ )پولیٹکل ایجنٹ سے سوال کیا ’’تم طالبان کو ختم کیوں نہیں کرتے؟‘‘نوجوان اور خوبرو پولیٹیکل ایجنٹ نے شائستہ انگریزی میں جواب دیا’’بیس سال پہلے سرکاری پالیسی اِن کو اندر لانے کی تھی یہ لوگ ہماری دعوت پر آئے تھے اب انہوں نے شادیاں کی ہیں گھر بسائے ہوئے ہیں ان کے پوتے پوتیاں کھیل کود کی عمر میں ہیں ہم ایک سہانی صبح یا سہانی شام کو کیسے کہہ دیں کہ سرکارکی پالیسی بدل گئی تم واپس جاؤ‘‘دو گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ پولیٹیکل ایجنٹ کا تبادلہ ہوا مگر آپریشن مؤخر کردیا گیایہ حقائق ہیں اِن کو ہرزہ سرائی کا نام نہیں دیا جاسکتا اگر ہم سچ بولنے اور سچ بات سننے کی تاب نہیں رکھتے تو یہ ہمارا نفسیاتی مسئلہ ہے ہماری اپنی کمزوری ہے اِس میں امریکیوں کا کوئی قصور نہیںیہ بھی ہماری نفسیاتی کمزوری ہے کہ ہم نے طالبان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک حصے کو اچھے لوگ اوردوسرے حصے کوبُرے لوگ کا نام دیا ہے حالانکہ حقیقت میں نہ کوئی اچھا ہے اور نہ کوئی بُراسب اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر ہیں افغانستان پر امریکی تسلط اور امریکی قبضے کو مستحکم کرنے کے کیلئے دونوں گروہ کام کررہے ہیں ہم جن کو اچھا کہتے ہیں وہ بھی امریکہ کے سہولت کا ر ہیں ہم نے جن کو ’’ بُرے لوگ‘‘ کا نام دیا ہے وہ بھی امریکی فوج کا ہراول دستہ ہیں اگر امریکی فوج کی صف بند ی کو دیکھا جائے تو پہلی صف اُن لوگوں کی ہے جو داڑھی اور بال بڑھاکر جہاد کے نغمے اور جنگی ترانے گاتے ہوئے آجاتے ہیں دوسری صف اُن کی ہے جو ڈین کور،زی ورلڈ وائڈوغیرہ کے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں تیسری صف میں امریکی فوج لڑتی ہے جنگی سپہ سالار نے افغانستان، پاکستان، بھارت ، ازبکستان، تاجکستان،سعودی عرب، چچنیا اور دوسرے ملکوں سے بھرتی ہوکر آنے والوں کو پہلی صف میں رکھا ہے اُن کے بعد پیشہ ور ٹھیکہ دار اور دوسرے لوگ آتے ہیں اُس کے بعد مصالحت کار ،امن کا علمبردار اور لوگوں کا غمخوار بن کر امریکی فوج آتی ہے پہلی اور دوسری صف کے جنگجوؤں کے ذریعے راستہ ہموار کرنے کے بعد امریکی فوج آتی ہے عراق ، لیبیا اور افغانستان میں ایسا ہی ہوااِس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی وزیرِ خارجہ ریکسن ٹیلرسن نے پالیسی بیان دیا ہے اِس بیان کی روشنی میں کانگریس اور سینیٹ سے اخراجات کے بِل پاس کرنے میں آسانی ہوگی دراصل اُنھوں نے پاکستانیوں کی جگہ امریکی ٹیکس دہندہگان سے خطاب کیا ہے پالیسی سازوں کی توجہ مستقبل کے منصوبوں کی طرف مبذول کی ہے اور امریکی عوام سے کہا ہے کہ پاکستان پر حملے کا وقت آگیا ہے یہ اُس کی ہرزہ سرائی نہیں بلکہ پالیسی ہے جس کو سچائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداریCPEC)) کے خلاف امریکہ چٹان بن کر کھڑا ہے وہ اپنی راہ میں چین کو رکاوٹ بننے نہیں دیتا یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ بھارت کا پکّا اتحاد ہوچکا ہے اور افغانستان میں امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری میں بھارت پیش پیش ہے قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خواہ میں ضم کرنے اور ایف سی آر کا قانون ختم کرنے کی مخالفت بھی امریکہ اور بھارت کی طرف سے ہورہی ہے ریکسن ٹیلرسن کی بات کو ہرزہ سرائی قرار دینا درست رویہ نہیں بلکہ شترمرغ والا رویہ ہے اُس کے بیان کو سنجیدہ لینا چاہیئے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا بِل فوری پاس ہونا چاہیئے اور CPEC پر جو کام 28جولائی کی بعد رُک گیا تھا اِس کو دوبار ہ شروع ہونا چاہیئے ریکسن ٹیلرسن کی بات کا یہی جواب ہے۔


شیئر کریں: