Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلدیاتی بجٹ کا پنڈورا بکس……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے 75فیصد سے کم ترقیاتی فنڈ استعمال نہ کرنے والے بلدیاتی اداروں کو مزید فنڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ بلدیات کے ریکارڈ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران صوبے کی 25ضلعی حکومتوں کے لئے 28ارب روپے سے زیادہ کے ترقیاتی فنڈز مختص کئے گئے تھے ان میں سے اب تک 8ارب تین کروڑ 52لاکھ روپے ضلعی حکومتوں کو جاری کئے جاچکے ہیں۔ لیکن چھ مہینوں کے اندر ضلعی حکومتوں نے صرف ایک ارب 89کروڑ روپے ہی ترقیاتی منصوبوں پرخرچ کیا۔ محکمہ بلدیات کے مطابق صرف دس اضلاع کی مقامی حکومتوں نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 75فیصد تک فنڈز خرچ کیا ہے۔ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے میں لکی مروت کی ضلعی حکومت پہلے اور مردان دوسرے نمبر پر رہی ۔جنہوں نے بالترتیب 85فیصد اور80فیصد فنڈز خرچ کئے۔چترال کی ضلعی حکومت 65فیصد ترقیاتی فنڈز خرچ کرکے تیسرے نمبر پر رہی۔ جبکہ پشاور کی ضلعی حکومت اب تک صرف 33فیصد فنڈز خرچ کرچکی ہے۔مجموعی طور پر پورے صوبے میں ضلعی حکومتیں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا صرف 30فیصد فنڈز خرچ کرچکی ہیں۔ وزیربلدیات نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس بار 75فیصد فنڈز بروئے کار لانے والی صرف دس ضلعی حکومتوں کو مزید فنڈز جاری کئے جائیں گے۔ باقی ماندہ چودہ ضلعی حکومتوں کو دستیاب فنڈ خرچ کرنے تک مزید فنڈز نہیں دیئے جائیں گے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو قانون کے مطابق سالانہ ترقیاتی فنڈز کا 30فیصد بلدیاتی اداروں کو دینا ہوتا ہے۔ پہلے سال بلدیاتی اداروں کے لئے 44ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پچاس فیصد فنڈز ہی جاری ہوسکے۔ رواں مالی سال ضلعی حکومتوں کے سالانہ ترقیاتی فنڈ میں دس فیصد کی کٹوتی کی گئی ۔رواں سال کے ابتدائی چھ مہینوں میں 37ارب پچاس کروڑروپے کے مجموعی فنڈ میں سے صرف آٹھ ارب تین کروڑ جاری ہوچکے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو اپنے طور پر ٹول ٹیکس، محصول اور چنگی وغیرہ کی مد میں اپنے لئے وسائل پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے۔اور اے ڈی پی کی کٹوتی کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھ مہینوں کے اندر 25اضلاع کے بلدیاتی ادارے 8ارب روپے بھی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیوں نہ کرسکے۔ جبکہ دوسری جانب اپوزیشن ممبران کی طرف سے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی شکایات بھی عام ہیں۔ حال ہی میں ضلع کونسل چترال کی خواتین ارکان نے فنڈز نہ ملنے پر ٹاون ہال کے باہر دھرنا دیا۔ اپرچترال کی ویلج اور تحصیل کونسلوں کی خواتین ممبران نے بھی حکومت کی طرف سے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر بطور احتجاج اپنی الگ تنظیم بنالی ہے اور امدادی اداروں سے رابطہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بلدیاتی اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ عوام کے چھوٹے موٹے مسائل ان کی دہلیز پر حل کئے جاسکیں۔ جن میں حفاظتی پشتوں، رابطہ سڑکوں، پلوں، پرائمری سکولوں، ڈسپنسریوں کی تعمیر، گلیوں کی توسیع و مرمت، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی شامل ہیں۔خیبر پختونخوا میں سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے۔ منتخب ممبران اور عوام میں بھی کافی جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ لیکن جب منتخب کونسلروں کے اعزازیئے، دفاتر، دیگر سہولیات اور ترقیاتی فنڈز کی بات آگئی تو حکومت نے مالی مشکلات کی وجہ سے یہ سب کچھ دینے سے معذوری کا اظہار کیا جس کی وجہ سے بلدیاتی ارکان خصوصا تحصیل، ویلج اور نیبرہڈ کے کونسلرز اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔محکمہ بلدیات کے ریکارڈ کے مطابق بعض ضلعی حکومتوں کی ترقی کے شعبے میں کارکردگی کافی مایوس کن رہی ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں مزید فنڈز جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ گویا حکومت چند نااہل افراد کی کوتاہی کی سزا لاکھوں شہریوں کو دینا چاہتی ہے۔ فنڈز روکنا مسئلے کا حل نہیں۔ ترقیاتی فنڈز خرچ نہ کرنے والوں سے باز پرس ہونی چاہئے۔ مروجہ بلدیاتی نظام پہلے سے کافی پیچیدہ ہے جس کی اب تک اکثر منتخب نمائندوں کو بھی سمجھ نہیں آئی۔ اب فنڈز کے معاملے پر حکومت بلدیاتی نظام کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے۔ اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے قانون کے تحت صوبائی حکومت نے ایم پی ایز کے ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کو دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب تک ایم پی ایز کے پاس بھی فنڈز نہیں اور بلدیاتی ادارے بھی وسائل نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔اس مرحلے پر صوبائی حکومت کی طرف سے بلدیات کے بجٹ میں کمی اور فنڈز کم خرچ کرنے والے اداروں کو مزید فنڈز نہ دینے کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام دیا ہے۔ منتخب ممبران اور عوام پوچھ رہے ہیں کہ اگر وسائل نہیں ہیں تو نمائشی بلدیاتی ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟


شیئر کریں: