Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تیسری آنکھ…… خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کو درپیش مسائل…….حمید الرحمن سُرُورؔ

Posted on
شیئر کریں:

ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں !

 

خیبر پختونخوا میں موثر سیاسی نظام لانے اور عام لوگوں کو بااختیار بنانے کی نیت سے بلدیاتی نظام متعارف کیا گیا تھا۔ لیکن آج تین سال گزرنے کے بعد اگر دیکھا جائے تو بلدیاتی نمائندے اور بلدیاتی ادارے بھی اُنہی مشکلات اور مسائل میں گھرے نظر آتے ہیں جن مسائل کے آگے باقی سیاسی ، سما جی اور قومی ادارے بے بسی کا شکار نظر آتے ہیں اور خدشہ ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام بھی انہی مسائل کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بعد کہیں ناکامی کی موت نہ مرجائے۔ میرا مقصد سیاسی اختلاف یا سیاسی وابستگی میں جانب داری کا مظاہرہ کرکے کسی سیاسی پارٹی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا نہیں ہے ، بلکہ مسائل کی نشاندہی اور ان کی وجہ سے عام عوام کو ہونے والے نقصانات کا ذکر کرنا ہے۔اس بات سے شاید ہر حقیقت پسند فرد اتفاق ٖضرور کرے گا کہ موجودہ بلدیاتی نظام بھی ترقیاتی کاموں میں ہونی والی کرپشن کو کم کرنے میں اب تک کارگار ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اور میں ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار حکومت سے زیادہ عام عوام کو سمجھتا ہوں جو ہنوز اپنے حقوق اور فرائض سے ناآشنا ہیں ، جو آج بھی ، سرکاری بد انتظامی کو قانون قدرت سمجھ کر تسلیم کرتے ہیں اوراپنے آس پاس اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی ڈکیتیوں، چوریوں اور بد عنوانیوں پر ایک نظر ڈال کر اپنے آپ سے من ہی من میں یہ کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ کونسا میرے جیب میں کسی نے ہاتھ ڈالا ہے، کرنے دو ڈکیتی، کرنے دو چوری اور کرنے دو کرپشن۔

2015 ء کے بلدیاتی الیکشن میں اول تو مجموعی طور پر زیادہ تر ان پڑھ یا بہت ہی کم پڑھے لکھے ، سیاسی وابستی رکھنے والے، نااہل اور سماجی خدمت کے جذبے سے عاری افراد بلدیاتی نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ کونسلر کی سطح کے زیادہ تر لوگ تو اس لالچ میں پاتال میں اُترے تھے کہ شاید گورنمنٹ کی طرف سے اُن کو کوئی ماہانہ الاؤنس بھی ملے گی۔مگر جب پتہ چلا کہ گورنمنٹ بالکل نچلی سطح کے لوگوں کو علاقائی نمائندگی اور کچھ محدود اختیارات کے علاوہ کچھ نہیں دے رہی تو اُ ن کا انٹریسٹ لیول کچھ مہینوں میں ہی صفر ہو گیا۔دوسری اُمید اُن کو بلدیاتی فنڈز سے تھی کہ شاید وہ ایمانداری سے ترقیاتی فنڈز کا پیسہ خرچ کرکے اپنے علاقے کے چھوٹے موٹے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکیں گے اور کچھ نہیں تو لوگوں کی واہ واہ تو ملے گی، اور شاید یہیں سے اُن کے سیاسی کیرئیر کا جہاز اُڑان بھرے۔لیکن یہ اُمید بھی اُس وقت دم توڑ گئی جب اُن کے اپنے بلدیاتی فنڈز بھی ٹھیکیداروں کے زریعے اُن کو الاٹ ہونے کا پتہ چلا اور ٹھیکیدار ان چھوٹے موٹے بلدیاتی فنڈز میں سے بھی دو تہائی حصہ سیدھا سیدھا اپنے جیب میں ڈال کر ایک حصہ اُنہیں بلدیاتی ترقیاتی فنڈ زکے نام پر دینے لگے۔ملک میں رائج فرسودہ ٹھیکیداری نظام کے آگے تمام بلدیاتی نمائندے بے بسی کی تصویر بنے پھر رہے ہیں اور چونکہ یہ بلدیاتی نمائندے صبح و شام عوام کے ساتھ بسر کرتے ہیں اس لیے عوام بھی لگے ہاتھوں اپنا سارا غصہ انہی پر نکال رہی ہے۔ٹھیکیداروں کے کرپشن اور بلدیاتی نمائندوں کی بے بسی کا ماجرہ سمجھنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ زیادہ تر بلدیاتی نمائندے اس جھمیلے سے اتنا تنگ آچکے ہیں کہ پہلی فرصت میں جیب میں رکھے سرکاری مہر سے جان چھڑانے کا سوچ رہے ہیں۔ KPK حکومت نے سال 2016-2017 ء کے لئے ترقیاتی بجٹ میں سے 12 بلین روپے بلدیاتی فنڈز کے لئے مختص کیا تھا اور بلدیاتی اداروں کے زریعے گاؤں کی سطح تک بلدیاتی نمائندوں کو تقسیم کرنے کا پلان بنایا تھا لیکن اس پورے بجٹ میں سے کتنا ٹھیکیداروں اورPublic Procurement Regulatory Authorities کے ملازموں کی جیبوں میں گئی ہوگی یہ اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میرے اپنے گاؤں میں دو بلدیاتی نمائندوں کو ایسے پراجکٹ ملے تھے ۔ ایک کو ٹھیکیدار نے 160,000 منظور شدہ رقم میں سے صرف 55000 روپے ترقیاتی کام کروانے کے لئے ادا کیا اور دوسرے کو200,000 میں سے صرف 80,000 روپے ملے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر دیکھا جائے تو یہ قصور بلدیاتی نظام کا نہیں نہ صوبائی حکومت کا ہے۔ ٹھیکیدار نا معلوم عرصے سے ایک منظم مافیا گروپ کی شکل میں اس ملک میں ترقیاتی کاموں کا پیسہ مگرمچھ کی طرح کھا رہے ہیں اور اس کرپشن کی شاخیں کئی سرکاری اداروں سے ہو کر صوبائی اور قومی اسمبلیوں تک جا پہنچتی ہیں۔ کرپشن کے لئے راہ ہموار کرنے کی غرض سے بہت سے قومی ادروں کے کام کرنے کے طریقے اوراُن کے قوانین کو اس طرح سے Systematically ڈیذائن کیا جا چُکا ہے کہ کسی بھی ایک ادارے کے لئے کرپشن کے نظام سے بغاوت کرنا انتہائی مشکل ہے۔کرپشن کی جڑیں اتنی مظبوط ہیں کہ ایک ٹہنی کاٹو تو دس اور نکل آتی ہیں۔بڑے بڑے میگا کرپشن ٹھیکیداروں کے زریعے کرائی جاتی ہیں۔ او ر ملک کے چاروں صوبوں میں ٹھیکیداری نظام سے وابستہ تمام ادارے اور افراد اور زیادہ تر علاقائی سیاست داں بھی ان ترقیاتی فنڈز کے شئر ہولڈر ہیں۔ سو فیصد ایمانداری سے پراجکٹ پر کام کروانے والا ٹھیکیدار اگرپراجکٹ کے متعلقہ انجینئر زکو رشوت نہ دے اور اُن کے نخرے برداشت نہ کرے تو کئی سال پراجکٹ فنڈز Approve کروانے کے لئے اُن کے در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ کرپشن کی شکایت کرنے کے لئے متعلقہ اداروں تک اپنی آواز پہنچائیں بھی تو ترقیاتی کاموں کے معائنے کے لئے ایک Monitoring Team بھیجی جاتی ہے، اب Monitoring Team کے ارکان ٹھیکیدار سے مزید الگ سے رشوت کا تقاضا کرتے ہیں ۔

کرپشن کے اس ناسور کا علاج شاید اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ لگتا ہے۔ کئی دہایؤں میں جو نقصان قومی اداروں کو پہنچایا گیا ہے اُس کی تلافی کئی تجربات کے بعد ہی شاید ممکن ہو سکے ۔ ماضی کے سیاست دانوں کی ایک ہی سو چ رہی ہے کہ کسی طرح بھی طرح صوبائی یا قومی اسمبلی تک پہنج جاؤ اور جائز و ناجائز طریقے سے بے تحاشا پیسہ بناؤ ۔ چترال کے ہی ایک ہی عوامی نمائندے کی مثال سامنے ہے کہ کس طرح چند سالوں میں ہی موصوف اربوں کی جائداد کا مالک بن چُکا ہے۔ کس طرح انہی ٹھیکیداروں کے زریعے بغیر ایک ثبوت چھوڑے اربوں کے ترقیاتی فنڈز میں خرد بُرد کر چُکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کا قیام اگرچہ ایک نیک نیتی پر مبنی فیصلہ تھا مگر کچھ قومی اداروں کے فرسودہ نظام کی وجہ سے اور کچھ بلدیاتی نمائندوں کی نااہلی اور اپنے اختیارات سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے وہ اہداف حاصل نہیں ہوئے جن کی توقع کی رہی تھی ۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر حضرات بھی ایمانداری سے اپنے سرکاری فرائض ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، وہ اپنے اپنے علاقے میں ہونے والی ترقیاتی کاموں اور ٹھیکیداروں کے کرپشن پر توجہ دینے کی زحمت کرنے سے کترا رہے ہیں ۔اُن کی بنیادی ذمہ داری میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس طرح کے سرکاری ترقیاتی کاموں کے معیار کو یقینی بنائیں اور ترقیاتی کاموں میں ہونے والی خرد بُرد کو روکنے کی کوشش کریں لیکن وہ مختلف ذاتی وابسطگیوں کو قومی فریضے سے مقدم رکھ کر بڑی آسانی سے کرپٹ ٹھیکیداروں کی پُشت پناہی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پورے صورت حال سے یہ بات بھی واضح ہے کہ بحیثیت قوم ہم اخلاقی اقدار کے زوال کی انتہا کو پہنچ چُکے ہیں اور شاید کوئی ماؤزے تنگ ہی آکر ہمارا قبلہ درست کرا سکتا ہے۔ اگر موجودہ خرابیوں کو درست کرنے کی شش کرکے ان بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا گیا تو عوام کی حالت سدھارنے میں یہ ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ٹھیکیداری نظام کے متبادل کے طور پر Community Driven Local Development کے قیام کا تجربہ بھی ایک خوش آئند بات ہے جو کہ ااب تک کافی موثر ثابت ہو رہی ہے مگر CDLD میں بھی چند پہلوؤں پر توجہ دینے ضرورت ہے۔ CDLD کے ترقیاتی فنڈز میں بھی کہیں کہیں ادارے کے افراد اور انجئنئر اپنے اختیارات کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔KPK میں اگر بلدیاتی نظام کو کامیاب اور موثر بنانا ہے تو گورنمنٹ کو ٹھیکیداری نظام میں انقلابی اصلاحات کرنے ہوں گے، شخصی اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فرائض سے غفلت روکنے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے اور نچلی سطح کے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات میں کچھ اور اضافہ کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ بلدیاتی نظام کو کامیاب بنانے کے لئے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ساتھ علاقے کی عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ اگر کسی علاقے کے ترقیاتی بجٹ میں خوردبرد کی جارہی ہو تو اُس علاقے کے باشندوں پر بھی فرض عائد ہوتی ہے کہ لوکل نمائندوں کا ساتھ دیں اور اس کرپشن کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ جب تک عوام خود اپنے حقوق کے لئے اُٹھ کھڑی نہیں ہوگی ، گورنمنٹ چاہے کتنا ہی موثر انتظامی نظام کیوں نہ لے کر آئے کرپشن کا یہ سلسلہ تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
[email protected]


شیئر کریں: