Chitral Times

Jan 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جوش نہیں، ہوش سے کام لیں……… محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

سپریم کورٹ نے آف شور کمپنی کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کو تاحیات عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا ہے۔ جبکہ پارٹی کے قائد عمران خان کو کرپشن کے الزامات ثابت نہ ہونے پر بری کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر ملک میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اے ٹی ایم بند ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کہ جہانگیر ترین نے جہاز کی چابیاں واپس لے لیں اب عمران خان کو پیدل مارچ کرنا پڑے گا۔کسی دل جلے نے پوسٹ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لئے موزوں امیدوار درکار ہیں۔ جہاز یا ہیلی کاپٹر مالکان کو ترجیح دی جائے گی۔مسلم لیگ ن نے عدالتی فیصلے کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر منصفانہ فیصلہ آتا تو تحریک انصاف رہتی نہ ہی عمران خان سیاسی منظر نامے میں موجود ہوتے۔ لیگی قیادت نے الزام لگایا ہے کہ عدالتوں نے عمران خان کو بچانے کے لئے جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنادیا۔ جو پانامہ کیس کے معیار کی نفی ہے۔لیگی رہنماوں نے حنیف عباسی کیس میں عدالتی فیصلے پر عدلیہ اور ججوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعت عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کی مہم سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ سے محاذ آرائی پر ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات ہیں جس کی وجہ سے انہیں پارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑی۔چوہدری نثار کی طرح حکمران جماعت کے سینئر قائدین بھی محاذ آرائی کی سیاست سے نالاں نظر آتے ہیں لیکن میاں برادران اور پارٹی کے جونیئر رہنماوں کا موقف یہ ہے کہ مسلم لیگ کو بچانا ہے تو اینٹ کے بدلے پتھر والی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اسی دوران سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کا بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کسی ناگہانی خطرے کی بات کی ہے۔ تاہم وزیراعظم شاہد خاقان نے اسے سپیکر کا وہم قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے میں چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ ملک اور جمہوریت کے لئے بہتر یہی ہے کہ منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے۔ پرامن انتقال اقتدار کا عمل بلاتعطل جاری رہے۔ تاکہ سیاست دانوں اور عوام کی جمہوریت تربیت ہوتی رہے۔ اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی سے کسی جماعت کو وقتی طور پر فائدہ تو پہنچ سکتا ہے لیکن ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے محاذ آرائی کا عمل زہرقاتل ہے۔ تیس چالیس سال پہلے کی سیاست اور آج کی سیاست میں بہت فرق ہے۔ عوام اب سیاسی طور پر باشعور ہوچکے ہیں۔ وہ حکومتوں کو کارکردگی کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔سیاسی طور پر شہید ہونے کی پالیسی سیاسی جماعتوں کے لئے مستقل موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو سیاسی لحاظ سے بالغ ہونے کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ انہیں اپنی صفوں میں جمہوریت لانے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت رواداری، صبر، استقامت ، مفاہمت اورنظام میں تسلسل کی متقاضی ہے۔ کرسی کے حصول کو اپنا مقصد حیات بنانے کے بجائے سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جمہوری قوتوں کے غیر جمہوری طرز عمل کی وجہ سے غیر جمہوری قوتوں کے لئے راستے ہموار ہوتے رہے۔سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ ملک کی بقاء اور اداروں کو بچانے کے لئے فوج کو بار بار مداخلت کرنی پڑی۔جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا۔ سیاست جوش کا نہیں ۔ ہوشمندی کا کھیل ہے۔ تدبر کا عملی مظاہرہ کرنے والے سیاست دان ہی مدبر کہلاتے ہیں۔روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ، امن و امان کی بگڑتی صورتحال ، سیاسی طور پر بحرانی کیفیت اور سرحدوں پر مسلسل کشیدگی کا تقاضا ہے کہ محاذآرائی سے اجتناب کیا جائے اور قومی اتحاد و یک جہتی کو فروغ دیاجائے۔ ملک و قوم کی بقاء پر اپنی سیاسی دکان چمکانے کی قوم اب اجازت نہیں دے گی۔


شیئر کریں: