Chitral Times

Aug 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں کے نام………حمید الرحمن سُرُورؔ

Posted on
شیئر کریں:

قارئین ! اس موقع پر جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں اس کے اظہار کے لئے ایک شعر سے کام لوں گا، لکھنو کے ایک مشاعرہ میں جو نوابی عہد میں ہوا کرتا تھا اور جس میں لکھنو کے بڑے بڑے شعراء اور اساتذہ موجود تھے، ایک کمسن شاعر نے اپنی غزل کا یہ شعر پڑھا اور مشاعرہ میں دھوم مچ گئی، مطلع یہ تھا ؂
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
جب سے لے کر آ ج تک مختلف مواقع پر یہ شعر کئی حالات و واقعات کی بہترین اور مختصراََ منظر کشی کرنے کے لئے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ آپ دیکھیے کہ آج ہمارے معاشرے کا نقشہ ایسا ہی ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ زبان و ادب کو جتنا نقصان نام نہاد ادیبوں اور شاعروں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، سیاسی نظام کو جتنا نقصان نام نہاد سیاست دانوں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، مذہب کو جتنا نقصان نام نہاد مذہبی الم برداروں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، معاشرتی اقدارکاجتنا قلع قمع نام نہاد اخلاقیات کے معاشرتی ٹھیکیداروں نے کیا کسی اور نے نہیں کیا، علم و تعلیم اور تربیت کے نظام کو جتنا نقصان جعلی عالموں اورعلم و تربیت سے محروم افلاطونوں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ آج سوشل میڈیا ایسے ہی ہزاروں نام نہاد دانشوروں، سیاست دانوں، ادیبوں، فنکاروں، موسیقاروں،شاعروں، اخلاقیات کا پرچار کرنے والوں ، مذہب اور عقائد کا خود ساختہ تشریح کرنے والوں الغرض مختلف اُمور کے سماجی ٹھیکیداروں سے بھری پڑی ہے۔ اور یہ نام نہاد دانشور ہر قسم کے سیلف میڈ جعلی منجن پر معاشرتی نمائندگی کا لیبل لگا کر بیچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ سوشل میڈیا جو مغرب میں آج علم و تحقیق اور معلومات کو انسانوں تک باہم پہنچا کر انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے اورمعاشرے کو آگے لے جانے میں کردار ادا کر رہی ہمارے معاشرے میں مزید معاشرتی زوال ، انتشار، سیاسی تناؤ، مذہبی عدم برداشت ، معاشرتی جرائم اور کردار کشی کا زریعہ بنتی جارہی ہے۔ان نام نہاد دانشوروں اور پڑھے لکھے جاہلوں کی شوشل میڈیا پر موجودگی سے گزشتہ دنوں چترال کی پُر امن ، پُر خلوص اور ہم آہنگی پر استوار معاشرتی نظام کو بھی کافی نقصان پہنچا ۔ کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر اسلامی، شرعی اور ملکی قوانین سے متصادم پوسٹ اور کمنٹس کیے جن میں سے کچھ قانون کی گرفت میں بھی آگئے ہیں لیکن اس کے فوراََ بعد یہ جعلی دانشور سوشل میڈیا پر آکر محاظ سنبھالتے ہوئے اپنے ذاتی فرسودہ، متنازعہ اور قابل مذمت افکارکے ساتھ ان باتوں کی بے جا تشریح، وضاحت اور پرچار کرنے لگے جس کی وجہ سے حسبِ معمول کچھ جذباتی لوگوں نے اس فعل کو Generalize کرکے سب سے پہلے اسلامی عقائد سے متصادم اور متنازعہ پوسٹ کرنے والے یہ چند افراد جس بیک گراونڈ سے ، جس علاقے اور جس کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اُن پر بھی سوشل میڈیا میں ذمہ داری عائد کرکے اُن سب پر غصہ نکالنے لگے۔ لیکن باعلم ،حقیقی دانشور ، حقیقی تعلیم و تربیت اور اسلامی افکار و اقدار سے روشناس لوگ جانتے ہیں کہ گستاخانہ اور متنازعہ بیانات دینے والے اور اس فعل کے ردِعمل میں حد سے تجاوز کرنے والے ، اس انفرادی جرم کو Generalize کرکے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے یہ چند افراد چترال کے دونوں مسالک اور فرقوں کے عقائد کی تشریح کے ذمہ دار یا نمائندہ جماعت نہیں ہیں۔ بحیثیت مسلمان جس طرح کے متنازعہ جملے سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملے اُس کی جتنی سرزنش اور مذمت کی جائے کم ہے، اور ان بیانات سے دین اسلام پر عقیدہ رکھنے والے ہر مسلمان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں چاہے وہ کسی بھی فرقے اور مسلک سے تعلق کیوں نہیں رکھتے ہوں ۔ جہاں سوشل میڈیا پر گستاخانہ اور متنازعہ بیانات دینے والوں نے اسلامی اور قانونی اعتبار سے جرم کا ارتکاب کیا ہے وہیں ان کے ساتھ ساتھ کسی حد تک کچھ ذمہ داری چندسیاسی افلاطونوں اور نام نہاد دانشوروں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے متواتر ایسے پوسٹز پر لوگوں کو Engage رکھا اور Ultimately کچھ جاہلوں نے ان پوسٹز پر آکر ایسے کمنٹس کیے جو اشتعال انگیز اور معاشرتی خلفشار میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ دین اسلام کا کوئی بھی فرقہ اسلام کے بُنیادی عقائد میں رتی برابر بھی لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتی، ذاتی طور پرمیں نے خود ایسے کئی متنازعہ پوسٹ اور کمنٹس سوشل میڈیا پر دیکھے جو انتہائی قابل مذمت، قابل سزا اور اشتعال ا نگیز تھے؛ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ گنتی کے چند افراد کسی بھی پورے اسلامی فرقے کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ پوسٹ اور کمنٹس سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد کچھ نام نہاد دانشور اب تک روزانہ سوشل میڈیا میں اس واقعے کی مذمت کرنے اور اپنے اپنے مسلکوں کی تشریح بیان کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اور اُن کا یہ عمل بجائے اس تناؤ کو کم کرنے کے اس میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
میری گزارش ہے اُن نام نہاد دانشوروں سے کہ خُدارا ہوش کے ناخن لیں، آپ کو یہ اتھارٹی کس نے دی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر کسی بھی مسلک کی نمائندگی کا رول ادا کریں، آپ کو کس نے یہ سند دی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر افلاطون بن کر کسی بھی فرقے ، مسلک ، قوم یا نظریے اور عقائد کی تشریح اور نمائندگی کریں۔ آپ آگ کو بجھانے کی کوشش میں آگ کے شعلوں کو ہوا دیتے جارہے ہیں، آپ غیر ضروری طور پر اپنے خیالات کو دانشور ی کا لیبل چپکا کر مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ جو جو لوگ سوشل پیڈیا پر گستاخانہ اور متنازعہ پوسٹ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں اُن کی سرزنش اور پُر زور مذمت ہم سب نے کرنی ہے،لیکن سوشل میڈیا میں ہی عدالت لگا کر سوشل میڈیا میں سزا سُنا کر کیا ہم اسے عظیم کارنامہ تصور کر لیں؟ ۔ مُجھے یقین ہے کہ سب سے پہلے بحیثیت مسلمان ایسے افراد کے اپنے خاندان والوں نے ان کے اس فعل کی مذمت کی ہوگی، جس مسلک، جس معاشرے اور جس علاقے سے بھی ان کا تعلق ہے وہ لوگ بھی اس ناقابل برداشت فعل کی مذمت کر رہے ہیں، لیکن لفظی مذمتیں اور سوشل میڈیا پر آپس میں دست و گریبان ہونا مسلے کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کا سبب ہے۔اصل ذمہ داری ملکی قانونی اور شرعی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلد سے جلد قوانین کے حساب سے قرار واقعی سزا دیں تاکہ یہ معاملہ پورے علاقے کے امن کوخطرے میں ڈالنے کا باعث نہ بنے۔ لیکن سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں ، سیاسی اداکاروں اور موقع پرست عناصر کو اس حساس نوعیت کے موضوعات پر مناظرہ کرنے سے باز آجانا چاہیے جو اس ساری صورت حال میں امن و امان کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے چکر میں مزید اشتعال انگیزی ، مزید عدم برداشت اور غلط فہمیوں میں اضافہ کرنے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ابتدائی طور پر جس فرد نے اشتعال انگیز کمنٹس پوسٹ کیے تھے اُس کی مذمت چترال کے ہر فرد نے کی ہے، اگر یہ سب ناکافی ہے تو اسمائیلی کمونٹی اور سنی کمیونٹی کے ذمہ دا ر اداروں کو باقائدہ Officially مذمتی اور مطالباتی قرارداد جاری کر دینا چاہیے کیونکہ ان افراد نے کسی ایک فرقے کے جذبات اور عقائد کو مجروح کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، بلکہ تمام مسلمانوں کے ایمان کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے، اور اسلامی ، شرعی اور ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ یہ گستاخانہ بیانات اسماعیلی فرقے کے Official آئین کی بھی خلاف ورزی ہیں جو کہ پاکستان کے سپریم کورٹ سمیت باقی متعلقہ فورمز پر جمع ہے۔ مگر ذاتی حیثیت میں جس طرح سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے، تبصروں، تجزیوں، تشریحوں کی دُکان چمکائی جارہی ہے وہ ایک غیر سنجیدہ ، غیر ضروری ، اور نقصان دہ عمل ہے ۔خُدا را اس سے باز رہنے کی کوشش کریں، اگر سوشل میڈیا کے افلاطون کے طور پر کچھ لوگوں نے اپنے منجن بیچنے ہی ہیں تو باقی سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، ادبی، یا کسی اور نوعیت کے منجن بیچ سکتے ہیں لیکن اس طرح کے غیرذمہ درانہ پوسٹ کرکے چترال میں ہمارے معاشرتی امن و امان کو ٹھیس پہنچانے کا باعث نہ بنیں۔
hrsuroor@gmail.com

شیئر کریں: