Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایم این اے کی ہزہائی نس سے AKDNکی کردار کو مزید چار شعبوں میں وسعت دینے کا مطالبہ

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اسماعیلی کمیونٹی کا ہفتے کے دن چترال آمد پر ائر پورٹ میں استقبال کے بعد چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخارالدین نے چترال میں پسماندگی کو دورکرنے میں آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی قابل قدر خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیااور مستقبل قریب میں چترال میں رونماہونے والی تبدیلیوں اور ان کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اے کے ڈی این کے کردار کو وسعت دینے کی درخواست کی جس پر انہوں نے ہمدردانہ غور کرنے کا وعدہ کیا جبکہ پرنس امین آغا خان کو چترال میں ٹورزم انڈسٹری کی ترقی کے لئے اقدامات کرنے کے لئے خصوصی تاکید کریں گے۔ اتوار کے روز چترا ل ٹائمز ڈاٹ کام کے ساتھ خصوصی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ضلع ناظم مغفرت شاہ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام ، ریجنل پولیس افیسر اختر حیات گنڈاپور اور چترال ٹاسک فورس کے کمانڈنٹ کرنل معین الدین کی موجودگی میں اس ملاقات میں ہزہائی نس پرنس آغاخان کو انہوں نے بتادیاکہ اس وقت وفاقی حکومت کی طرف سے چترال میں کثیر رقم سے روڈاور ہائیڈرو پاؤر کے منصوبہ جات پر کام شروع ہونے اور سی پیک کے مجوزہ متبادل روٹ کو چترال سے گزارنے پر اس علاقے پر بہت ہی گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور تبدیلی کا یہ ماحول اہالیاں چترال کے لئے مثبت اورمنفی دونوں طرح کا ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے ہزہائی نس کو بتایاکہ اگر آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے کردارکو چترال میں مزیدچار شعبوں ٹورزم، معدنیات، پن بجلی اور کاروبارکی ترقی تک بڑہادیا جائے تو چترال کے عوام کو اس کا بلاواسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح سے فائدہ ہوگا اور آنے والے مسابقتی حالات کو مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔
ایم این اے شہزادہ افتخارالدین نے ہزہائی نس کے دورے کی کامیابی میں قابل قدر کردار ادا کرنے پر سنی کمیونٹی کی تعریف کی اور چترال کی ضلعی انتظامیہ ، چترال پولیس ، چترال سکاوٹس ، پاک آرمی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے چترال کے علمائے کرام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے کردار کو سراہا۔


اس موقع پر ایم این اے نے مذید بتایا کہ چترال ٹاون کے گیس پلانٹ کیلئے زمین نہ ملنے کی وجہ سے کام میں کچھ تاخیر ہوگیا ہے۔ تاہم دنین کے مقام پر دریا کے ساتھ جبکہ دو اور مقامات پر زمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس کیلئے اسی ہفتے سوئی ناردن گیس کے حکام چترال پہنچ رہے ہیں۔ انکی فیزیبلٹی رپورٹ کے مطابق مذکورہ پراجیکٹ کو بھی حتمی شکل دی جائیگی۔

شہزادہ افتخار الدین نے مذید بتایا کہ ریڈیو پاکستان چترال کی استعداد کار بڑھانے کیلئے انکی کوششیں اخری مراحل میں ہیں۔ بہت جلد اس پر بھی کام شروع کیا جائیگا۔ اور موجودہ ریڈیو اسٹیشن کی استعداد کا ربڑھا کر دس کلواٹ ہوجائیگی ۔ جس سے چترال ڈسٹرکٹ سمیت غذر تک کے کھوار بولنے والے افراد مستفید ہوں گے۔


شیئر کریں: