Chitral Times

Dec 13, 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سات جوڈیشل افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے احکامات جاری

    December 6, 2017 at 9:36 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور دیگر معزز ججوں نے فوری طور پر عوامی مفاد میں سات جوڈیشل افسران کے تبادلوں اور ان کی نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ؍سینئر ڈائریکٹر انتظامیہ خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی محمد آصف خان کو تبدیل کر کے انہیں بحیثیت افسر بکار خاص پشاور ہائی کورٹ تعینات کیا گیا ہے اسی طرح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایبٹ آباد محمد زبیر خان کا تبادلہ کر کے انہیں بحیثیت ایڈیشنل ممبر انسپکشن ٹیم،سیکرٹریٹ برائے ڈسٹرکٹ جوڈیشری پشاور ہائی کورٹ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بٹ گرام محمد آصفIIکو تبدیل کر کے بطور ڈائریکٹر ویلفیئر سیکرٹریٹ برائے ڈسٹرکٹ جوڈیشری پشاور ہائی کورٹ ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہنگو سید اصغر علی شاہ کا تبادلہ کر کے انہیں بطور ڈائریکٹر ریگولیشنز سیکرٹریٹ برائے ڈسٹرکٹ جوڈیشری پشاور ہائی کورٹ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حویلیاں (ایبٹ آباد) مسماۃ شہناز حمید خٹک کو تبدیل کر کے بحیثیت قائم مقام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایبٹ آباد ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہنگوکوبحیثیت ایکٹنگ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہنگواور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بٹ گرام واجد علی خان کو تبدیل کر کے بحیثیت ایکٹنگ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بٹ گرام تعینات کیا گیا ہے۔ان امور کااعلان رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کے جاری کردہ ایک حکمنامے میں کیاگیا۔

     

     

    دریں اثنا حکومت خیبر پختونخوا نے خیبر پختونخوا اپوائنٹمنٹ آف لاء آفیسرز ایکٹ 2014کے سیکشن 3کی ذیلی شق (1)کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے دو ایڈوکیٹس کی تقرریاں بحیثیت ایڈیشنل ایڈوکیٹس جنرل کنٹریکٹ بنیادوں پر عوامی مفاد میں کی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ارشد احمد ایڈوکیٹ اور افتخار الدین یوسفزئی ایڈوکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈوکیٹس جنرل پشاور تقرریاں کی گئی ہیں مذکورہ افسران متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق تنخواہ اور الاؤنسز کے حقدار ہوں گے جبکہ انہیں پرائیویٹ پریکٹس یا کسی قسم کے قانونی مشیر بننے کی اجازت نہیں ہوگی اور محکمہ قانون کی جانب سے انہیں حوالے کردہ صوبائی حکومت کو رائے دینے کے کسی کام کیلئے کسی قسم کی فیس کی ادائیگی نہیں کی جائے گی اور ان کی تقرریاں کسی نوٹس اور وجہ بتائے بغیر کسی وقت بھی کی جا سکتی ہیں۔اس امر کا اعلان محکمہ قانون حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

  • error: Content is protected !!