Chitral Times

Feb 2, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تین دسمبرکا دن ہر سال ہمیں خصوصی افراد کے ساتھ یکجہتی کا درس دیتا ہے۔سیّد نبی حسین

Posted on
شیئر کریں:

خصوصی افراد کے بارے میں معاشرتی رویّوں میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اقوام متّحدہ میں 1992میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ اس قرارداد کے تحت 3دسمبر کو ہر سال خصوصی افراد کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔اور خصوصی افراد کے حقوق کے بارے میں جو رہنمااصول مرتّب کئے گئے۔ اس کے تحت تمام ممبر ممالک کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی کہ وہ بلا امتیاز رنگ و نسل، صنف و مذہب خصوصی افراد کو زندگی کے ہر شعبے میں آزادانہ طور پر حصّہ لینے کے لئے سازگار ماحول فراہم کریں۔ انہیں تعلیم، صحت، خوراک اوردیگر بنیادی ضروریات کے ساتھ درسگاہوں، شفاخانوں، تفریح گاہوں ،کھیل کے میدانوں اور دیگر پبلک مقامات میں رکاؤٹوں سے پاک ماحول کو یقینی بنائیں۔ تاکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح بھرپور اور باوقار زندگی گذارنے کے قابل ہو سکیں۔

اس دن کو منانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں خصوسی افراد کو درپیش چیلنجزاور بین الاقوامی قوانین کے مطابق خصوصی افراد کو تفویض کئے گئے حقوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کیا جائے۔ اس طرح سرکاری محکموں، سماجی خدمات پر مامور تنظیموں اور تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ خصوصی افراد کو بھی سماجی،معاشی،سیاسی غرضیکہ زندگی کے تما م شعبوں میں مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہیں۔ اور انہیں رکاؤٹوں سے پاک ماحول فراہم کرنا معاشرے کی ذمے داری ہے۔ اس دن مختلف مکتبہ فکر کے لوگ اکھٹے ہو کر خصوصی افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ اپنے تجربات کی روشنی میں خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کئے جانے والے منصوبوں کی بہتری کے لئے تجاویز پیش کریں۔ جب تک معاشرے میں خصوصی افراد کے بارے یہ آگاہی نہ پھیلائی جائے۔ کہ یہ بھی ہم جیسے انسان ہی ہیں۔ انہیں بھی جینے اور پرلطف زندگی گزارنے کے مواقع میّسر ہونے چاہئیں۔

special persons of chitral
معاشرے میں بسنے والے ہر فردکو عزت واحترام کا مساوی حق حاصل ہے۔اورانسانی معاشرہ دراصل افراد کے منّظم گروہ کا نام ہے۔ اگر یہ گروہ اخلاقی اقدار اور صحت مند معاشرتی ماحول سے عاری ہو تو ملک و قوم کی بقأ و ترقی ممکن نہیں۔ اور اس انسانی معاشرے میں ہر مذہب، رنگ و نسل،صحت منداور کمزور، غریب و امیر غرضیکہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے وا لے لوگ اکھٹے رہتے ہیں۔ اور کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔جب تک ان میں انسانی قدروں کا احترام نہ ہو۔ ایک دوسرے کی ضرورتوں کا احساس نہ ہو۔ اپنی ذمہ داریوں اور دوسروں کے حقوق کا خیال نہ رکھا جائے۔ اس وقت تک ایسے معاشرے کو مثالی معاشرہ نہیں کہا جاسکتا۔اس تناظر میں اگر ہم اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر دوڑائیں توہمارا معاشرتی ماحول بھی کسمپرسی میں مبتلا ہے۔ ہم اکثر انسانیت کے احترام کا درس دیتے ہو ئے نہیں تھکتے۔ لیکن اگرہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں۔تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کہ اندر سے ہم خالی ہیں۔ چونکہ ہمارا معاشرہ مختلف طبقات میں بٹا ہوا ہے ان طبقات میں سے بعض لوگ بہت ہی اونچے مقام کے دعویدار ہیں۔اوران کی گردن میں ہمیشہ سریہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے اردگرد ایک اور طبقہ ایسا موجود ہے جو بے سہارا ہے مفلوک الحال ہے لاچار ہے جسمانی لحاظ سے کسی کام کے قابل نہیں اور ذہنی اعتبار سے پسماندہ۔ان میں سے بعض آنکھوں کی نعمت سے محروم تو کسی کو سننے اور بولنے میں دقّت ۔یہ بھی ہماری طرح انسان ہیں جینے کا حق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ دوسروں کے محتاج ہیں۔ ایک گھونٹ پانی کے لئے ترستا ہیں لیکن خود سے پانی کا قطرہ منہ میں ڈالنے سے قاصر ۔بھوک کا شدید احساس تو ہوتا ہے۔ لیکن اظہار نہیں کرسکتے۔پیرؤں پر چلنے سے قاصر ہیں۔ربڑ کے دستانے پہن کر رینگتے ہوئے منزل کی طرف گامزن ۔ان کے بھی بال بچے ہیں۔ اور یہی اسپیشل انسان خاندان کی کفالت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچے چاہے امیر کے ہوں یا غریب کے۔ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں۔ یہ خصوصی افراد بچوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے اور اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی غرض سے ہر وقت سرگردان رہتے ہیں۔ اگرچہ پیرؤں پر چلنے سے قاصر ہیں۔ لیکن روزمرہّ کی ضروریات کے سامان کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن سامان اٹھانہیں سکتے دوسروں کی طرف آس لگائے سڑک کے کنارے ارد گرد لوگوں کی طرف تکتے رہتے ہیں۔کہ کوئی آئے اور سامان اٹھانے میں ان کی مدد کرے۔پیدل گزرنے والے ان کی طرف شفقت کی نظر سے تو دیکھتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی اکثر معاشی اور معاشرتی طور پر بدحالی کا شکار ہیں۔پھر بھی ان کے دل میں ہمدردی کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔اور وہ سڑک پار کرنے اور سامان اٹھانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔جو لوگ گاڑیوں میں ان کے پاس سے گذرتے ہیں۔ انہیں تو یہ لاچار اور بے سہارا کہاں نظر آئیں گے۔ اور جن کو نظر آ بھی جائیں۔ تو وہ انہیں اپنی گاڑیوں میں کیوں بٹھائیں گے۔ کیونکہ یہ تو فرش پر رینگتے ہوئے اور ادھر ادھر بیٹھ کر مٹی میں لت پت ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو گاڑی میں بٹھا کر سیٹوں کو کیوں گردآلود کیا جائے۔ ایسے میں وہی گنے چنے خدا ترس انسان ہی ہیں۔ جو ان کی دل جوئی کرتے ہیں۔اپنی قلیل آمدنی میں ان کے لئے حصّہ مختص کرتے ہیں۔ انہیں منزل تک پہنچاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ انسانیت کی قدرجانتے ہیں۔ معاشرتی قدروں کا احترام کرتے ہیں۔لیکن بندوں کے اس اژدہام میں خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ان فرشتہ صفت انسانوں کی قلیل تعداد معاشرتی ناہمواریوں کو دور نہیں کرسکتے۔ جب تک بحیثیت مجموعی ہم سب اپنی مذہبی اور معاشرتی فرائض سے عہدہ برآ نہ ہوں۔ جب تک ہم میں یہ شعور اور آگاہی بیدار نہ ہو۔ کہ اللٰہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بخشا ہے۔ہمیں ذہنی، جسمانی عرضیکہ ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان بنایا ہے۔ ہمیں صحت مند بچّوں سے نوازا ہے۔ ہم آسانی کے ساتھ اپنے بال بچوں کی پرورش کرسکتے ہیں۔اور اللٰہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کئے ہوئے نعمتوں سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔اگرخدا نخواستہ ہم یا ہمارے بچے صحت مند زندگی سے محروم ہوتے۔ اپنی ہر ضرورت کی تکمیل کے لئے دوسروں کا محتاج ہوتے۔ تو یقیناآج ہم ہمارے اردگرد بسنے والے ہزاروں بے سہارا انسانوں کو اس طرح اکیلے نہیں چھوڑتے۔خالق کائنات ہر کسی کو اس قسم کی آزمائش سے محفوظ رکھے۔آمین

special persons of chitral2


شیئر کریں: