Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قوم کو اپنے ہیروز پر فخر ہے………….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پشاور کے ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پر عید میلاد کے روز دہشت گردوں نے اچانک یلغار کردی۔جدید ہتھیاروں، دستی بموں اور خود کش جیکٹوں سے مسلح حملہ آور جب نہتے طالب علموں پر ٹوٹ پڑے توخیبر پختونخوا پولیس نے چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو گھیر لیا۔ پولیس کی ریپڈ رسپانس فورس حملے کے چند منٹوں کے اندر انسٹی ٹیوٹ پہنچی۔ اورپوزیشن سنبھال لی۔ابھی فائرنگ کا تبادلہ شروع ہی ہوا تھا کہ پولیس کی کمک وہاں پہنچ گئی۔سی سی پی او خود آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر سی سی پی او کی جو تصویر دکھائی گئی۔ اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ انہیں سوتے میں واقعے کی خبرہوئی۔ بستر چھوڑ کر اٹھا۔ کپڑے بدلنے میں وقت ضائع کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔بنیان اور پاجامہ پہن کر جائے وقوعہ پہنچا ۔پولیس کی گاڑی سے بلڈبروف جیکٹ اٹھا کر بنیان کے اوپر پہن لیا اور بندوق اٹھاکر میدان جنگ میں کود گیا۔پولیس کے ایک ایس ایچ او کے بارے میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کی طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ اپنی گن سنبھالے تربیتی مرکز میں داخل ہونے لگا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر پولیس کی گاڑی کھڑی تھی۔ مگر فرض شناس افسر وہاں جاکر بلڈ پروف جیکٹس پہننے میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ کیونکہ قوم کے نہتے نونہال دہشت گردوں کے نشانے پر تھے۔ ایک ٹی وی چینل کے صحافی نے اپنا بلڈ پروف جیکٹ اتا ر کر ایس ایچ او کو زبردستی پہنا دیا۔حملہ آور اپنے ساتھ اتنا اسلحہ اور گولہ بارود لے کر آئے تھے کہ وہ انسٹی ٹیوٹ میں قتل عام کے بعد گھنٹوں پولیس اور سیکورٹی فورسز کا مقابلہ کرسکتے تھے۔ لیکن شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پولیس اتنی تیزی سے جوابی کاروائی کرے گی کہ انہیں سنبھلنے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔دہشت گردوں نے ابھی ہاسٹل کے ایک حصے میں کاروائی شروع ہی کی تھی کہ پولیس نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ انہیں دستی بم پھینکنے اور اپنے خود کش جیکٹ بھی پھاڑنے کا موقع نہ مل سکا۔ اور تینوں دہشت گرد فورسز کے جوانوں کا نشانہ بن گئے۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو جب اسپتال پہنچایا تو زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔پولیس کے اس بدلے ہوئے روپ کا کریڈٹ خیبر پختونخوا حکومت کو دیتے ہوئے ہمارے ایک سینئر ساتھی کا کہنا تھا کہ ہماری پولیس بااختیار ہونے کی وجہ سے اس کی کارکردگی میں حیران کن بہتری آئی ہے۔ پہلے یہ پریشانی ہوتی تھی کہ اگر کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا۔ اب پولیس والے عوام کی جان و مال اور عزت وآبرو کی حفاظت اپنی جانوں پر کھیل کر کرنے لگے ہیں اب ہمیں یہ فکر نہیں کہ اگر کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا۔پولیس کا یہ روپ دیکھ کر یقین ہوچلا ہے کہ صوبائی حکومت نے سیاست سمیت ہر قسم کی زنجیروں سے آزاد کردیا ہے۔ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے واقعے میں جرات، شجاعت اور بہادری کی کئی داستانیں رقم ہوئیں۔ جن کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ایک کردار انسٹی ٹیوٹ کی چھت پر بیٹھے ان دو سیکورٹی اہلکاروں کا ہے جنہوں نے انسٹی ٹیوٹ میں گھسنے والے دہشت گردوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ وہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکے۔ اور بالاخر دونوں دہشت گرد قوم کی ان جری سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ اسی واقعے میں شجاعت کی لازوال داستان ایک نوعمر طالب علم نے رقم کی۔ فائرنگ کی آواز سن کر جب ارسلان اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اس کی اچانک ایک دہشت گرد سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ارسلان نے دہشت گرد کو دبوچ لیااور اس سے بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ خود کو چھڑانے کی کوشش میں دہشت گرد نے ارسلان کا انگوٹھا بھی چبا لیا۔ لیکن بہادر نوجوان نے نہ صرف بندوق چھین لی بلکہ دھکادے کر دہشت گرد کو کمرے میں بندکردیا اور باہر سے دروازہ بند کردیا۔پولیس نے عمارت میں سرچ آپریشن کے دوران اس محصور دہشت گرد کا مار ڈالا۔قوم کے جری سپوتوں نے عزم و شجاعت اور فرض شناسی کا جو بے مثال مظاہرہ کیا۔ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر قوم کا اعتماد بحال ہوا ہے۔وفاقی و صوبائی حکومت، پاک فوج اور خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردی کا ایک خوفناک منصوبہ ناکام بنانے پر قوم کے ان ہیروز کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہئے۔


شیئر کریں: