Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحت انصاف کارڈ پروگرام کے تحت 25لاکھ کارڈتقسیم کرنے کے تیسرے مرحلے کا آغاز

شیئر کریں:

 

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے غریب اور مستحق لوگوں کے علاج کیلئے صحت انصاف کارڈ پروگرام کے تحت 25لاکھ کارڈتقسیم کرنے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کرنے کے ساتھ ہی اس میں مستحقین کی کمی بیشی دور کرنے اور معذور افراد کو خصوصی طور پر شامل کرکے اُن کا سو فیصد کوٹہ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت مستقل بنایا جا رہا ہے تاکہ بعد کی حکومتیں اسے ختم نہ کرسکیں اسی طرح صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں مفت ایمرجنسی علاج اور آلات کی خریداری کیلئے مزید 9 ارب روپے جاری کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ تنقید برائے تعمیر کو شعار بنائیں اور حکومتی خامیوں کی نشاندہی کے علاوہ سابقہ اور موجودہ حکومت کے اقدامات کا موازنہ بھی ضرور کریں میڈیا سابقہ حکومتوں کا گند ہمارے کھاتے میں نہ ڈالیں بلکہ ماضی وحال کے ادوار کا فرق واضح کریں تاکہ عوام کی صحیح معنوں میں رہنمائی ہو سکے ۔ماضی میں سکول و ہسپتال اور سڑکوں کی تعمیر کی آڑ میں کرپشن اور کمیشن کا بازار گرم رکھا گیا ۔ایسی عمارات اور سڑکوں کا کیا فائدہ جن سے عوام کو ریلیف نہ ملے بلکہ اُلٹا قوم پر بوجھ اور عوامی پریشانیوں کا سبب بنیں۔وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحت انصاف کارڈ کی تقریب تقسیم سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے تقریب سے سینئر صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی ، صحت انصاف پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض تنولی ، پروگرام کے جرمن سرپرست ادارے جی آئی زی کی الیگزینڈرا اور دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا اور غریب عوام کے علاج کیلئے پروگرام کی اہمیت کے علاوہ صوبائی حکومت کے عوام دوست اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سکیم کے پہلے دو مرحلوں کی شاندار کامیابی کے بعد آج تیسرے مرحلے کا اجراء کیا جارہا ہے جس سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 99 لاکھ افراد یعنی صوبے کی آبادی کا 69 فیصد صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہوگا۔ تیسرے مرحلے کے تحت عوام میں مزید 10 لاکھ کارڈ تقسیم کئے جارہے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 24 لاکھ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اُٹھائیں گے ۔ اس کارڈ کی بدولت غریب افراد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں سالانہ پانچ لاکھ سے زائد تک مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں خیبرپختونخوا کاحکمرانی کا سارانظام جمود کا شکار رہا۔دیگر شعبوں کی طرح صحت کا شعبہ بھی سیاسی مداخلت کا شکار اور تباہ حال تھا۔ہماری حکومت نے صحت کے شعبے میں قابل عمل اصلاحات کی ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان اصلاحات کے نتائج بھی ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ صوبے کے سرکاری طبی اداروں کی ترقی کیلئے اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت تاریخ میں پہلی بار صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو خود مختاری دینے میں کامیاب ہوئی۔ یہ ایک ایسا چیلنج تھا جس میں سابقہ حکومتیں کوشش کے باوجود ناکام رہیں۔ ہم نے مافیا کی شدید مزاحمت کے باوجود یہ مشکل کا م کر دکھایا کیونکہ ہم غریب عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔پرویز خٹک نے کہا کہ شعبہ صحت میں تبدیلی کیلئے ہمارا دوسرا بڑا قدم محکمہ صحت کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہے۔ ماضی کی مروجہ کم تنخواہ پر کوئی ڈاکٹر پشاور اور ایبٹ آباد کے سوا کسی دوسرے ضلع میں جانے پر راضی نہیں تھا۔ہم نے ڈاکٹروں کی تنخواہیں 45 ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ تک کرد یں ۔ صوبے میں کل تین ہزار ڈاکٹر ز تھے ۔ہم نے ہنگامی بنیادوں پر بھرتیاں کیں اور اس تعداد کو ساڑھے سات ہزار تک لے گئے ۔ آج یہ واحد صوبہ ہے جس کے تمام اضلاع میں ڈاکٹرز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کی بھرتیاں، حاضری کی مانیٹرنگ ، آلات کی دستیابی ، الاؤنسز میں اضافہ ، انسولین بینک کا قیام، زچہ و بچہ کی طبی خدمات کیلئے مراعات کا اعلان، فری ایمرجنسی سروسزاورجان لیوا امراض کیلئے مفت علاج کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جو صوبائی حکومت کی صحت اور عوام دوستی کا واضح ثبوت ہیں ۔ان تمام تر اقدامات کے باوجود صوبے کے انتہائی غریب اور نادار خاندان قابل توجہ تھے ۔ ان غریب خاندانوں کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کے عزم کے تحت 15 دسمبر2015 کو صحت سہولت پروگرام کے پہلے مرحلے کا اجراء کیا گیا ۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں مردان، ملاکنڈ ، کوہاٹ اور چترال کو یہ سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ یہ پروگرام ملک کی پہلی ہیلتھ انشورنس سکیم تھی ۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں متعلقہ اضلاع کی آبادی کے 21 فیصد غریب ترین عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ مثبت نتائج کو دیکھتے ہوئے پروگرام کو دیگر تمام اضلاع تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت 14 لاکھ مستحق خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کئے گئے، جو صوبے کی آبادی کا 51 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بدلتے ہوئے خیبرپختونخوا کی طرف ہماری حکومت کا اہم پالیسی اقدام ہے۔ امید ہے کہ صحت سہولت پروگرام بڑھتے ہوئے طبی اخراجات کے تباہ کن اثرات سے غریب عوام کو بچانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔وزیر اعلیٰ نے پروگرام میں بھرپور تعاون پر متعلقہ اداروں ، تنظیموں اور سٹیک ہولڈرزکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صحت کی اہمیت اور انسانی ترقی میں صحت کے کردار سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قومی ترقی اور خوشحال معاشرے کیلئے صحت مند قوم کا ہونا کتنا ضروری ہے اورصحت مند قوم کیلئے صحت کی معیاری سہولیات کتنی ناگزیر ہیں۔صوبے کے غریب افراد کو صحت کی مفت سہولیات تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے ۔

cm pervez khatak addressing sehat sahulat card distribuition program

sehat saholat card program


شیئر کریں: