Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اخلاقیات پر مبنی نصاب……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے اخلاقیات پر مشتمل مضامین تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اساتذہ کو بھی کلاس میں اخلاقیات پر درس دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جن اخلاقی مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے ان میں صحت اور ماحول کی حفاظت، انسان دوستی، صلہ رحمی، کفایت شعاری، امداد باہمی، والدین، خواتین اور بڑوں کا احترام، دیواروں پر لکھائی، گلیوں اور سڑکوں میں کوڑا کرکٹ اور گندگی پھیلانے سے پرہیز، ٹریفک قوانین کی پابندی، غریبوں اور محتاجوں کی مدد، چغل خوری اور تمباکو نوشی سے اجتناب جیسے موضوعات شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے اس حوالے سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو احکامات جاری کردیئے ہیں۔ 35اخلاقی موضوعات پر لیکچر دینے کا سلسلہ تمام سرکاری سکولوں میں عنقریب شروع کیا جائے گا جبکہ اخلاقیات پر مشتمل مضامین کو اگلے تعلیمی سال سے نصاب میں شامل کئے جانے کا امکان ہے۔بچوں کو پڑھائی جانے والی درسی کتابوں میں جن مضامین کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان کی تلقین دین اسلام نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی تھی۔اگر ہم قرآن حکیم اور سیرت طیبہ کا بغور مطالعہ کریں تو یہ ساری تعلیمات وہاں موجود ہیں۔ لیکن ہم نے قرآن کو طاقوں میں سجانے، گھر سے باہر نکلتے وقت چومنے،قسمیں اٹھانے، نماز کی ادائیگی اور رٹ کر امتحانات پاس کرنے تک ہی محدود کردیا ہے۔ قرآن کریم میں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمانوں ، سمندروں اور ان میں موجود تمام چیزوں کو انسان کے لئے مسخر کردیا ہے۔ قرآن پاک کی اسی آیت پر تحقیق کرکے اغیار نے خلائی جہاز، راکٹ اور آبدوز بنائے، آسمان کی وسعتوں کو ناپنے اور نئے نئے سیاروں کی تلاش میں نکل پڑے۔ سمندروں کی تہہ میں سرنگیں بنائیں۔اس کی تہہ میں تیل تلاش کیا۔ پہاڑوں کو چیر کر لعل و گہر جمع کئے۔آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہونے لگتی ہیں یہ سارا علم قرآن سے لیا گیا ہے ۔ ہم نے ان تعلیمات کو یکسر بھلادیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ذاتی اور گھریلو استعمال کی معمولی چیزوں سے لے کر دفاعی سامان،تعلیم،صحت،زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کے لئے غیروں کے محتاج ہیں۔جن اخلاقی مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کی بات ہورہی ہے۔ وہ ایک مسلمان بچے کو ماں کی گود سے لے کر گھر کی دہلیز پرپہنچنے تک سیکھنا چاہئے۔ والدین کا احترام، بڑوں کی عزت کرنا، سلام میں پہل کرنا، معمول کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، جھوٹ نہ بولنا، غیبت، چاپلوسی، چغل خوری سے پرہیز کرنا، قانون کی پاسداری، اپنے بدن، لباس اور ماحول کو پاک صاف رکھنا، گندگی پھیلانے سے گریز کرنا اور بری عادتوں سے دور رہنے کی تلقین بچے کو اس وقت سے ہی کی جانی چاہئے جب وہ توتلی زبان میں بول چال شروع کرتا ہے۔ شاعر مشرق نے فرمایا تھا کہ شجر سے پیوستہ رہتے ہوئے بہار آنے کی امید رکھنی چاہئے۔ جب شجر ہی نہیں رہے گا تو کونپلیں ، پتے اور پھول نکلیں گے نہ ہی سایہ ،پھل ایندھن ملے گا۔اخلاقیات پر بچوں کی تربیت کا عمل گھر سے شروع ہونا چاہئے۔ سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایک سال سے پانچ سال تک کی عمر میں بچے جو کچھ سیکھتے ہیں وہ ساری عمر نہیں بھولتے۔کیونکہ بچے کا دماغ کورے کاغذ کی مانند ہے۔ اس میں پہلی تحریر انمٹ ہوتی ہے۔دین اسلام کی طرح سائنس نے بھی ابتدائی عمر میں بچوں کی تعلیم و تربیت ، انہیں اخلاقی اقدار سے روشناس کرانے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ والدین کا کام بچوں کو کھلانا پلانا اور ان کی فرمائشیں پوری کرنا ہی نہیں۔ بلکہ ان کااصل کام بچوں کو بہترین تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔گھر کے ماحول سے نکلنے والا سلجھا ہوا بچہ ہی اچھاطالب علم اور عملی زندگی میں بہتر انسان بن سکتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے اس کی اہم وجوہات میں دین کو نہ سمجھنا، اسلامی تعلیمات اور اقدار سے دوری اور اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈالنابھی شامل ہے۔اخلاقیات پر مبنی مضامین نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محراب و منبر سے بھی اسلامی اخلاقیات پر درس دینا لازمی قرار دیا جائے۔ تاکہ امت مسلمہ کو اس کے اساس کے قریب لایاجاسکے۔


شیئر کریں: