Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“جستجوئے خیال” …… دشت جنون کے روتے ارواح……. شفیق آحمد شفیق‎‎

Posted on
شیئر کریں:

جنون پاگل پن کو کہتے ہے۔ اور یہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب آپ کسی تصور یا شئے کو اپنی فطرت میں شامل کرتے ہے، اور اپنی زات کو اس کا ایسا عادی بناتے ہے کہ آپ کے حواس ، ہوش و خرد پہ حاوی ہوجائے ۔ اور جب وہ حاصل نہ ہو، یا آپ نے جو خیال کیا ہو وہ اس مطابق نہ نکلے۔ تو پھر ایک نفسیاتی بیماری لاحق ہوتی ہے ، جس کو پاگل پن کہتے ہیں۔ اور اگر خوبصورت الفاظ مٰیں بولوں تو جنون کہتے ہیں۔ ہمارے سماج میں بھی ایسے افراد بہ درجہ اتم موجود ہے ، بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بڑی پڑی ہے۔ اور الہ دین کا چراغ بھی ان ہی کے ہاتھوں ہے۔ جو کہتے ہیں وہ کر جاتے ہیں۔ خواہ کوئی قانوں و اصول ہی کیوں نہ توڑیں۔ لیکن ان کا ایک ہی نعرہ ہے  ہونا وہی ہے جو میرا جنوں کہتا ہے۔
معاشرہ چونکہ مختلیف سوچ رکھنے والے اور مختلیف ثقافت و تہذیب ، مذہب ، رنگ و نسل ، روایات  کے حامل لوگوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اور بحیثت ایک سماج کہ لوگوں کے ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر زندگی کا پہیہ چلانا مشکل ہو تا ہے۔ لیکن جب بھی ہم دیکھتے ہے، جنون کی آڑ میں روحوں کے ساتھ یہ ظلم و ستم دیکھنے کو ملا جس طرح کفار نے رسول خدا صلم پر ظلم کیا  اور لین دین ، تجارت سب بند کردیا ۔اور رسول خدا صلم کو شعیب ابی طاالب میں پتے کھا کر وقت گزارنا پڑآ۔ اگر کسی نے خیر کی بات کی اور آزادی انسان کی قدر کرتے ہوئے کچھ کہا تو ان کو واصل مرگ کیا گیا ۔  غرض حق و باطل کے معرکے میں لفظوں کی جنگ سے جو راکا وٹیں پیدا ہوئی۔   ایک بے رنگ و دکھ بھری داستا ن رقم کی ۔ جس سے انسان جیسے اعظیم خلقت کی روح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس روح پرور سوچ پر بھی دبہ لگا دیا جو اہل فکر کی میراث تھی۔
انسانی وجود اور روح کی ہستی میں دم نہاں کی صورت دو رخی ہے ایک رخ کا تعلق اس جہاں سے دوسرے رخ کا تعلق دوسرے جہاں سے ہے۔ لیکن دونوں جہانوں کا عکس جب ایک آئینے میں دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے  تو پھر وہ رونق کچھ اس طرح سے ختم ہوجاتا ہے۔ کہ پہلے کیلئے دوسرے کو چھوڑو اور دوسرے کیلئے پہلے کو چھوڑو، یا پھر تیسری صورت نکالو، آدمی کو ہی مار ڈالو۔ کیونکہ  آدمی سوچتا ہے۔ اور دشت جنون کے ارواح سوچنے والے کو نہیں چھوڑتے کیونکہ سوچنے سے دنیا کماتے ہو، دنیا پسند ہوجاتے ہو۔۔ وہاں کام کرنے کیلئے اور زریعہ نہیں، صرف جنون کی کمائی ہے۔ روح بغیر کھانے کے صرف کھانے کے خواب دیکھنے سے اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔
ایک بہت بڑا ہجوم ہے جو دلوں پہ مہر اور دماغوں میں قلف لگائے ہوئے ہیں۔ اور چل رہے ہیں۔ اور اتنا لمبا سفر طے کیا ہے کہ تاریخ کے اوراق بھی دھنگ رہ جائے۔ لیکن جب حال کی صورت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو کچھ ایسا ہے کہ دل خوں کے آنسو رویے، جان اپنا نوحہ پڑیں، خودی تڑپتے ہوئے مر جائے۔ ہر آنکھ سے آنسو نکلے اور اپنی بے بسی کا نغمہ گاتے ہوئے اپنی بے سبی کیئلے ڈھال بن جا ئے۔
المختصر جب کوئی کام فطرت کے خلاف ہو۔ تو وہ دیر تک نہیں ٹھرتا بلکہ  وقت اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ جس فلسفے کے پیچھے من گھڑت داستا ن ہو۔ جو تصور کھوکھلی ہو، جو خواب بے چھین ہو۔ جو زندگی بے قیمت لگیں اور قربانی کا بکرا ہو۔  تو گرچہ یہ بات دل کو لگتی نہیں لیکن جذبوں کو ہلا دیتی ہے۔ کہ دشت جنوں کے روتے ارواح بے یارو مدددگار ہے۔ اور ان کو راستہ نہیں مل رہا ، اگر ملے گا بھی تو وہ دہشت ہے۔ یہ رو رہے ہیں، فریاد کرہے ہیں۔ لہذا  درمیانی راستہ اپنانا چایئے۔ پھر سے دوبارہ احیا کی ضرورت ہے۔ اور صراط مستقیم کی طرف لانے کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں: