Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت شوہر…………. تحریر :شاہ روز خان

Posted on
شیئر کریں:

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
بے شک تمہارے لئے رسول ﷺ کی زندگی قابلِ تقلید نمونہ ہے۔(القرآن) آپ ﷺ کی زندگی ایک مثالی شوہر کی حیثیت سے قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے مثالی اور بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کے نکاح میں 9 بیویاں آئیں۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ کو زندگی کے ان ادواراور مراحل سے گزار دیا جو مراحل قیامت تک امت مسلمہ کو پیش آنے والے تھے،تاکہ ہر مرحلے کا اسوہ اور نمونہ موجود رہے۔آپ ﷺ کی زندگی بحیثیت شوہر اور رفیقِ حیات ،قابل تقلید اور نمونہ ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بھلا آدمی وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لئے بھلا ہو۔ایک بار ایک صحابی جو زہد وعبادت میں مشغول رہتے تھے ،اور اپنی اہلیہ سے غافل رہتے تھے ،آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور فرمایا:’’ تمہاری رفیقہ حیات کا بھی تم پر حق ہے‘‘۔

 

بیوی کے حقوق کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں فرمایا:’’جو خود کھاؤاس کو بھی کھلاؤ،جو خود پہنو اس کو بھی پہناؤ،نہ اسے مارو، نہ اسے برا بھلا کہو‘‘۔اسی قسم کی بیویوں کے حقوق کے سلسلے میں کئی روایات موجود ہیں۔آپ ﷺکی سیرت پر نگاہ ڈالنے سے پہلے ایک مثالی شوہر میں کون سے اوصاف ہونے چاہئے ،ہم ایک نظر ا ن اوصاف پر ڈال لیتے ہیں ۔بیوی سے محبت کرنے والا ہو،اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے ولا ہو،شریعت کو مد نظر رکھ کر اپنی حیثیت کے مطابق بیوی کی جائز خواہشات اور فرمائشوں کو پورا کرنے والا ہو،ایک سے زائد بیویوں میں حقوق کی عادلانہ تقسیم کرنے والا ہو، ان خوبیوں کو مد نظر رکھ کر آ پ ﷺ کی ازدواجی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو شرط اول یعنی ’’ محبت‘‘ کے بارے میں سوچنا ہی ایک سعی لاحاصل ہے۔کیوں کہ آپ ﷺ تو سراپا محبت تھے،آپ ﷺ کی محبت تو باد صرصر کی طرح بحر و بر کے چپے چپے ، کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہے۔جاندار تو کیا بے جان بھی آپ ﷺ سے محبت کرتے تھے۔

 

ایک دفعہ جب آپ ﷺ حضرت عمر ؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عثمانؓ کے ساتھ احد پہاڑ پر تشریف لے گئے تو احد پہاڑ آپ ﷺ کی آمد کی خوشی میں تھرتھرانے لگا۔مسجد نبوی میں جب محراب بن گیا تو کھجور کے تنے سے آپ ﷺ کی جدائی میں سسکیوں اور آہوں کی آوازیں آنے لگیں ۔آپ ﷺ کا پیغام اور مشن محبت تھا ۔اسی محبت کی وجہ سے آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو اپنا گرویدا بنالیا تھا ،جو اپنو ں سے نہیں ،دشمنوں سے بھی محبت کرتے تھے ،ایسی محبت کرنے والی ہستی کا ازواج مطہرات کے ساتھ محبت کا کیا ٹھکانہ ہوگا ۔آپ ﷺ نے عرب جیسے جاہل اور انسانیت سے عاری معاشرے میں جو محبت کر کے دیکھائی اور سکھائی،اس کے لئے حضرت عمرؓ کا قول ہی کافی ہے:’’ ہم لوگ اسلام سے پہلے عورت کو کچھ نہیں سمجھتے تھے،اسلام نے عورت کے لئے احکام نافذ کئے اور ان کے حقوق مقرر کئے‘‘۔

 

آپ ﷺصحابہ کرامؓ کو بار بارمتوجہ فرمایا کرتے تھے۔بشریت کی بنا پر ازواج مطہرات کبھی کبھار آپ ﷺ سے نارضی کا اظہار کرتی تھیں ،یا یہ ایک ’’ناز‘‘کا انداز ہوتا تھا ۔یہ اظہار کس طرح ہوتا تھا یہ بھی سنئے۔آپ ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا :’’ جب تم مجھ سے ناراض ہو تی ہو تو میں سمجھ جاتا ہوں ،حضرت عائشہ نے فرمایا یا رسول اللہ وہ کیسے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کسی بات پر قسم کھاتی ہو تو محمد کے رب کی قسم کھا کر کہتی ہو ،اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو ابراہیم کے رب کی قسم کھا کر کہتی ہو۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا :’ ’ جی ہاں یا رسول اللہ (ناخوشی میں) میں آپ کا نام چھوڑ دیتی ہوں ‘‘۔ آپ ﷺ کی عمر مبارک اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عمر میں بہت زیادہ فرق تھا۔حضرت عائشہؓ کمسن اور بچگانہ ذہن تھیں ،جب کہ آپ ﷺ ذہین اور سنجیدہ مزاج تھے ۔آپ ﷺ پربار نبوت کی بھاری ذمہ داری ، امت کی دن رات فکر تھی،اسی لئے آپ ﷺ بہت کم ہنستے تھے،لیکن اس کے باوجود حضرت عائشہؓ کے ہر ناز وادا اٹھاتے،ان کی دلجوئی کرتے،اور سیرو تفریح میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے تھے۔

 

ایک دفعہ عید کے موقع پر چند حبشی نوجوان مسجد نبوی کے قریب تماشہ دکھا رہے تھے،حضرت عائشہؓ نے بھی تماشہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔آپ ﷺ دروازے میں کھڑے ہوئے اور عائشہ ؓ نے اپنی ٹھوڑی آپ ﷺ کے کاندھے مبارک پر رکھ کر کھیل دیکھا ۔آپ ﷺ اس وقت تک نہیں ہٹے جب تک حضرت عائشہ ؓ خود تھک کر نہیں ہٹیں۔ایک دفعہ آپ ﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کے درمیان دوڑ کا مقابلہ ہوا ،عائشہ ؓ دبلا پتلا ہونے کی وجہ سے آگے نکل گئیں،کچھ عرصہ بعد دوبارہ مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ جیت گئے ،اور عائشہ ؓ پیچھے رہ گئیں ،آپ ﷺ نے پہلے والا مقابلہ یاد دلایا، کہ اس کا بدلہ ہے۔ایک سفر میں ازواج مطہرات بھی ساتھ تھیں ،ساربانوں نے اونٹوں کو دوڑانا شروع کیا ، جب آپ ﷺ کو خواتین کا خیال آیا تو فرمایا :’’ دیکھ کر ! آب گینیں (عورتیں ) بھی ساتھ ہیں ۔آپ ﷺ گھر کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرتے۔گھر میں جھاڑو لگاتے ،اپنے پھٹے ہوئے پکڑے خود سیتے،بکری کا دودھ دوہتے،آٹا گوندتے، غرض ہر کام میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹا کر ان کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی ٖفرمایا کرتے تھے۔بے شک آپ ﷺ ایک مثالی شوہر تھے۔
گر سنت نبوی کی پیروی کرے امت….
طوفانوں سے نکل جائے گا پھر اس کا سفینہ۔


شیئر کریں: