Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

طلباء کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے۔..۔ترجمان پشاور یونیورسٹی

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) پشاور یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پشاور یونیورسٹی نے طلباء کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس کے حصول کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ادارے کیلئے طلباء اہم سٹیک ہولڈرز ہیں اور ان کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے اور اس کے مطابق صحیح سمت میں اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلباء نے14مطالبات پیش کئے تھے جن میں ٹیوشن فیس میں دس فیصد اصافہ،ہاسٹل،ٹرانسپورٹ کی سہولتوں میں اضافہ،ڈراپ آؤٹ ہونے والے طلباء کے مسائل اور ریسرچ فنڈ کیلئے درخواست شامل ہیں۔ترجمان نے مسائل کے حل کے بارے میں کہا کہ ڈے سکالر طلباء کوٹرانسپورٹ کی سہولت فوری طور پر فراہم کر دی جائے گی اور وائس چانسلر نے ٹرانسپورٹ آفیسر کو ہدایت کی ہے کہ ان کیلئے دو بسیں مختص کی جائیں۔ سکالرز کے لئے ریسرچ گرانٹ مختص کرنے کا معاملہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ سختی سے اٹھایا جائے گا۔ ڈراپ آؤٹ طلباء کے معاملے پر ایک کمیٹی غور کرے گی اور اس پر رولز کے مطابق ہمدردانہ فیصلہ کیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی کے سنڈیکٹ کی ہدایات پر اعلان کردہ فیس میں 10فیصد اضافہ کے مطالبے کا معاملہ 7دسمبر2017کوسنڈیکٹ کے ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائیگا اور متعلقہ اتھارٹی کو خصوصی درخواست کی جائے گی کہ اس معاملے کا ہمدردانہ طور پر فیصلہ کرے۔انہوں نے کہا کہ جو محکمہ بھی10فیصد سے زیادہ فیس وصول کر رہا ہے اس کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ سٹوڈنٹس انڈومنٹ فنڈ اور سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے اعلان جیسے مطالبات خوش اسلوبی سے حل کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔رجسٹریشن آف ماسٹرز اور(بی ایس ہانرز) ایجوکیشن یعنی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بی اے اور ماسٹر ڈگری پروگرام کے خاتمے کے بارے میں فیصلے کا معاملہ یونیورسٹی آف پشاور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ اٹھائے گا۔ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ہاسٹلوں میں تزئین و آرائش کا کام کنٹریکٹ معاہدہ کے مطابق یقینی بنائے گی اور جب تک سول کام مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہوتو متعلقہ کنٹریکٹر کو کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی کو طلباء اور کیمپس کمیونٹی کیلئے محفوظ مقام بناناہماری اہم ترجیح ہے اور کیمپس کی سیکیورٹی ہر حال میں برقرار رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں آؤٹ سائیڈروں کا قیام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں زیر و ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔


شیئر کریں: