Chitral Times

Mar 5, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد ……….. عدلیہ کا تقّدُس ………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

Posted on
شیئر کریں:

سپریم کورٹ آ ف پاکستان کے چیف جسٹس نے ا ز خود کاروائی کرتے ہوئے فیض اباد پل اور اطراف کی سڑکوں کو بند کر کے دھرنا دینے والے گروہ کے خلاف کا روائی کا حکم دیا توعدالت کا تقدس بحال ہوا جو ایک عرصہ سے بحالی کا منتظرتھا 1970 ؁ء میں پشاور کے اندر سرفراز خان گریڈ 17کا مجسٹریٹ درجہ اول تھا اُس کے حکم سے پور ا شہر لرز اُٹھتا تھا ایک سر فراز خا ن مجسٹریٹ کی جو دھاک بیٹھی ہوئی تھی وہ قابل قدر تھی مجسریسٹی کی عزت کا ثبوت یہ تھا کہ سر فراز خان کی موجودگی میں قانون کی خلاف ورزی کے بارے میں خان ،سرمایہ دار،وزیر اور گورنر بھی نہیں سوچ سکتا تھا آج وہ صورت حال کیوں نہیں ہے ؟95 سال کی عمر کے بزرگ شہری حاجی عبداللہ خان کہتے ہیں کہ یہ کوئی راز نہیں سر فراز خا ن مجسٹریٹ غیر سیاسی افسر تھا 100 روپے جرمانے کے خلاف سفارش آتی تو 10 گنا بڑھا کر ہزار روپے جرمانہ وصول کرواتا تھا ایک ماہ قید کے خلاف سفارش آتی تو دو سال قید کا حکم دیتا اس لئے اُس کا رعب داب تھا و ہ کہتا تھا قانون بے لحاظ ہو تا ہے لوگ بے چہرہ ہوتے ہیں نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے اگر فاطمہ بنت محمد کے خلاف بھی جرم ثابت ہو جائے تو میں حد جاری کر ونگا حضر ت عمر فاروقؓ نے اپنے بیٹے کے خلاف حد جاری کر دی ،حضر ت علی کرم اللہ وجہہ نے عدالت میں آکر پیش کش کی کہ مدعی کو مجھ سے انتقام لینے کا حکم دیا جائے اس پر مدعی روپڑا انتقام کی نوبت نہیں آئی عدلیہ کا تقدس کیسے پامال ہوا ؟اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ امیر غریب میں فرق کیا جاتا ہے قاتل اگر دولت مند ہے تو وہ باعزت بری ہو جاتا ہے مقدمہ آتے ہی لوگ کہتے ہیں کہ ملزم امیر آدمی ہے ،عدالت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی انجام بھی ایسا ہی ہوتا ہے امیر آدمی وکیل کو دو کروڑ روپے فیس دے دیتا ہے سرکاری وکیل کی تنخواہ مقر ر ہے جو ماہانہ ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے اس میں 10 مقدمات کی پیروی کر تا ہے مقتول کے ورثاء چارلاکھ روپے کا وکیل بھی نہیں کر سکتے اس لئے قاتل باعزت بری ہو جاتا ہے سسٹم اس کی مدد کرتا ہے امریکہ کے ایک مشہور صدر ابراہام لنکن گزرے ہیں غریب ماں باپ کے گھر پیدا ہوئے، مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی وکالت کا پیشہ اختیار کیا ایک مقدمے کی وکالت کرنے سے اس نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اس کے حق میں دلائل دیتے ہوئے میں اپنے آپ کو پستی میں گرا ہوا محسوس کر ونگا اُس نے مقدمہ لانے والے کے کندھے پر ہاتھ رکھ چند جملے کہے جو تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اُس نے کہا ’’ یہ با ت نہیں کہ مجھے پیسے کی ضرورت نہیں ہے یہ بات بھی نہیں کہ میں حیلے بہانے تراش کر تمہا را مقدمہ نہیں جیت سکوں گا بات صرف یہ ہے کہ تمہارے حق میں بھاری دلائل دیتے ہوئے میں خود کو ہلکا محسوس کر ونگا اور ساری عمر شر مسار رہونگا ‘‘اس لئے کہتے ہیں کہ بینچ اور بار (Bench & Bar) عدالتی نظا م کے دو پہئے ہیں عدلیہ پر آنچ آنے کی دوسری وجہ سیاسی مقدمات کی بھر مار ہے اس بناء پر ستمبر 2007ء میں یہ تجویز آئی تھی کہ سیاسی مقدمات کو آئینی مقدمات کا نام دے کر ان کی سماعت کے لئے الگ عدالت قائم کی جائے جو صرف سیاسی مقدمات کی سماعت کرے اس تجویز کا ایک فائدہ یہ تھا کہ عام مقدمات کی سماعت کے لئے ججوں کے پاس وقت بچ جاتا جو فیصلے 30سالو ں میں ہوتے ہیں وہ کم از کم 10سالوں میں ہو جاتے کینیڈا کے شہری گل جی نے اس کو دہرا معیار قرار دیا ہے ایک شہری کا مقدمہ 18 سالوں سے التوا ء میں ہیں اس طرح دہرے معیار کے بے شمار نمونے سامنے آجاتے ہیں عدالتوں پر بھی تبصرے ہونے لگتے ہیں جو اُن کے تقدس کے منافی ہے جن شہریوں نے 1970 ؁ ء میں پشاور شہر کے سر فراز خان مجسٹریٹ کا انصاف دیکھا ہے وہ موجودہ حالات میں عدلیہ سے ایسے ہی انصاف کی توقع رکھتے ہیں بقول سر فراز خان مجسٹریٹ ’’قانون بے لحاظ ہوتا ہے لوگ بے چہرہ ہوتے ہیں ‘‘دہرے معیار کو ختم کرنے کا یہی ایک نسخہ اور فارمولا ہے ۔


شیئر کریں: