Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فرنٹ لائن فورس …………. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا پولیس کا ایک اور اعلیٰ افسر اپنے فرض پر قربان ہوگیا۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ہیڈ کوارٹر محمد اشرف نور باغ ناراں حیات آباد کے قریب خود کش حملے میں شہید ہوگئے۔ موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور سڑک کے کنارے پر گھات میں موجود تھا۔ جونہی موڑ پر پہنچ کر اے آئی جی کی گاڑی کی رفتار کم ہوئی۔ حملہ آور نے گاڑی کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اشرف نور شہادت پانے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ڈی آئی جی رینک کے چوتھے افسر ہیں اس سے قبل ڈی آئی جی صفوت غیور کو 2010میں پشاور صدر کے مصروف ترین علاقے ڈینز چوک کے قریب دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈی آئی جی عابد علی اور ملک سعد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ ان کے علاوہ چھ ایس پیز اور انیس ڈی ایس پیزبھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کی لہر میں اب تک خیبر پختونخوا پولیس کے ایک ہزار 268افسران اور اہلکار شہادت کا مرتبہ پاچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ رواں سال کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں اشرف نور سمیت36افسران اور اہلکارشہید ہوچکے ہیں۔ہر واقعے کے بعد حکومت اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا بیان آتا ہے کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں گذشتہ پندرہ سولہ سالوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ سانحہ حیات آباد طویل وقفے کے بعد پشاور میں دہشت گردی کا بڑا واقع ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے اور ان کا قلع قمع کرنے والی باتیں خود فریبی ہیں۔ دہشت گرد آج بھی ہمارے آس پاس موجود ہیں اوراپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے جہاں چاہتے ہیں کاروائی کرتے ہیں۔ اے آئی جی اشرف نورکو نشانہ بنانے سے پہلے خود کش حملہ آور نے علاقے میں ریکی بھی کی ہوگی جس کی پولیس والے بھی تصدیق کرتے ہیں۔ حیات آباد جیسے حساس علاقے میں گریڈ اکیس کے ایک افسر کو اتنی آسانی سے نشانہ بنائے جانا ارباب اختیار کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس واقعے کو ناقص سیکورٹی کا نتیجہ قرار دینا بھی مبالغہ نہ ہوگا۔ پولیس عوام کی جان و مال اور عز ت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اگر پولیس ہی کے اے آئی جی رینک کا افسر بھی شہر میں محفوظ نہ ہو۔ تو عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونا فطری امر ہے۔ حکام کی رائے ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کی وجہ سے شدت پسند شہروں کی طرف رخ کرچکے ہیں کیونکہ دیہی قبائلی علاقوں کی نسبت شہروں میں چھپنا اور واردات کرنا آسان ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شدت پسندوں کا کوئی گروپ پشاور، مردان، ڈیرہ، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی یا دوسرے شہروں کا رخ کرتا ہے تو خفیہ ایجنسیوں کو اس کی خبر کیوں نہیں ہوتی۔عام طور پر شدت پسند کسی کو نشانہ بنانے سے پہلے وارننگ دیتے ہیں۔بہت کم واقعات میں بغیر وارننگ دیئے کاروائی کی جاتی ہے۔ اے آئی جی اشرف نور کو ہی آخر کیوں خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ کیا انہیں کوئی دھمکی آمیز خط، فون یا پیغام ملا تھا۔اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات اور حقائق کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔ پشاور میں آتش و آہن کی بارش کافی عرصے سے جاری تھی۔ حالیہ چند سالوں میں بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا اور ترقی کا پہیہ حرکت کرنے لگا تھا کہ دہشت گرد کا یہ المناک واقعہ رونما ہوا۔جبکہ عام انتخابات بھی سر پر ہیں۔ ابھی صوبہ بھر میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہونا ہے۔ انتخابی، سیاسی، تعمیراتی، تعلیمی اور معاشرتی سرگرمیوں کا تعلق امن و آشتی سے ہے۔ اور امن برقرار رکھنا حکومت کی سب سے پہلی اور اہم ترین ذمہ داری ہے۔ جس پر سمجھوتہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ صوبے میں اس وقت امن کی بحالی کس قدر ضروری ہے۔


شیئر کریں: