Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا حکومت کا انقلابی قدم ………..محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے 1960کے موٹر وہیکل آرڈیننس پر عمل درآمد کا آغاز کرتے ہوئے اپنے منشور کے تحت تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔حکومت نے صوبے کے سات ڈویژنوں میں کلیم ٹریبونلز قائم کئے ہیں جو ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائیں گے۔ اگر ٹریفک حادثہ گاڑی کی خرابی یا ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی سے رونما ہونا ثابت ہوجائے۔ تو گاڑی کے مالک سے معاوضہ وصول کرکے حادثے کے متاثرین کو دیا جائے گا۔یہ قانون47سالوں سے موجود تھا مگر کسی حکومت نے اس پر عمل درآمد کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ تین ماہ قبل ایک مسیحی شہری صدیق کی اہلیہ یاسمین بی بی پشاور سے لاہور جاتے ہوئے بس کے حادثے میں زخمی ہوگئی۔ متاثرہ خاتون نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹر اتھارٹی کو درخواست دی کہ ٹریفک حادثے میں اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔ وہ اپنا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ اس کا علاج یا مالی مدد کی جائے۔ متاثرہ خاتون کو امداد کی فراہمی کے لئے مروجہ قوانین کی پڑتال کی گئی تو موٹر وہیکل آرڈیننس سامنے آگیا۔ جس میں درج تھا کہ ٹریفک حادثہ اگر ڈرائیور کی کوتاہی یا گاڑی کی خرابی کے باعث رونما ہوا ۔ تو گاڑی کا مالک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو سولہ ہزار اور زخمیوں کو چھ سے آٹھ ہزار روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔یاسمین کی فریاد جب ارباب اختیار تک پہنچی تو صوبائی حکومت نے موٹر وہیکل آرڈیننس کو عوامی مفاد میں فوری نافذ کرنے اور اس کے لئے ٹریبونلز قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو کلیم ٹریبونل کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔ یہ طے پایا کہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین ٹریبونل کو معاوضے کے لئے درخواست دے سکیں گے۔ٹریبونل حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے بعد گاڑی کے مالک یا ڈرائیور کی غلطی ثابت ہونے پر مالک سے معاوضے کی رقم وصول کرکے متاثرین کو ادا کرے گا۔ یاسمین بی بی کو بھی کلیم ٹریبونل کے ذریعے ستر ہزار روپے ادا کردیئے گئے۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے 1960میں وضع کی گئی معاوضے کی شرح کا از سرنو تعین کیا ہے اور سمری حکومت کو بھجوادی ہے۔ جس کی منظوری کے بعد حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کے طور پر تین لاکھ روپے اور زخمیوں کو ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ہمارے صوبے کے ننانوے فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ٹریفک حادثے کی صورت میں متاثرین کی مدد اور داد رسی کا کوئی قانون بھی موجود ہے ۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق حادثے کے نوے دنوں کے اندر متاثرین معاوضے کے لئے کلیم ٹریبونل سے رجوع کرسکتے ہیں۔تاہم کوئی زخمی زیادہ عرصہ تشویش ناک حالت میں رہا ہو۔ یا کسی ناگزیر وجہ کی بناء پر نوے دن کے اندر کلیم ٹریبونل سے رجوع نہ کرسکا ہو۔ تو وہ مقررہ مدت کے بعد بھی معاوضے کے لئے درخواست جمع کروا سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ٹریفک حادثات میں 30ہزار سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ایک غیر سرکاری ادارے کی جائزہ رپورٹ کے مطابق 2010کے بعد اگرچہ پاکستان میں رسل و رسائل کا نظام کافی حد تک بہتر ہوچکا ہے۔ تاہم گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ٹریفک حادثات کی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی کا 2اعشاریہ 69فیصد حصہ ہرسال ٹریفک حادثات کا شکار ہوتا ہے ۔جو دہشت گردی کے واقعات یا کسی بھی بیماری کے باعث ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔ٹریفک حادثات کی وجوہات میں غیر معیار ی اور غیرہموار سڑکیں،ٹریفک کا خراب نظام، تیز رفتاری، گاڑی میں فنی خرابی ، ڈرائیور کی ٹریفک قوانین سے ناواقفیت، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ یا غنودگی طاری ہونا بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم ستر فیصد حادثات کا سبب گاڑی یا ڈرائیور ہوتا ہے۔ چند ٹکوں کی خاطر خراب گاڑی میں مسافروں کو ٹھونس کر سڑکوں پر فراٹے بھرنے کا نتیجہ کوئی المناک حادثہ ہی ہوسکتا ہے۔ ایسے حادثات کے مرتکب افراد سے معاوضے کی وصولی کے علاوہ ان کے لئے سخت سزائیں مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریفک حادثات اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی شرح کم سے کم کی جاسکے۔ بھولے بسرے موٹر وہیکل آرڈیننس کو دوبارہ زندہ کرکے خیبر پختونخوا حکومت نے عوام کا ایک سنگین مسئلہ حل کیا ہے ۔ جس کی پذیرائی ضرور ہونی چاہئے۔


شیئر کریں: