Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل………… محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے الیکشن ایکٹ 2017کے آرٹیکل 203میں ترمیم کا بل مسترد کردیا۔ نااہل قرار دیئے گئے شخص کو سیاسی جماعت کی قیادت کے لئے بھی نااہل قرار دینے سے متعلق بل پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ سینٹ اس ترمیمی بل کی پہلے ہی منظوری دے چکی تھی۔ تاہم قومی اسمبلی میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بل کی مخالفت کی۔ یوں نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کے حق میں 163اور مخالفت میں 98ووٹ پڑے۔آئین میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ عدالت سے نااہل ہونے والا کوئی شخص قومی، صوبائی اسمبلی اور سینٹ کا ممبر بن سکتا ہے نہ ہی کسی عوامی عہدے پر فائز ہوسکتا ہے۔ نہ ہی سزایافتہ شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ یا عہدیدار بن سکتا ہے۔بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کی صورت میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف مسلم لیگ ن کی قیادت سے فارع ہوسکتے تھے۔ جنہیں ان کی پارٹی نے حال ہی میں پارٹی کی قیادت کرنے کے لئے اعتماد کا ووٹ دیا تھا۔ بل کی محرک جماعت پیپلز پارٹی کو بھی معلوم تھا کہ قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کی صورت میں سابق صدر آصف زرداری بھی پارٹی کی سربراہی کے اہل نہیں رہیں گے کیونکہ ان کے خلاف بھی کچھ مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور کچھ مقدمات ابھی تیاری کے مرحلے میں ہیں۔تاہم بل کی منظوری کا فائدہ آگے چل کر جمہوری نظام کو پہنچ سکتا تھا۔مگر ہمارے سیاست دانوں کا مطمح نظر فوری طور پر ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے۔ قوموں کی برادری میں ملک کی جگ ہنسائی ہو۔ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔کسی نااہل شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے سے متعلق بل کی منظوری شاید جمہوریت کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے ۔جس کا مقصد فرد واحد کو فائدہ پہنچانا اور اسے کسی ممکنہ سزا سے بچانا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جمہوریت، پارلیمنٹ، آئین اور قانونی کی بالادستی قائم کرنے کے دعوے داروں نے ہمیشہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے آئین کو مسخ کیا۔ پارلیمنٹ کو بدنام کیا اور قانون کی بالادستی کا ستیاناس کردیا۔جس کی وجہ سے بار بار ملک میں انارکی جیسی صورت حال پیدا ہوتی رہی۔ قوم بحرانوں کے دہانے پہنچتی رہی اور ملک کو بچانے کے لئے غیر سیاسی قوتوں کو مداخلت کرنی پڑی۔ ایک کہاوت ہے کہ کتا ہڈی کو نہ خود چبا سکتا ہے نہ دوسروں کو ہڈی ملنے کا روادار ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر قیمت پر کرسی سے چمٹے رہیں۔ ہڈی اگر انہیں نہیں ملتی تو ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہ ملے۔ بیشک بھیڑیئے آکر اٹھالے جائیں۔اس ملک کا مستقبل صرف اور صرف جمہوریت سے وابستہ ہے۔ لنگڑی لولی جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ آمریت کا راستہ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جمہوریت کو مضبوط کیا جائے۔ اور اس کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑیں۔ تو اس سے دریغ نہ کیا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان نے جمہوریت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج ہمیں جو جمہوریت نما نظام نظر آتا ہے وہ بھٹو خاندان کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن صرف ایک پارٹی کو قربانی کا بکرا بنانے سے جمہوریت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ تمام سیاسی قوتوں کو جمہوریت کے استحکام کے لئے اپنے حصے کی قربانی دینی ہوتی ہے۔ جس کے لئے سب سے پہلے سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت لانی پڑتی ہے اس کے بعد سیاست دانوں کو اپنا رویہ جمہوری بنانا پڑتا ہے۔ صرف جمہوریت کی راگ الاپنے سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کروقتی طور پر سیاسی مفادات تو حاصل نہیں کئے جاسکتے ہیں۔جمہوری نظام کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی 70سالہ سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 35سال تک یہاں آمریت مسلط رہی ہے۔جس کی وجہ سے ملک اور قوم کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ہمارے سیاست دانوں خصوصا اہل اقتدارکواپنی کوتاہیوں کی وجہ سے جب اپنے مفادات خطرے میں نظر آتے ہیں تو اسے غیر جمہوری قوتوں کی سازش اور غیر ملکی ہاتھ کی کارستانی قراردے کر ریت میں منہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جمہوری اور سیاسی نظام سے عوام کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔ عام انتخابات میں تیس سے چالیس فیصد ٹرن آوٹ سیاست دانوں پر عوام کے عدم اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ سیاسی قوتوں کے لئے شاعر مشرق کا یہ قول کھلا پیغام ہے کہ ۔
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے


شیئر کریں: