Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد ….. دارالحکومت کا تحفظ ……….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

شاہ لطیف یونیورسٹی خیر پور میں سیمینار کے لئے جاتے ہوئے چترال اور گلگت بلتستان کے ادیبوں ، شاعروں کا قافلہ درالحکومت اترا محمد حسن حسرت کو اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنا تھا۔ وہ نہ مل سکا ۔ ایک ہفتہ بعد واپسی پر وہی صورت حال تھی۔ آدھا گھنٹے کا راستہ 4گھنٹوں میں طے کر کے اپنوں کی خیریت دریافت کی۔ جو گھروں کے اندر 2ہفتوں سے محبوس تھے۔ اور وفاقی دارالحکومت میں یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ سیاسی مخالف جلوس نکالے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ جولائی2007میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد والوں نے حکومت کو چیلنج کیا ۔ انتظامیہ بے بس ہوگئی۔ فوج طلب کر لی گئی۔ اسلام آباد کے شہریوں نے لال مسجد کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کیا۔ آپریشن ہوا تو انہی لوگوں نے لال مسجد والوں کے خلاف آپریشن کی مذمت کی۔ اب تک مذمت کی جارہی ہے۔ شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری نے کینڈا سے آکر دو بار اسلام آباد پر بڑے بڑے حملے کئے۔ اب کی بار علامہ خادم حسین رضوی نے وفاقی دارالحکومت پر حملہ کیا تھا ۔ دو ہفتوں تک اسلام آباد کے لوگ حالتِ جنگ میں رہے۔ محرم الحرام کے دوران مذہب کے نام پر سیکورٹی کے مسائل ہمارے روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں ۔ ربیع الاول کے مہینے میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ واٰلہِ وسلّم کے پاک نام پر سیکورٹی کا نازک مسئلہ ہر سال کھڑا کیا جاتا ہے ۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے نہیں، ہندوؤں اور سکھوں یا احمدیوں کی طرف سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے راسخ العقیدہ فرقوں کی طرف سے یہ جنگیں ایک دوسرے کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی جنگیں، بنگلہ دیش اور بھارت میں نہیں ہوتیں، سعودی عرب اور ایران میں نہیں ہوتیں ،شام ، عراق اور افغانستان میں نہیں ہوتیں، صرف پاکستان میں ہوتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بدقسمت ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس کا نام اسلامی جمہوریہ ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی ملک سے دو چار ارب کا چندہ جمع کرلے تو وہ اسلام آباد پر حملہ کرتا ہے۔ 40یا 50کروڑ روپے خرچ کرتا ہے ۔ باقی اللہ پاک کا دیا ہوا مال سمجھ کر گھر لے جاتاہے ۔ ڈھاکہ، نئی دہلی اور کابل پر حملے کے لئے اس طرح کی فنڈنگ کوئی نہیں کرتا۔ دو دنوں سے اخبارات میں وہی خبریں آرہی ہیں۔ جو 7جولائی2007کو لال مسجد والے ہنگامے کے دن اخبارات کی زینت بن گئی تھیں۔ اسلام آباد سے ڈھائی سو کلو میٹر دور سوات میں جلسہ ہوا۔ جلسہ کے شرکاء نے اسلام آباد پر حملہ کرنے والوں کے حق میں نعرے لگائے۔ تقریریں کیں اور حکومت کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جولائی 2007میں ایسا ہی ہوا تھا۔ لال مسجد میں ہنگامہ آرائی جاری تھی سوات میں مولانافضل اللہ نے جلسہ کر کے حکومت کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں۔ چنانچہ 2009میں حکومت کو سوات اور دیر میں فوجی آپریشن کے ذریعے بغاوت پر قابو پانے کی ضرورت پیش آئی۔ پھر ایسا ہوا کہ عین آپریشن کے دوران اپنی 1200گاڑیوں اور8000 ساتھیوں کے ہمراہ مولانا فضل اللہ نے سوات سے دیر اور دیر سے باجوڑ کا راستہ عبور کر کے افغانستان میں پناہ لے لی۔ وہاں ان کا ہیڈ کورٹر اب تک قائم ہے۔ اس طرح کراچی اور لاہور میں بھی حملہ آوروں کے حق میں دھرنا دیا گیا ہے ۔ انگریزی میں ایسے کاموں کو”سیکورٹی لیپس”کہا جاتا ہے۔ ارد و میں اس کو “انتظامیہ کی ناکامی”کا نام دیا جانا چائیے۔ انتظامیہ قربانی کا بکرا ہے۔ بے نظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں ملزموں اور مجرموں کو چھوڑ کر ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو سزا سنائی گئی۔ غالب نے کہا تھا “ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی”یہاں سارے شہر نے دستانے پہنے ہوئے ہیں۔ بہرے کو آواز دی جارہی ہے، لنگڑے کو دوڑایا جارہا ہے اور اندھے کے ہاتھ میں چراغ ہے۔ جب کہ گونگے کو گواہی کے لئے بلایا جارہا ہے ۔”کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”یہ ایک دن کا یا ایک سال کا واقعہ نہیں ۔ اسلام آباد پر حملہ کرنے والوں نے اس سال تین خطرناک کام کئے۔ پہلا کام یہ ہوا کہ بڑا پیمانے پر توہین رسالت کا جرم ان سے سرزدہوا۔ عتیق شاہ فیض آباد کا بزرگ شہری ہے اس نے اکیلے ہزاروں اوراق سڑکوں، گلیوں اور نالیوں سے چن کر جمع کئے ۔ جن پر لبیک یا رسول اللہ کے مقدس اور مبارک کلمے درج ہیں ان میں کپڑوں پر تحریریں بھی ہیں۔ انکی بے حرمتی جان بوجھ کر کی جارہی ہے۔ دوسرا خطرناک کام یہ ہے کہ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مبار ک نام پر ہجوم اکھٹا کر کے سٹیج سے طاقت ور لاؤڈ سپیکروں پر ننگی گالیاں نشر کی جارہی تھیں ۔ ایسی گالیاں جنہیں گنہگار سے گنہگار شہری بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ اپنی زبان پر نہیں لایا جاسکتا۔ تیسرا خطرناک کا م یہ ہوا کہ حملہ آور اسلحہ لے کر آئے۔ ایک بڑا خطرہ آگے آنے والا ہے۔ اگر وطن عزیز میں سعودی عرب ، چین اور بھارت کی طرح سخت قوانین نافذ نہیں کئے گئے تو کل کسی اور کو دشمن کی طرف سے چندہ مل جائے گا۔ کوئی اور بھی اٹھ کر وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرے گا۔ وفاقی دارالحکومت کا تحفظ پاکستان کے تحفظ کا ٹیسٹ کیس ہے، اسلام آباد پر اس طرح حملوں کا پورا کھیل باہر سے کنٹرول ہورہا ہے۔ یہ کام ہمارا دشمن کر رہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو پکڑا جائے اور وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرنے والوں کا راستہ آئندہ کے لئے بند کیاجائے۔


شیئر کریں: