Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حرام و حلال کی بحث ………… محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

ملائشیا کے وزیر مذہبی امور اور نائب وزیراعظم اشرف واجد نے بڑے پتے کی بات کہہ دی۔ کوالالمپور میں اسلامی مالیاتی اور خیراتی اداروں کے حوالے سے سمینار سے خطاب میں اشرف واجد دوسوکی کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان ہونے کے ناطے کھانے پینے کی چیزوں میں حلال اور حرام کی بہت فکر کرتے ہیں۔اشیائے خوردونوش کے ڈبوں کا بغور جائزہ لیتے ہیں کہ اس خوراک کے مرکبات کیا ہیں اور کس ملک کی کمپنی نے یہ تیار کی ہیں۔ لیکن ہم نے اس بات کی کبھی پروا نہیں کی کہ حلال چیزیں خریدتے وقت ہم جو قیمت ادا کرتے ہیں کیا وہ بھی حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہے؟ اگر ہمارے وسائل حلال اور اسلامی و قانونی طریقے سے حاصل نہیں کئے گئے۔ تو حرام کی کمائی سے حلال چیز خریدنے کا کیا فائدہ ہے۔؟ حلال کے پیسوں سے حرام چیز خرید کر کھانا اور حرام کے پیسوں سے حلال چیز خریدنا ایک ہی بات ہے۔اشرف واجد کی اس سادہ سی بات پر نہ صرف ہمارے علمائے کرام، مذہبی رہنماوں، واعظین، خطیبوں، ذاکرین اور مولوی حضرات کو غور کرنا چاہئے اور اس بات کو آگے بڑھانا چاہئے بلکہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم میں سے ایک شخص کو سوچنا چاہئے کہ ہم جو کچھ کماکر گھر لاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو تعلیم اور دیگر سہولیات دیتے ہیں۔ خود کھاتے اور پیتے ہیں۔ وہ کس حد تک حلال ہے۔ اگر ہماری کمائی حرام کی ہے تو روٹی، مچھلی، مرغی کھانا اور گدھے یا کتے کا گوشت کھانا برابر ہے۔اگر ہمارا بنگلہ، گاڑی، تجارت، کھانا پینا، اوڑھنا بچھونا اور بدن پر کپڑے حرام کی کمائی کے ہیں تو ہماری دعائیں، عبادتیں اور گریہ و زاریاں بھی لامحالہ بے اثر ہوتی ہیں۔کیونکہ ہم دنیا والوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن اس رب کائنات کو دھوکہ نہیں دے سکتے جو ہر چیز پر قادر ہے۔آج پوری دنیا میں مسلمان مغلوب، مقہور، مظلوم اور ستم رسیدہ ہیں۔ گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا بھی کرتے ہیں مگر کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حرام و حلال کی تمیز ختم کردی ہے۔صدر، وزیراعظم سے لے کر مزدور، کلرک اور چپڑاسی تک سب کو جائز اور ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے کی فکر ہے۔ دولت ہی معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ہم نے دولت کے لالچ میں اپنے ضمیر کو تھپکی دے کر سلادیا ہے۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے اور چند لمحوں کے لئے یہ سوچنے کی ہمیں فرصت نہیں ملتی کہ ہم نے آج کتنی ایمانداری، دیانت داری، فرض شناسی اور خداترسی سے کام کیا ہے۔ ہم نے کام چوری کو چالاکی اور ہوشیاری کا نام دے رکھا ہے۔ پھل اورسبزی بیچنے والے اپنا مال فروخت کرتے ہوئے گلی سڑی چیزیں بھی چھپاکر تول دیتے ہیں۔ خریدنے والے کو گھر جانے کے بعد علم ہوتا ہے کہ اس نے پوری قیمت دے کر آدھی گلی سڑی چیزیں خریدی ہیں۔ مصالحے میں لکڑی کا برادہ اور پسی ہوئی اینٹیں، چائے کی پتی میں خشک خون اور چنے کے چھلکے ملانے والوں کو معلوم ہے کہ وہ غیر اسلامی ، غیر قانونی اور حرام کام کررہے ہیں۔ لیکن وہ دولت کے انبار لگانے کے شوق میں اندھے ہوچکے ہیں۔ اصلی چیز خریدار کو دکھا کر نقلی چیز پوری قیمت وصول کرکے بیچنے والے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے خدا اور اس کی مخلوق کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے وہ شرمندگی محسوس کرنے کے بجائے اپنی اس چالاکی پر فخر کرتا ہے۔ جو ضمیر مردہ ہونے کی نشانی ہے۔ دودھ میں پانی اور کیمیکل ملاکر بیچنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ اپنے فائدے کے لئے دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔غیر معیاری فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی نقلی ادویات اپنے کمیشن کی خاطر مریضوں کے لئے تجویز کرنے والے ڈاکٹر وں کو بھی معلوم ہے کہ ان کا یہ عمل اللہ اور رسول کے حکم، ملکی قانون اور اخلاقیات کے منافی ہے۔ مگر ذاتی مفاد کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔عوام کی بے لوث خدمت، ان کے دکھوں کا مداوا کرنے اور مسائل کے دلدل سے انہیں نجات دلانے کے وعدے پر عوام سے ووٹ لینے والے جب اقتدار میں آکر مال و دولت جمع کرنے میں پاگل ہوجاتے ہیں تو انہیں احساس نہیں رہتا کہ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کی توہین کی ہے ۔غریبوں کو بھی معلوم ہے کہ کل کا ٹٹ پونجی آج کروڑ پتی کیسے بن گیا۔ لیکن وہ اس لئے خاموش ہیں کہ سارے لوگ ایسے ہی کام کرتے ہیں۔اپنے ضمیر کو جگانے اور حرام و حلال میں تمیز کرنے کے لئے ہمیں بس ایک حدیث مبارک پر غور کرنے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ سرکار دوعالم نے فریایا تھا۔’’ تم میں سے کوئی بھی کامل ایمان دار اس وقت تک نہیں بن سکتا۔ جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند کرے۔ جو وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘


شیئر کریں: