Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرپشن سے توبہ کا حلف ………….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے اپنے ملازمین سے حلف لیا ہے جس کے تحت ملازمین نے بجلی صارفین کے بلوں میں اضافی یونٹ ڈالنے، میٹر میں گڑ بڑ، غلط ریڈنگ اور رشوت لینے سے توبہ کرلی اور آئندہ کسی صارف کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔ چیف ایگزیکٹو پیسکو شبیر احمد جیلانی نے خود ملازمین سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے والوں میں پیسکو پشاور، خیبر اور مردان سرکل کے ایک ہزار سے زیادہ ملازمین شامل تھے۔ ایگزیکٹو انجینئر، ایس ڈی او، سپروائزر اور میٹر ریڈرزنے اب قسم اٹھائی ہے کہ وہ کوئی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر اسلامی کام نہیں کریں گے۔ اسی تقریب کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو پیسکو نے شکوہ کیا کہ بجلی چوروں کو پکڑنے میں خیبر پختونخوا پولیس تعاون نہیں کر رہی۔ سات ہزار بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی تھی ان میں سے صرف بارہ سو چوروں کے خلاف ہی مقدمات درج ہوسکے۔ اب ان کا ارادہ ہے کہ بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاون کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کی جائیں۔چیف ایگزیکٹو نے برملااعتراف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں بجلی چوری کی جاتی ہے۔ اور چوروں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ اور پیسکوقانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کے بغیر بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔ چیف ایگزیکٹو کو یہ بھی معلوم ہے کہ بجلی چوری کے نوے فیصد واقعات میں خود ان کے محکمے کے لوگ ملوث ہیں۔ قبائلی علاقوں اور نواحی دیہات میں کنڈے لگانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور کوہاٹ سمیت تمام شہروں میں لوگوں نے سرعام کنڈے لگا رکھے ہیں۔ اور بعض لوگ تو غیر قانونی کنکشن کے ذریعے کارخانے بھی چلاتے ہیں۔ مگر ان پر ہاتھ ڈالنے کی کسی میں جرات نہیں ہوتی۔ چیف ایگزیکٹوشبیر احمد اور پیسکو کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن شوکت افضل سے زیادہ کس کو فکر ہوسکتی ہے کہ لوگ بجلی چوری کرنے کے علاوہ سینہ زوری بھی کرتے ہیں۔ اور سرکاری ادارے برسوں سے لاکھوں کروڑوں روپے کے بقایاجات ادا نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوٹس جاری کرنے اور بجلی کاٹنے کے باوجود یہ ادارے باز نہیں ٓآرہے ۔تطہیر کا کام گھر سے شروع کرنے کی خاطر پیسکو حکام نے سب سے پہلے اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے حلف لے کر انہیں کرپشن سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ادارے اور قوم کو نقصان پہنچانے والے عناصر اگر حلف اٹھانے کے باوجود بھی کرپشن سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت کاروائی کا جواز بنتا ہے۔ تاکہ باہر کے چوروں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے آستین کے سانپوں کو کچلا جاسکے۔ پیسکو بھی ان اداروں کی فہرست میں شامل ہے جنہیں کرپشن کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سارا ادارہ کرپشن کا اڈہ بن چکاہے۔ میں ذاتی طور پرپیسکو میں ایسے بہت سے لوگوں میں جانتا ہوں جن کی دیانت داری ، خدا ترسی، ایمانداری، فرض شناسی اور خلوص کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ لیکن ایک گندی مچھلی بھی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہیں اور یہاں گندی مچھلیوں کی کوئی کمی نہیں۔اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے حکومت اور اداروں کا اشتراک عمل ضروری ہے۔ آج اگر چیف ایگزیکٹو پیسکو بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کے لئے قانون نافذ کرنے والوں کی مدد مانگ رہے ہیں تو وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود کو ان کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیءں۔ تاکہ صوبے کے اندر کرپشن کے تدارک کے لئے اسے وفاقی حکومت سے مدد لینے کی ضرورت نہ پڑے۔کیونکہ کرپشن کا خاتمہ خیبر پختونخوا حکومت کا انتخابی منشور بھی ہے اور اداروں کو بدعنوانی سے پاک کرنا قومی ضرورت بھی ہے۔ خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے سینکڑوں منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔اس وقت بھی ہمارے پاس صوبے کی ضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے لیکن چوری اور لائن لاسز کی وجہ سے اب بھی صوبے میں دس سے بارہ گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ بجلی چوری پر قابو پانے کی کوششوں کے ساتھ اگرچیف ایگزیکٹو اپنے ملازمین کو مفت بجلی فراہم کرنے کی روایت پر بھی نظر ثانی کریں تو قوم کا بہت بھلا ہوگا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
2060